فیر آف مِسنگ آؤٹ (فومو) کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’’رات کا ایک بج رہا ہے، اور میں ابھی تک فون کے ساتھ لگی ہوں۔ ٹی وی پر خبریں چل رہی ہیں، لیپ ٹاپ پر فلم ڈائون لوڈ ہو رہی ہے، ساتھ ساتھ میں ریڈیو بھی سن رہی ہوں۔ آپ کو لگ رہا ہوگا کہ میں شب بیداری کا شکار ہوں۔ نہیں ایسا نہیں کہ مجھے نیند نہیں آتی، نیند کے جھونکے آتے ہیں لیکن پھر میری آنکھ کھل جاتی ہے اور میں فیس بک سکرول کرنے لگتی ہوں، لیپ ٹاپ پر نظر ڈالتی ہوں کہ کتنی فلم رہ گئی ہے، کیونکہ اس نئی فلم کو تقریباَ میری تمام دوستوں نے دیکھ لیا ہے، مجھے بھی تو اپنی فیس بک وال پر سٹیٹس ڈالنا ہے ناں کہ میں بھی پیچھے نہیں رہی، میں بھی ہالی ووڈ کی رسیا ہوں، فلم ریلیز ہوتے ہی دیکھ لیتی ہوں۔ ہر دس منٹ بعد واٹس ایپ بھی کھولتی ہوں، اس خو ف کے تحت کہ کہیں کوئی پیغام، کوئی اطلاع چھوٹ نہ جائے۔ بار بار فیس بک پر بھی تو جاتی ہوں، نوٹی فکیشن کو ریفریش کرتی ہوں کہیں کسی نے میری پوسٹ کو لائک کیا یا نہیں؟ کسی نے مجھے ٹیگ کیا یا نہیں؟ سچ یہ ہے کہ میں ’’فیر آف مسنگ آؤٹ‘‘(FOMO) کا شکار ہوں، یعنی مجھے یہ خو ف ستاتا ہے کہیں میں پیچھے نہ رہ جائوں۔ کسی خبر سے محروم نہ رہ جائوں، میری غیر موجودگی میں میرے دوست کہیں ایک پر لطف شام نہ گزار لیں، بہتری کا کوئی موقع چھوٹ نہ جائے۔‘‘

اس کیفیت کو کچھ یوں بیان کیا جا تا ہے کہ آپ کو اس لئے پریشانی آن گھیرتی ہے کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ دوسرے لوگ آپ کو شامل کئے بغیر ایک بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ یایوں کہہ لیجئے کہ آپ ان کے سا تھ جب شامل نہیں ہو پاتے تو اداس ہو جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کو یہ قبول کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہو، ارے نہیں مجھے کیا پڑی ہے جو میں دوسروں کی زندگی سے اتنا متاثر ہونے لگوں، تو لیجئے روزمرہ معمولات کے بارے میں پڑھئے کس طرح لاشعوری طور پر ہم اس خوف کا شکار ہوتے ہیں۔

موبائل فون ہمہ وقت ہمارے ہاتھ میں ہو تا ہے، چاہے کچن میں کھا نا بنایا جا رہا ہو، بچوں کو ہوم ورک کروایا جا رہا ہو یا پھر گاڑی چلا رہے ہوں، کیونکہ ہمیں دوسروں کے ساتھ ایک سماجی رابطہ بنا کر رکھنا ہے، فیس بک بار بار کھول کر دیکھتے ہیں، واٹس ایپ میں جھانکتے ہیں، کس لئے؟ اسی لئے نا کہ کوئی پیٖغام، کوئی سٹیٹس اپ ڈیٹ ہمارے دیکھنے سے رہ نہ جائے۔ ہم اپنی زندگی سے محظوظ نہیں ہوتے کیونکہ ہمیں دوسروں کی زندگی میں جھانکنے کی اتنی عادت پڑ چکی ہے کہ ہمیں خود احساس نہیں ہو تا کہ ہم کس جانب چل پڑے ہیں۔ دوستوں کے ہوٹلوں میں کھانے کی تصویریں، ان کی شادیاں، ان کی پارٹیاں ہمارے اعصاب پر سوار ہو کے رہ جاتی ہیں۔

ٹھیک ہے دن کے اختتام پر اپنے سارے کام نبٹا کر، دفتر میں بریک کے دوران، کسی کے انتظار میں بیٹھ کر وقتا فوقتاَ دوستوں کی چاہے فیس پر ہی سہی خبر گیری کرنا کافی ہے لیکن اسے اپنے تمام کاموں پر ترجیح دینا کسی صورت صحتمندانہ عادت نہیں۔ اگر آپ دفتر میں اپنا موبائل سامنے رکھے بغیر، اس خوف کے تحت کام نہیں کر پاتے کہیں کو ئی کال یا میسج چھوٹ نہ جائے۔ نظریں دفتری فائل پر ہوتی ہیں لیکن دماغ میں فیس بک کا ہوم پیج گھو م رہا ہوتا ہے کہ آج فلاں کی شادی تھی، نہ جانے ابھی اس نے تصویریں اپ لوڈ کر دی ہوں گی، دوست کی کال آنی تھی، چھوٹ گئی تو نہ جانے پھر وہ کرے یا نہیں۔ اگر آپ کے خاندان اور دوستوں کو معلوم ہے کہ اس وقت آپ ایک محفوظ جگہ پر موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں اس میں کوئی عار کی بات نہیں کہ آپ موبائل کو کچھ دیر کیلئے خود سے دور رکھیں۔ یقین مانیں یہ فون اور سوشل میڈیا تو ایک آدھ دہائی سے ہماری زندگیوں میں شامل ہوئے ہیں اس سے پہلے بھی لوگ ایک دوسرے سے الفت برتتے تھے اور زندہ بھی رہتے تھے۔ اگر آپ دفتر کے کام کو ادھورا چھوڑ کرفون میں منہمک رہتے ہیں تو یہ آپ کے لئے اور کیر ئیر کے لئے بھی زہر قاتل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ مکمل طور پر خوف کا شکار ہیں کہ کہیں آپ محروم نہ رہ جائیں۔

اس خوف سے کس طرح نکلا جا سکتا ہے؟

اس قسم کا دبائو آپ کی نجی و پیشہ وارانہ زندگی کو بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔ اس سے پیچھا چھڑوانے کیلئے سب سے پہلے تو آپ کو یہ ماننا ہو گا کہ واقعی آپ اس خو ف کے زیر اثر ہیں، اور آپ اس کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔

ہاں ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں بہت سارے عوامل ہماری زندگیوں پر، ہمارے رویوں اور سوچ پر اثر انداز ہو تے ہیں۔ لیکن جب آپ ان عوامل کو جان جائیں تو پھر زندگی قدرے آسان ہو جاتی ہے۔ سوشل میڈیا ہی اس احساس کو جگانے میں سب سے اہم اور بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

جیسے ’’ فومو‘‘پیچھے رہ جانے کا خوف ہے اسی طرح ایک کیفیت ’’جومو‘‘ ہے جوائے آف میسنگ آئوٹ۔ یعنی اگر آپ کسی موقع میں شامل نہیں ہو سکے تو فراغت کے ان لمحوں سے لطف اٹھائیں۔ لوگوں میں اپنی ناک اونچی کرنے کیلئے اگر خود کو تکلیف دے رہے ہیں تو فوراَ اس تکلیف سے باہر نکل آئیں۔ پیٹ کاٹ کر مہنگا فون خریدنے کی بجائے اپنی ذات کو سنوارنے میں وقت صرف کریں۔ اپنی ترجیحات پر ایک نظر ڈالیں کہ آپ کی زندگی میں کیا اہم ہے؟ کیا ایسے خیالات آپ کے مقاصد کے حصول میں کسی طور رکاوٹ بن رہے ہیں؟ مراقبہ کیجئے، اپنی ذات کو سنوارنے کیلئے اقدامات کیجئے، دن بھر میں سے کچھ منٹ اپنے ساتھ گزاریں، گہرے سانسوں کی مشق کیجئے، ضروری نہیں کہ آپ دوسروں کے اپ ڈیٹس دیکھنے کے لئے خود کو ہلکان کرتے رہیں، اس سوچ کو ذہن سے نکال دیں کہ آپ کسی شے سے محروم رہ جائیں گے اور دوسرے میلہ لوٹ لیں گے۔ آپ کی محنت اورکوششیں آپ کو کامیابی کی طرف لے جائیں گی، دوسروں پر رکھی ہوئی نظر کسی طور نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *