دہشت گرد قاتل، مقتول پروفیسر اور اسکارف والی لڑکی
ہم نے تو کوئی پولیس نہیں بلائی۔
مجھے پتہ ہے آپ اس بندوق سے ڈر رہے ہیں۔ لیکن پلیز سر، جھوٹ نہ بولیں۔ اس رات جب آپ نے ان لڑکیوں کو سڑکوں پر گھسیٹا اور گرفتار کروایا، کیا آپ کے ضمیر نے آپ کو سونے دیا؟ یہی میرا سوال ہے۔
جی بالکل، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ ان لڑکیوں کی وجہ سے ہمیں کتنی مشکلات جھیلنی پڑی۔ انہوں نے اسکارف کو ایک علامت بنایا ہوا ہے، اور ان لڑکیوں کو ایک سیاسی مہرے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
آپ اسے سیاسی کھیل کیسے کہہ سکتے ہیں سر؟ جب ان لڑکیوں کو اپنی آبرو اور تعلیم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے تو وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہیں اور خود کشی کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں، اور آپ کو یہ سب ایک سیاسی کھیل لگتا ہے؟
بیٹا، آپ کو کبھی ایسا نہیں لگا کہ اس کھیل کے پیچھے بیرونی طاقتیں ہو سکتی ہیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کس طرح اسکارف کے معاملے کو ایک سیاسی رنگ دیا جارہا ہے تا کہ وہ ترکی کو کمزور اور تقسیم کر سکیں۔
سر، آپ ان لڑکیوں کو دوبارہ کالج میں آنے دیں، اسکارف کا مسئلہ کل ہی ختم ہوجائے گا۔
یہ میرا فیصلہ تھوڑی ہے، یہ حکم انقرہ سے آیا ہے۔ خود میری بیوی بھی اسکارف پہنتی ہے۔
سر دماغ کی دہی نہ بنائیں۔ صرف میرے سوال کا جواب دیں، آپ کا ضمیر ملامت کرتا ہے یا نہیں؟
بیٹا، میں بھی ایک باپ ہوں۔ ان لڑکیوں کے ساتھ جو ہوا مجھے بھی اس کا افسوس ہے۔
دیکھیں سر، میں خود کو قابو میں رکھنے والا انسان ہوں لیکن ایک بار میرا دماغ گھوم گیا، تو یہ سب ختم ہوجائے گا۔ پتہ ہے، جب میں جیل میں تھا، ایک شخص کو صرف اس لیے مار مار کر لہولہان کر دیا کہ اس نے جمائی لیتے ہوئے منہ پر ہاتھ نہیں رکھا تھا۔ اس لیے مجھے اِدھر اُدھر گھمانے کی کوشش نہ کریں۔ میرے سوال کا جواب دیں۔
بیٹا، آپ نے کیا پوچھا تھا؟ یہ بندوق ذرا نیچے کر لیں۔
لادین کہیں کا، میں نے پوچھا تھا، کیا آپ کا ضمیر ملامت نہیں کرتا؟
یقیناً، میرا ضمیر ملامت کرتا ہے۔
پھر کیوں آپ بضد ہیں؟ کیا اس لیے کہ آپ شرف سے عاری ہیں؟
بیٹا، میں ایک استاد ہوں، میں آپ کے والد کی عمر کا ہوں۔ کیا یہ قرآن میں ہے کہ آپ اپنے بڑوں پر یوں بندوق تان لیں؟
آپ قران کا لفظ بھی اپنی زبان پر نہ لائیں۔ سن رہے ہو؟ اور اَدھر اُ دھر دیکھنا بھی بند کرو۔ اگر آپ نے مدد کے لیے کسی کو پکارنے کی کوشش کی تو میں ہچکچاؤں گا نہیں، آپ کو گولی مار دوں گا۔ سمجھ آئی میری بات؟
جی سمجھ گیا ہوں۔
اب میرے سوال کی طرف آئیں۔ اگر اس ملک کی لڑکیاں اسکارف پہننا بند کر دیں تو اس کا فائدہ کیا ہوگا؟ مجھے کوئی ایک فائدہ بتا دیں۔ میں آپ کو گولی مارے بغیر جانے دوں گا۔
میرے بچے، میری اپنی بھی ایک بیٹی ہے۔ وہ اسکارف نہیں پہنتی۔ میں ان کے فیصلے میں مداخلت نہیں کرتا، بالکل ایسے ہی جیسے میں اپنی اہلیہ کے اسکارف پہننے کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں۔
آپ کی بیٹی نے اسکارف نہ پہننے کا فیصلہ کیوں کیا؟ کیا وہ فلم اسٹار بننا چاہتی ہیں؟
پتہ نہیں۔ وہ انقرہ میں پبلک ریلیشنز پڑھتی ہے لیکن جب سے اسکارف کے معاملے پرمجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ میرے ساتھ کھڑی ہے۔ جب بھی میں اداس ہوتا ہوں، جب بھی مجھے کوئی دھمکی ملتی ہے، وہ مجھے انقرہ سے فون کرتی ہے اور کہتی ہے کہ ابو جی اگر مجھے ایسی کلاس روم میں جانا پڑجائے جو اسکارف پہننے والی لڑکیوں سے بھری ہو تو میں بغیر اسکارف کے کلاس روم میں داخل ہونے کی جرات نہیں کر پاؤں گی۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اسکارف پہننے پر مجبور ہو جاؤں گی۔
سفاک انسان، آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ جب آپ نے اسکارف پہننے والی لڑکیوں کو پولیس کے ذریعے گھسیٹا تو آپ کے ذہن میں یہ بات تھی؟ کیا آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ آپ نے ان لڑکیوں کو صرف اس لیے خود کشیوں پر مجبور کیا تاکہ اپنی بیٹی کو خوش کر سکیں؟
ترکی میں لاکھوں خواتین وہی سوچتی ہیں جو میری بیٹی سوچتی ہے۔
جب اس ملک کی نوے فیصد خواتین اسکارف پہنتی ہیں، تو ان چند فلم اسٹارز کی بات کون سنے گا۔ آپ جیسے بے شرم انسان کو اپنے جسم کی نمائش کرنے والی بیٹی پر فخر ہوگا۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ میں کوئی پروفیسر تو نہیں ہوں لیکن ان چیزوں کے بارے میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں۔
ٹھیک ہے بیٹا، بندوق کا رخ تو دوسری طرف کر لیں، غلطی سے یہ بندوق چل گئی تو آپ زندگی بھر افسوس کریں گے۔
مجھے کوئی افسوس نہیں ہوگا؟ اگر میں شدید موسم میں دو دن کے سفر کرنے کے بعد ایک لادین کو ختم نہ کرسکوں تو اس سفر سے فائدہ کیا؟ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے، ہر اس شخص کو قتل کرنا چاہیے جو مسلمان پر ظلم ڈال رہا ہو۔ لیکن کیونکہ مجھے آپ پر ترس آرہا ہے اس لیے میں آپ کا ایک آخری موقع دوں گا۔ مجھے ایک وجہ بتا دیں کہ اسکارف پہننے والی لڑکیوں کے سر سے اسکارف چھین کر آپ کا ضمیر ملامت کیوں نہیں کرتا؟ میں قسم کھاتا ہوں آپ کو گولی نہیں ماروں گا۔
بغیر اسکارف والی لڑکی معاشرے میں آرام دہ محسوس کرتی ہے اور زیادہ معزز سمجھی جاتی ہے۔
یہ سوچ آپ کی وہ فلم اسٹار بیٹی کی ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اسکارف خاتون کو ہراسانی اور زنا سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہم نے یہ بات کئی ایسی خواتین سے سنی ہے جو پہلے اسکارف نہیں پہنتی تھیں، بعد میں پہننے لگیں، جیسا کہ سابقہ بیلی ڈانسر ملیحت سندرا۔ جیسا کہ امریکی سیاہ فام پروفیسر مارون کنگ نے کہا ہے کہ اگر فلم اسٹار الزبتھ ٹیلر بیس سال سے پردہ کر رہی ہوتی تو وہ اپنے موٹاپے کے خوف سے ڈپریشن کا شکار نہ ہوتی، اور یوں ان کی زندگی کا خاتمہ پاگلوں کے ہسپتال میں نہ ہوتا۔ معذرت کے ساتھ سر، کیا میں آپ سے ایک سوال پوچھ سکتا ہوں؟ ۔ آپ ہنس کیوں رہے ہیں سر؟ کیا آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں کوئی مذاق کر رہا ہوں؟
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


