کجریوال کا دہلی اور وسیم اختر کا کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارتی راج دھانی دلی میں ایک بار پھر عام آدمی کا راج ہے۔ اروند کجریوال کی پارٹی مسلسل تیسری بار حکومت بنارہی ہے۔ اس الیکشن میں نہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کو منہ کی کھانا پڑی بلکہ کانگریس کے ہاتھ تو ایک نشست بھی نہ آسکی۔

کجریوال کی عام آدمی پارٹی نے صرف آٹھ سال پہلے بدعنوانی کے خلاف چلنے والی تحریک سے جنم لیا۔ سرکاری ملازم ہونے کے ناتے سسٹم کو سمجھنے والے کجریوال نے ہاتھ میں ”جھاڑو“ اُٹھائی اور سیاست میں پھیلے کرپشن کے گند کو ٹھکانے لگانے کا عزم لیے عوام میں چلے گئے۔ کجریوال نے دلی والوں کو ”سیاست برائے خدمت“ کا نعرہ دیا۔ میدان میں ایسے کھلاڑی اُتارے جو سیاست میں نئے لیکن دھن کے پکے تھے۔

پہلے الیکشن میں ہی عام آدمی پارٹی کو ستر کے ایوان میں اٹھائیس نشستوں پر عوام کا اعتماد حاصل ہوا۔ کجریوال نے وزارت اعلیٰ سنبھالی اور پھر اپنے کام کے بل پر خدمت کی سیاست کی جادوئی ”جھاڑو“ کو ایسے گھمایا کہ سب کے سر گھوم کر رہ گئے۔ دوسرے ہی الیکشن میں عام آدمی پارٹی کی نشستوں کی تعداد سڑسٹھ تک جا پہنچی

اروند کجریوال نے اپنے اقتدار کے دوران دلی کے بجٹ کو چھے کھرب روپے (تیرہ کھرب پاکستانی روپے) تک پہنچا دیا۔ دلی جیسے آلودہ شہر میں پینے کے صاف پانی کی گھر گھر فراہمی کو یقینی بنایا۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج کو مفت بنایا۔ علاج کو آسان بنانے کے لیے دلی کی کئی بستیوں اور علاقوں میں محلہ کلینکس قائم کیے گئے۔

کجریوال نے بجلی کے نرخ پچاس فیصد تک کم کیے اور ساتھ ہی دو سو یونٹ استعمال کرنیوالے صارفین کے لیے بجلی بالکل مفت کردی۔ عام آدمی پارٹی نے سرکاری اسکولز پر بھی بہت کام کیا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے معیار کو بہتر کیا اور بورڈ کے نتائج میں نئی کامیابیوں کے ریکارڈز قائم کیے۔

بلند حوصلے اور پختہ ارادے کے مالک کجریوال کی شخصیت اور کام ہے ہی ایسا کہ لوگ کھنچے چلے آئے۔ اُن کے ساتھیوں میں کوئی ڈاکٹر ہے تو کوئی سابق بیوروکریٹ، کسی نے سی اے کیا ہے تو کوئی ماہر تعلیم ہے۔ عام آدمی پارٹی کی کی طرز سیاست اور عوامی خدمت خلوص، سچائی اور جذبے کی عکاس ہے۔

پڑوسی ملک کی اس سیاست میں پاکستانی سیاستدانوں کے لیے سیکھنے کا بہت ہے لیکن اس سے ملتی جلتی سیاست پاکستانی پہلے بھی دیکھ چکے ہیں یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔ ایم کیوایم نے جب سنہ اسی کی دہائی میں کراچی سے اپنی سیاست کا آغاز کیا تو نعرہ انہوں نے بھی سسٹم کے خلاف لگایا۔ نوجوان بھی سارے ہی پڑھے لکھے تھے لیکن بس وہ پٹڑی سے اُترے اور شہر کی کایا پلٹ گئی۔

وقت کا پہیہ گھومتا رہا حکمران بدلتے چلے گئے لیکن نہ بدلی تو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی حالت زار اور پھر جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ دیا۔ ملک میں آمریت آئی اور ماضی کی طرح اقتدار اور اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا گیا۔

ملک بھر میں شہری حکومتوں کو قیام عمل میں لایا گیا۔ کراچی میں جماعت اسلامی کامیاب ہوئی اور نعمت اللہ خان میئر منتخب ہوئے۔ انہوں خدمت کی سیاست کا نعرہ لگاتے ہوئے شہر کی ترقی کا بیڑہ اُٹھایا۔ شہر میں سڑکیں بنیں، پل تعمیر ہوئے، انڈر پاسز کے جال بچھے، علاقوں میں پارکس قائم ہوئے، صاف پانی کے پروجیکٹس لگے۔ چار سال کے دوران نعمت اللہ خان شہری حکومت کے بجٹ کو چند ارب سے بتیس ارب تک لے گئے۔

کراچی میں خدمت کی سیاست کا آغاز تو ہوا لیکن نعمت اللہ خان کو دوسرا موقع نہ ملا۔ دوہزار پانچ کے الیکشن میں شہر کی باگ ڈور ایم کیوایم کے مصطفیٰ کمال کے ہاتھ میں آگئی۔ انہوں نے شہر کی ترقی کے مشن کو جاری رکھا۔ ادھورے کام پورے ہوئے۔ نئی سڑکیں اور پارکس بنے۔ چار سال کے دوران مصطفیٰ کمال شہری حکومت کے بجٹ کو اڑسٹھ ارب تک لے گئے۔

دو ہزار آٹھ میں ملک میں جمہوریت بحال ہوتے ہی بلدیاتی نظام کہیں پیچھے چلا گیا۔ پیپلزپارٹی نے ملک میں بلدیاتی الیکشن ہی نہیں کرائے۔ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں انتخابات تو ہوئے لیکن پھر نظام بدل گیا۔ کراچی والوں نے میئر کے دفتر میں ایم کیوایم کے وسیم اختر کو پہنچایا لیکن اِن چار سالوں میں اختیارات نہ ہونے کے شکوے ختم نہ ہوسکے۔ شہری حکومت کا بجٹ میں بھی کم ہو کر دوبارہ چھبیس ارب تک گرگیا۔

اب ایک بار پھر ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کا میدان سجنے کو ہے۔ کراچی کی سیاسی پارٹی اپنے اپنے طور پر بلدیاتی مہم کا آغاز کرچکی ہیں۔ ایم کیو ایم وزارت سے استعفے کے بعد کراچی پیکج کے حصول کی کوششوں کے ذریعے ووٹرز کو لبھانے کی کوششیں کررہی ہے۔ جماعت اسلامی بحریہ ٹاؤن اور کے الیکٹرک کے خلاف مہم سے عوام کو اپنے پاس لانے کے جتن کررہی ہے۔ پیپلزپارٹی وزارت بلدیات کے تحت تیار منصوبوں کے افتتاح کے ذریعے بلاول کو میدان میں اتار چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف فی الحال گراؤنڈ پر تو نہیں ہے لیکن وزرا میدان مارنے کے لیے پرعزم ہیں۔

یہ تو طے ہے کہ اگلا الیکشن ترقیاتی منصوبوں اور عام آدمی کی فلاح کے کارناموں کے نام پر لڑا جائے گا لیکن بس دعا یہ ہے کہ عوام ووٹ کے ساتھ شعور کو بھی استعمال کریں اور سیاست برائے خدمت کو پذیرائی دیتے ہوئے باقی سب نعروں کو مسترد کردیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *