زبانیں مر رہی ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر صبح کو میرا اسمارٹ فون مجھے یاد دلاتا ہے کہ آج کس چیز کا عالمی دن ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھ جیسے کم علم کو بھی کچھ تاریخیں اس طرح یاد ہو گئی ہیں کہ ان میں کون سا دن منایا جاتا ہے۔ فروری کے تیسرے ہفتے کا آغاز ایسے ہی ایک دن سے ہوتا ہے جسے مادری زبان کا عالمی دن کہتے ہیں۔ میرے جیسے نہ جانے کتنے کم علم ہوں گے جنہیں اس دن کے بارے میں جاننے سمجھنے کی شاید ہی کبھی توفیق ہوئی ہو لیکن واقعہ یہ ہے کہ زبانیں بہت مشکل دور سے گزر رہی ہیں اور اگر ہم متوجہ نہ ہوئے تو شاید دم توڑتی زبانوں میں وہ زبان بھی شامل ہو جائے جسے ہم اپنی مادری زبان کہتے ہیں۔

زبانیں معاشرے میں انسانوں کے درمیان تعلق کی سب سے اہم ڈور ہوا کرتی ہیں۔ انسان آنکھ کھولتے ہی اپنے آس پاس کے ماحول سے جو کچھ سیکھتا ہے ان میں زبان سب سے پہلی چیز ہے۔ مادری زبان کا عالمی دن کو منانے کا مقصد زبانوں کے تحفظ کے سلسلہ میں بیداری پیدا کرنا اور لسانی رنگا رنگی کی اہمیت کو واضح کرناہے۔ ہوا یہ ہے کہ بازار اور تکنیک کی یلغار نے گنی چنی زبانوں کو بے پناہ مقبولیت دینے کے ساتھ ساتھ ناگزیر بھی بنا دیا ہے ایسے میں یہ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں اس زبان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے جس سے ہمارے کان سب سے پہلے آشنا ہوئے اور جس کے ذریعہ اپنی ثقافت کی میراث ہم تک منتقل ہوئی۔ اس لئے ضروری ہے کہ مادری زبان کی اہمیت کا ادراک بھی ہو اور ان زبانوں کو فروغ دینے کے لئے کام بھی کیا جائے۔

21 فروری کے ساتھ مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کی حمایت میں احتجاج کر رہے نوجوانوں کی جانثاری کا واقعہ جڑا ہوا ہے۔ 1952 میں پولیس نے بنگلہ زبان کے حامی مظاہرین پر گولی باری کی جس میں سلام، برکت، رفیق، جبار اور شفیقُر نامی طالب علم مارے گئے۔ 17 نومبر 1999 کو جب یونیسکو نے ہر سال مادری زبان کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا تو اس کے لئے 21 فروری کا دن منتخب کیا۔

پچھلے کچھ عرصے میں بہت سی زبانیں جس تیزی سے سمٹ گئی ہیں اس کو دیکھتے ہوئے ضروری جان پڑتا ہے کہ اپنی مادری زبان کے تحفظ اور فروغ کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔ ماہرین زبانوں کے دم توڑتے جانے پر فکرمند ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں بولی جانے والی زبانوں میں سے کم از کم 43 فیصد زبانیں خطرے میں ہیں۔ زبانوں کے مرنے کا سلسلہ پچھلی تین صدی میں بڑی تیزی سے بڑھا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ زیادہ تر زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے اور چند زبانیں دنیا کی زیادہ تر آبادی میں تیزی سے رواج پا رہی ہیں۔

زبانوں کا مرنا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے سچائی یہ ہے کہ جب کوئی زبان مرتی ہے تو وہ اپنے ساتھ وہ ثقافتی اور علمی میراث بھی لے جاتی ہے جو صدیوں میں اس زبان کے دامن میں جمع ہوئی تھی۔ ماہرین کے مطابق لسانی رنگا رنگی کو جن باتوں کی وجہہ سے خطرہ پیدا ہوا ہے ان میں عالمگیریت، ہجرت، شہرکاری اور نئی تکنیک کا پھیلاؤ شامل ہیں۔ انٹرنیٹ کی دنیا جس تیزی سے پھیلی ہے اس نے بھی مادری زبانوں کے سامنے چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ آج صورت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر دستیاب نوے فیصد مواد صرف ایک درجن زبانوں میں ہے۔ معلوم ہوا کہ باقی ہزاروں زبانوں میں صرف دس فیصد ہی مواد ہے۔ آن لائن ڈومین میں مادری زبان کا زیادہ سے زیادہ مواد ان زبانوں کے تحفظ اور پھیلاؤ میں مددگار ہو سکتا ہے۔

زبانوں کی صورتحال کتنی تشویشناک ہے اس کا اندازہ کچھ حقائق سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثلا 1950 سے 2010 کے درمیان 230 زبانیں مٹ گئیں۔ یونیسکو نے زبانوں کو درپیش خطرات کا احساس کرتے ہوئے کئی قدم اٹھائے ہیں۔ یونیسکو نے خطرے میں گھری زبانوں کا ایک ایٹلس جاری کیا جس کو دیکھ کر صورتحال کی سنگینی مزید ظاہر ہو جاتی ہے۔ اس نقشے میں زبانوں کو کئی زمروں میں بانٹا گیا ہے۔ سب سے اوپر کا زمرہ محفوظ زبانوں کا ہے جبکہ سب سے نیچے کے زمرے میں ختم ہو گئی زبانوں کو رکھا گیا ہے۔

درمیانی زمروں میں خطرے میں پڑی زبانوں کی درجہ بندی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا کی ایک تہائی زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد فی زبان ایک ہزار سے بھی کم ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ہر دو ہفتے میں ایک زبان اپنے آخری بولنے والے کی موت کے ساتھ ختم ہو رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی ان ایک تہائی زبانوں میں سے آدھی سے لے کر نوے فیصد تک زبانیں اگلی صدی تک ختم ہو جائیں گی۔

مادری زبان کے فروغ کی سمت ایک اہم قدم یہ ہے کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں ہی تعلیم میسر ہو۔ فکرمندی کی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں چالیس فیصد آبادی کو اس زبان میں تعلیم کی سہولت میسر نہیں جو ان کی مادری زبان ہے۔ یونیسکو کا اصرار ہے کہ کثیر لسانی نظام تعلیم والے ممالک میں بچوں کو ان کی مادری زبان کو تعلیم کا میڈیم بنانے کا موقع ملنا چاہیے۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ مادری زبان میں حاصل کی گئی معلومات کو درک کرنے میں بچوں کو زیادہ آسانی ہوتی ہے۔

مادری زبان کے تحفظ اور فروغ کی پہلی ذمہ داری اس زبان والوں پر عائد ہوتی ہے۔ بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کا انتظام کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ اور قدم اٹھاکر اس سلسلہ میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں مادری زبان کی موجودگی زیادہ سے زیادہ بڑھانے، اپنی زبانوں کی مالدار ثقافت سے دوسرے افراد کو باخبر کرنے، اپنی زبان میں موجود سرمایے کی ترویج و اشاعت کرکے اور روزمرہ کے استعمال میں مادری زبان کو فوقیت دینے جیسے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاکر ہم اپنی مادری زبان کی بڑی خدمت کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 99 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *