ناقص پالیسیاں، محکمانہ غفلت، ملتان میں خواتین کھلاڑیوں کا ٹیلنٹ ضائع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملتان سمیت ملک بھر کے کئی پسماندہ علاقوں میں رہنے والی بلامبالغہ ہزاروں ایسی لڑکیاں موجود ہیں جو کسی نہ کسی کھیل میں قدرتی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن ملک کے نامساعد حالات کھیل کے شعبہ میں ترجیحات نہیں ہونے اور بجٹ میں مناسب رقوم مختص نہیں ہونے کے باعث کھیل کے شعبہ میں آگے نہیں بڑھ پا رہی ہیں اور یہ ٹیلنٹ ضائع ہو رہا ہے کیونکہ حکومتوں کی جانب سے شعبہ کھیل کو کبھی ترجیح ہی نہیں دی گئی۔

نہ ہی کرکٹ کے کھیل کے علاوہ کسی شعبہ کے لئے کوئی خطیر رقم کبھی بھی بجٹ میں مختص کی گئی ہے جبکہ کھیل کے شعبہ میں زیادہ رقم مردوں کے لئے مختص کی جاتی ہے اور خواتین کھلاڑیوں کے لئے ایک جانب تو کم رقم مختص کی جاتی ہے تو دوسری جانب اس میدان میں قدرتی ٹیلنٹ اور اپنی محنت و لگن کے باعث آگے آنے والی خواتین کھلاڑیوں کی مردوں کی طرح حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے اور نہ ہی کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کے لئے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ خواتین کھلاڑی کھیل کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہیں اور یہ ٹیلنٹ ضائع ہو جاتا ہے۔

حکومتی عدم توجہی کی طرح ہمارے معاشرے میں رائج فرسودہ رسومات اور خیالات کے باعث اول تو خواتین کو کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کے لئے گھر سے ہی پابندیوں کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور کھیلنے کے لئے مردوں سے ٹریننگ حاصل کرو گی یا دوسرے شہر جاؤ گی تو لوگ باتیں کریں گے، خاندان کے افراد مخالفت کریں گے اور ان وجوہات کی بناء پر ان کی شادی بھی نہیں ہو پائے گی اس لئے ان کو صرف پڑھائی اور گھر گرہستی کی طرف توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

اس طرح اگر یہ خواتین کسی طرح اپنے ٹیلنٹ اور لگن کے باعث گھر سے اجازت حاصل کر کے کھیل کے میدان میں اپنے جوہر دکھا دیں تو سکول کی سطح سے لے کر کھیلوں کے قومی اداروں تک ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے جس میں سکول و کالج کی سطح پر خواتین ٹرینرز، کوچز، کھیل کے میدان، کھیل کے لئے درکار سامان اور کھیلوں کے مقابلوں کی سہولیات ہی اس سطح پر فراہم نہیں کی جاتی ہیں کہ وہ کھیل کے میدان میں آگے بڑھ سکیں۔

اس وقت اگر ملک بھر کی طرح ضلع ملتان میں کھیلوں کی سہولیات اور ڈسٹرکٹ سپورٹس بورڈ کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ملتان میں خواتین کے لئے کھیل کا کوئی علیحدہ میدان تک موجود نہیں ہے جو خواتین کے لئے کھیلوں کے میدان میں ترقی کے لئے پہلی اور ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ اس طرح خواتین کھلاڑیوں کو سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر بھی صرف کرکٹ، ہاکی، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس جیسے عام کھیلوں کے لئے انتہائی محدود مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے خواتین کھلاڑی آگے نہیں بڑھ پاتی ہیں حالانکہ خواتین کھلاڑیوں میں تیکوانڈو، کراٹے، سوئمنگ، ہینڈ بال اور سکواش جیسے کھیلوں میں جوہر دکھانے کی صلاحیتیں موجود ہیں نیز مقابلوں کے لئے درکار فنڈز حکومتی سطح اور سپورٹس بورڈ کی جانب سے مہیا نہیں ہونے کی وجہ سے مواقع ناپید ہو جاتے ہیں۔

اس طرح سالانہ سپورٹس کلینڈر میں بھی مرد اور خواتین کھلاڑیوں میں حکومتی سطح پر تضاد واضح طور پر موجود ہے جس کی مثال یہ ہے کہ اس سالانہ کلینڈر میں ضلعی سطح پر مقابلوں میں مردوں کے لئے 11 جبکہ خواتین کھلاڑیوں کے لئے صرف 6 شعبے رکھے گئے ہیں نیز 8 سال کی تاخیر سے ہونے والی 72 ویں سالانہ گیمز میں مردوں کے لئے 21 مختلف کھیل جبکہ لڑکیوں کے لئے صرف 7 کھیل رکھے گئے اور کرکٹ، ہاکی، بیڈمنٹن، فٹبال، سوئمنگ، باکسنگ، ٹینس، سکواش اور سائیکلنگ کے شعبہ میں خواتین کے لئے مقابلے ہی مختص نہیں کیے گئے۔

اس طرح سپورٹس بورڈ کی کارکردگی کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ 10 برس سے قاسم باغ فٹبال گراؤنڈ کو انٹرنیشنل سٹیڈیم بنانے اور آسٹرو ٹرف ہاکی سٹیڈیم بنانے کے منصوبے التواء کا شکار چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے اس خطے سے ان دونوں شعبوں میں انٹرنیشنل کھلاڑی پیدا نہیں ہو رہے ہیں جبکہ خواتین کا تو دور دور تک نام و نشان ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ سپورٹس بورڈ کے جاری منصوبوں میں سپورٹس گراؤنڈ میں کرکٹ گراؤنڈ کی بحالی کے لئے 7 کروڑ 47 لاکھ 50 ہزار مختص ہیں اور یہ منصوبہ کئی سال بعد اس سال مکمل ہو گا۔

سنتھیٹک ٹرف ہاکی گراؤنڈ کے منصوبہ کی کئی برس قبل منظوری کے باوجود گزشتہ برس 13 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی اور رواں مالی سال میں 4 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں اس طرح ملتان کی تحصیل شجاعباد میں منی سپورٹس کمپلیکس بنانے کے لئے 7 کروڑ 25 لاکھ 8 ہزار روپے کی منظوری دی گئی ہے اور یہ منصوبہ رواں برس مکمل کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ملتان قمر الزمان قیصرانی نے بتایا کہ ضلع ملتان کے مرد و خواتین کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو ابھارنے اور چھپے ہوئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے انٹر سکولز گیمز کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے یہ گیمز 26 مارچ سے شروع ہو کر 2 اپریل تک جاری رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹر سکولز گیمز محکمہ تعلیم اور سپورٹس کے اشتراک سے منعقد کیے جائیں گے۔ ان گیمز میں بوائزایونٹس میں ہاکی، فٹبال، ہینڈ بال، کرکٹ، بیس بال، ہینڈ بال، ٹینس، باسکٹ بال اور رسہ کشی کے ایونٹس شامل ہوں گے جبکہ گرلز ایونٹس میں بیڈ منٹن، ٹیبل ٹینس، باسکٹ بال، ہینڈبال اور نیٹ بال کی گیمزشامل ہیں۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق مقابلے سکولوں کے مابین تحصیل اور ضلع کی سطح پر ہوں گے اور ان مقابلوں کی افتتاحی اور اختتامی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منعقد کیا جائے گا اور ان مقابلوں کے ذریعے نیا ٹیلنٹ بھی تلاش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انٹر سکولز گیمز سے نوجوانوں میں صحت سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply