مسلم ریاست جدید کیسے بنے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمود مرزا صاحب مرحوم کی کتاب ”مسلم ریاست جدید کیسے بنے؟ “ اپنے موضوع کے لحاظ سے غیر معمولی توجہ کی مستحق کتاب ہے۔ کتاب مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، جس میں مرزا صاحب نے جو نتائجِ فکر پیش کیے ہیں وہ محمود مرزا صاحب کی وسیع المطالعگی، اہل علم سے ہونے والے تبادلہ خیالات اور مشاہدے کا مظہر ہے۔ مرزا صاحب نے جن موضاعات پر مضامین لکھے ہیں ان پر مختلف پہلوؤں سے بات ہوسکتی ہے۔ مثلاً مسلم دنیا میں جدید علوم کا فروغ کیوں نہ ہوا، احیائے علوم یورپ اور مسلم دنیا میں، اجتہاد یا الحاد، ترقی اور اسلام، اسلامی اقدار کے معاشی پہلو جیسے حساس اور تلخ موضاعات کا احاطہ ہمیں اس کتاب میں ملتا ہے۔

کتاب کی اہم ترین چیز بعض وہ سوالات اور نتائجِ فکر ہیں۔ محمود مرزا صاحب نے بڑی صراحت کے ساتھ اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ہمارے پاس اسلام کی اقدار اور اصول موجود ہیں لیکن یہ کہنا کہ سیاست، معیشت اور معاشرت سے متعلق اسلام نے ایک منظم نظام متعارف کروایا ہے جسے من و عن ہر مشرق ہو یامغرب نافذ کیا جاسکتا ہے، درست نہیں ہے۔ اگرچہ پچھلی صدی میں ایسے مفکرین بھی گزرے ہیں جنھوں نے علمی تاریخ میں اسلامی نظام کی اصطلاح متعارف کروائی اور یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسلام سیاست، معیشت اور معاشرت کا ایک مکمل نظام رکھتا ہے۔

مرزا صاحب نے اس معاملے میں بنیادی نکتہ اٹھایا ہے کہ اسلام کے پورے منقولات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سیاست، معیشت اور معاشرت کے معاملے میں اس نے ہرگز کوئی نظام نہیں دیا بلکہ بنیادی طور پر اخلاقی اقدار اور قانون اسلام نے متعارف کروائے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ نظام تمدن کے ارتقاء کے ساتھ پروان چڑھتا ہے۔ پتھر کے دور کا تمدن کسی اور نوعیت کا تھا، زرعی عہدکے تقاضے کچھ اور تھے اور صنعتی دور میں تمدن نے کسی اور انداز میں کروٹ لی اور آج ہم اس دور میں ہیں جہاں صنعتی دور ایجادات بھی فرسودہ ہوتی جارہی ہیں۔ ایسے میں کوئی ایک نظام کیسے ہر عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے؟ ۔ یہ ہی خالقِ کائنات کی حکمت تھی کہ اس نے ہر معاملے میں اصول اور قانون ہمیں عطا کردیے ہیں جن کی بنیاد پر ہم ہر تمدن اور دور کے مطابق اپنی سیاست، معیشت اور معاشرت کو ڈھال سکتے ہیں۔

آج انسان نے نہ سائنس کے میدان میں ترقی کی ہے بلکہ سماجی علوم میں بھی تبدریج ترقی کی ہے۔ جس سے استفادہ کے لیے ناگزیر ہے کہ ہمارے درمیان بھی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد سامنے آئیں۔ جنھیں یہ ادراک ہو کہ اسلام نے انہیں کیا اقدار دی ہیں؟ اور جن معاملات میں کچھ قانونی حدود متعین کی ہیں ان کی بھی نوعیت کیا ہے؟ اور پھر یہ دیکھ سکیں کہ دنیا نے اب تک کیا سفر طے کیا ہے اور دنیا کے اس سفر کے اوپر بھی مجتہدانہ نگاہ ڈالتے ہوئے اس کو آگے بڑھا سکیں۔

بنیادی طور پر یہ کتاب ہمیں اس ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہدایات اور رہنمائی عطا فرمائی ہے اس کو معاشرے کے ساتھ مسلک کرکے نظام تخلیق کرنے کا فریضہ ہم ہی کو انجام دینا ہے۔

ایک اور اہم بات جس کی مرزا صاحب نے جگہ جگہ اپنی کتاب میں توجہ دلائی ہے، وہ یہ ہے کہ شریعت کی تعمیرنوکی جائے۔ ہمارے یہاں عام طور پر شریعت سے مراد فقہ ہوتی ہے جیسا کہ ہمارے یہاں چار مکاتب فکر موجود ہیں۔ یعنی ہمارے یہاں شریعت سے مراد یا تو فقہہ حنفی ہوتی ہے، یافقہہ شافعی ہوتی ہے یا فقہہ مالکی ہوتی ہے یا فقہہ حنبلی ہوتی ہے یا آئمہ عربہ کی فقہ ہوتی ہے یا یہ کہ بہت سے دوسرے لوگوں کی تحقیقات کو شامل کر کے فقہہ اسلامی ہوتی ہے۔

ہمارے یہاں دوسرا نقطۂ نظر وہ ہے جس کی دور جدید میں مؤثر نمائندگی ڈاکٹر فضل الرحمن صاحب نے کی ہے اور مرزا صاحب نے ان کے بعض اکتسابات بھی اپنی کتاب میں دیے ہیں کہ شریعت کے جو احکام بھی قرآن مجید میں یا روایات میں ملتے ہیں یہ درحقیقت اس دور کے تقاضوں کے لحاظ سے دیے گئے تھے ان احکام میں اصل چیز ان کا ڈھانچہ نہیں بلکہ ان کا مقصد ہے اور اس مقصد کو سامنے رکھ کر ہمیں اپنے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کرنی ہے۔

تیسرا نقطۂ نظریہ ہے کہ شریعت کے احکام تو ہیں لیکن وہ اجتہادی بصیرت کے ساتھ نفاذ کا تقاضا کرتے ہیں اور ان میں کوئی ردوبدل کرنا پڑے تو مجتہدانہ طریقے سے مسلمان اور ان کے نمائندے کر سکتے ہیں۔ چوتھا نقطۂ نظر جس کی نمائیندگی عصرِ حاضر میں جناب جاوید احمد غامدی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو شریعت دی ہے، شریعت کے معنی قانون کے ہیں۔ یعنی صورت حال یہ نہیں ہے کہ سارے کا سارا دین صرف ایمان و اخلاق پر مبنی ہے بلکہ اس کے ساتھ کچھ قوانین بھی دیے گئے ہیں۔ جن کا مطالعہ کر نے سے بالکل وا ضح ہو جا تی ہے، یعنی انسان کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے عقل دے رکھی ہے اس کی روشنی میں وہ اپنا سفر طے کرتا ہے

اپنے انفرادی اور اجتماعی مسائل حل کرتا ہے اور پھر جو چیزیں پیش آتی ہیں ان میں نئی نئی طر حیں بھی نکالتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ ہم کم و بیش بارہ صدیوں سے یہ بات طے کرکے بیٹھ گئے ہیں کہ ہمارے ہاں جو کچھ ہمارے پہلی، دوسری اور تیسری صدی کے فقہا نے ترتیب دے دیا ہے اس میں کوئی تغیر نہیں ہو سکتا۔ جس کے لیے ضرورت ہے کہ قدیم علوم پر مجتہدانہ نظر رکھتے والے اور جدید علوم سے بھی مکمل آشنائی رکھنے والے افراد سامنے آئیں اوراب تک کی شریعت کی گئی تعبیرات پر غور کرکے یہ دیکھیں کہ کیا چیزصحیح ہے اور کس چیز میں انسانی سؤِ فہم کو دخل حاصل ہو گیا ہے۔ اگرچہ یہ کام نہایت نازک حساس اور نہایت جرات کا متقاضی ہے لیکن اس کے کیے بغیر چارہ بھی نہیں ہے۔

حاصلِ مطالعہ یہ ہے کہ جس طرح ہم سائنسی ایجادات سے مستفید ہوتے وقت مشرق اور مغرب کی تفریق نہیں کرتے تو اسی طرح سماجی علوم کے معاملے میں بھی یہی روش اختیار کریں اور جو کچھ ہے اس کو مومن کی گمشدہ حکمت سمجھ کر قبول کریں۔ یہی نجات کا راستہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *