سماجی انصاف کا عالمی دن، لیکن انصاف کہاں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سماج عربی زبان کا لفظ جس کے معانی ”معاشرہ“ کے ہیں، عام فہم انداز میں تمام انسانوں کا مجموعہ سماج کہلاتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتا۔

سماجی انصاف سے مراد معاشرے میں بسنے والے تمام طبقات کو یکساں حقوق میسر ہوں، معاشرے میں بغیر امتیاز قوم و نسل، اعلی و ادنیٰ، غریب و امیر اور کسی بھی مسلک و مذہب کے تمام بسنے والے لوگوں کو خوشیاں فراہم کرنا ہے، اور ان کے حقوق کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانا ہے، ان کی تمام انسانی بنیادی ضروریات کو ہر لحاظ میں پورا کرنا ہے۔

سماجی انصاف کی اصلاح سب سے پہلے 1780 ءمیں تھومس پین (Thomas Pain) نے متعارف کروائی جس کو بعد میں اٹالین عیسائی سکالر لوجی تپارلی (Luigi Taparelli) نے 1848 ء کے انقلابی دور کے دوران اینٹونیا روسمینی سرباتی (Antonia Rosmini Serbati) کے کام کے ذریعے پروان چڑھایا۔ 25 جون 1993 کو انسانی حقوق کی بین الاقوامی کانفرنس میں وینا ڈیکلریشن ایند پروگرام آف ایکشن کے ذریعے پہلی بار سماجی انصاف کی اصلاح انسانی حقوق کی تعلیم کے طور شامل کیا گیا۔

نومبر 2009 میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرتے ہوئے 20 فروری کو باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کا اعلان کیا اور 2009 میں پہلی مرتبہ اس دن کو بین الاقوامی سطح پر منایا گیا۔

زبان زد عام میں صرف یہ رہنا کہ سماجی انصاف کے عالمی دن کو سماج میں سب کو برابری کی سطح پر انصاف فراہم کرنے کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، کیا یہ کافی ہے؟ لیکن حقیقت میں ایسا کہاں تک صحیح ہے؟ کیا آج کمزور اور بے بس لوگوں کو انصاف مل رہا ہے؟ معاشرے میں موجود مظلوم کی کون فریاد سن رہا ہے؟ محتاجوں کا کون سہارا بن رہا ہے؟ بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ جن کو یونیورسٹیاں ڈگریوں پر ڈگریاں دے رہی ہے ان کو انصاف کہاں دیا جارہا ہے؟

بے گناہ قتل ہونے والوں کو اس معاشرے میں انصاف کہاں دیا جا رہا ہے؟ مگر افسوس صد افسوس کہ سماجی انصاف کا موجودہ تصور اور عدل و مساوات کا عصری رجحان، برائے نام محض انصاف کی دہائی دینے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لئے موقع بہ موقع منظر عام پر لایا جاتا ہے اور زبانی جمع خرچ کے ذریعے لوگوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

بستیاں کب ویران ہوتی ہیں :

کہاجاتاہے کہ ایک مرتبہ ایک طوطے طوطی کا گزرکسی ویرانے سے ہوا وہ دم لینے کے لیے ایک بلند قامت درخت کی شاخ پر بیٹھ گئے۔

طوطے نے طوطی سے کہا اس علاقے کی ویرانی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ الوؤں نے یہاں بسیرا کیا ہواہے۔ اتفاق سے ساتھ والی شاخ پر الو بیٹھا تھا اس نے یہ سن کر اڈاری ماری اور ان کے برابر میں آ کر بیٹھ گیا۔ علیک سلیک کے بعد الو نے طوطے طوطی کو مخاطب کیا اور کہا آپ میرے علاقے میں آئے ہیں، میں بے حد ممنون و مشکورہوں! اگر آپ آج رات کا کھانا غریب خانے پر تناول فرمائیں گے تو ذرہ نوازی ہوگی۔ اس جوڑے نے الو کی دعوت قبول کر لی۔ رات کا کھانا کھانے اور پھر آرام کرنے کے بعد جب وہ صبح واپس جانے لگے تو الو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور طوطے کو مخاطب کر کے کہا کہ اسے کہا ں لے کر جا رہے ہو یہ میری بیوی ہے

یہ سن کر طوطا پریشان ہو گیا اور بولا یہ تمہاری بیوی کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ طوطی ہے تم الو ہو تم زیادتی کر رہے ہو۔ اس پر الو ایک وزیر با تدبیر کی طرح ٹھنڈے لہجے میں بولا ہمیں جھگڑنے کی ضرورت نہیں عدالتیں کھل گئی ہوں گی ہم وہاں چلتے ہیں وہ جو فیصلہ کریں گی ہمیں منظور ہو گا۔

طوطے کو مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا۔ جج نے دونوں طرف کے دلائل بہت تفصیل سے سنے اور آخر میں فیصلہ دیا کہ طوطی طوطے کی نہیں الو کی بیوی ہے۔ یہ سن کر طوطا روتا ہوا ایک طرف کو چل دیا۔ ابھی وہ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ الو نے اسے آواز دی تنہا کہاں جا رہے ہواپنی بیوی کو تو لیتے جاؤ۔ طوطے نے روتے ہوئے کہا یہ میری بیوی کہاں ہے عدالت کے فیصلے کے مطابق اب یہ تمہاری بیوی ہے۔ اس پر الو نے شفقت سے طوطے کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا یہ میری نہیں تمہاری بیوی ہے۔ میں تو تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا تھا کہ بستیاں الوؤں کی وجہ سے ویران نہیں ہوتیں بلکہ اس وقت ویران ہوتی ہیں جب وہاں سے انصاف اٹھ جاتا ہے۔

سماجی انصاف کہاں پر ہے؟ 2019 کی پولیس کرائم رپورٹ کا جائزہ لیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں بسنے والے لوگوں میں انصاف نام کی کوئی چیز پیدا ہی نہیں ہوئی، صرف صوبہ پنجاب میں سال کے دوران پینتیس سو چورانوے قتل کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں، اقدام قتل کے ستانوے سو پچانوئے اور لڑائی جھگڑے کے تیرہ ہزار چالیس واقعات رونما ہوئے، اغواء برائے تاوان کے چھہتر کیسز شہریوں میں خوف کی علامت بنے رہے۔ جرائم پیشہ عناصر نے شہریوں کو کروڑوں کی املاک سے محروم کیا، ڈکیتی کی پندہ ہزار بیس گاڑیاں چھیننے اور چوری کی بائیس ہزار دو سو اور مویشی چوری کے چھ ہزار واقعات سامنے آئے، ملک میں جنسی جرائم کے کیسز علیحدہ سے ہیں۔

سماجی انصاف کے لئے آگاہی پیدا کرنے کے چیمپین کہاں ہیں؟ کیا صرف عالمی دن کو منا لینے سے سماجی انصاف ہو جاتا ہے؟ کیا ملک کی عدالتیں سب کو برابر انصاف مہیا کر رہی ہیں؟ قانون نافض کرنے والے ادارے برابری کی سطح پر قانون کا نفاض کر رہے ہیں؟

’مارکس ٹیلیس‘ ( Marcus Tullius Cicero) کا کہنا ہے ”قوانین بہت ہیں لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا“

ملک میں بہت سے قوانین تو بنا دیے گے ہیں لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا، سماجی انصاف کی بے بسی دیکھیں ملک میں نوجوان طبقہ ڈگریوں کی گھٹھری لئے بیٹھا ہے جو کہ ملک کی یونیورسٹیوں نے ہی دی لیکن ان کو ابھی تک روزگار نہیں مل پایا، سماجی انصاف کے نام پر غریب عوام آج بھی انصاف کے بازاروں میں دھول چاٹ رہی ہے، کہاں ہیں وہ سماجی انصاف کے چیمپین جن کے دعوے انصاف سے شروع ہوتے ہیں پر انصاف دلواتے نظر نہیں آتے۔

سماجی انصاف کے اس دن ہمیں کچھ ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن کی بدولت معاشرے میں بسنے والے تمام عام لوگوں تک اس کا بنیادی حق پہنچ سکے۔ سب کو یکساں انصاف مہیا کروایا جائے، تعلیم اور روزگار کے بہتریں موقع فراہم کیے جائیں، تبدیلی کے اس عہد میں بھی سماجی انصاف کا یہ دن نعروں اور ٹی وی ٹاک شو کے بعد ختم ہو جائے اور کوئی عملی کام نہ ہو تو سماجی انصاف کے چیمپینز کو اپنا بوری بسترا گول کر کے رفوچکر ہو جانا چاہیے اپنی جگہ ان نئے لوگوں کو دیں جو اصل میں سماجی انصاف مہیا کرنے کے لئے بہترین کام کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید اظہار باقر

سید اظہار باقر ترمذی نے انگیزی ادب کی تعلیم پائی ہے۔ سماجی مسائل پر بلاگ لکھتے ہیں ۔ ان سے سماجی رابطے کی ویپ سائٹ ٹوٹر پر @Izhaar_Tirmizi نیز https://www.facebook.com/stirmize پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

syed-izhar-baqir has 6 posts and counting.See all posts by syed-izhar-baqir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *