جارج آروِیل کا اینِمل فارم اور ہمارے ہاں کے کاغذی انقلاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معروف ناول نگار جارج آروِیل جس کا اصل نام ایرک آرتھر بلیئر ہے، 25 جون 1903 کو بہار (انڈیا) میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے اور انڈیا واپس آکر 19 سال کی عمر میں انڈین پولیس (ایمپیریل پولیس) میں بھرتی ہوئے، ابتدائی طور پر ان کی پوسٹنگ برما میں ہوئی۔ پولیس کی نوکری چھوڑنے کے بعد کچھ عرصہ لندن میں مقیم رہے اور وہاں سے فرانس چلے گئے جہاں دو سال تک صحافت کے شعبے سے وابستہ رہے۔ فرانس سے لندن واپسی پر کچھ عرصہ بطور استاد ایک سکول میں پڑھاتے رہے۔ انہوں نے ریپبلِکنز کی طرف سے سپین کی سِول وار میں بھی حصہ لیا جس میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے۔

اینِمل فارم کے نام سے یہ شاہکار ناول جارج آروِیل کی وہ تخلیق ہے، جس کو مشرق و مغرب میں یکساں پزیرائی ملی، مختلف ممالک کے اندر کئی زبانوں میں اس ناول کا ترجمہ بھی ہوچکاہے۔ یہ کہانی برطانیہ کے ایک قصبہ میں واقعہ ایک اینِمل فارم کے گرد گھومتی ہے، جس کے مالک کا نام جونز ہے۔ فارم کے اندر موجود جانوروں کا خیال ہے کہ جونز ان کا استحصال کرتاہے۔ اور نتیجتاً ایک میجر نامی سؤر (فارم کے جانوروں کا رہنما) کی انقلابی تقریر کے نتیجے میں فارم کے تمام جانور پورے بنی نوع انسان کو ظالم اور جابر سمجھ کر ان کے خلاف بغاوت کا عَلَم بلند کرتے ہوئے ٹھان لیتے ہیں کہ کرہ اَرض پر موجود انسان نامی مخلوق سے وہ آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔ اور آخرکار وہ فارم کے مالک جونز کو اپنی بیوی اور محافظین سمیت فارم سے بے دخل کردیتے ہیں۔

اس ناول میں دکھایا جاتاہے کہ کیسے کچھ پِسے ہوئے مغلوب لوگ شروع میں ایک طاقتور سے انتقام لینے اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم سے نجات حاصل کرنے کے لئے اکٹھے ہوجاتے ہیں، لیکن جب وہی کمزور طبقہ طاقتور سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے، تو پھر اسی کمزور طبقے میں سے ایک اور طاقتور بن کر اپنے ہی اس طبقے کا پہلے سے بڑھ کر استحصال شروع کردیتاہے۔

اس کہانی کے دو مرکزی کردار سنوبال (سؤر) اور نپولین (سؤر) بڑی دلچسپی کے حامل ہیں، وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے ہیں، مگر مزے کی بات یہ ہے کہ سنوبال جو کہ ایک معقول اور مخلص سؤر ہے، نپولین کی سازش کے نتیجے میں غدار ٹھہرتا ہے۔ اور نپولین جیسا فاشسٹ اور آمرانہ مزاج رکھنے والا نا اہل سؤر فارم کے سیاہ و سفید کا اکیلے مالک بن جاتاہے، اس واردات میں سکویلر نامی ایک بے ضمیر سؤر پوری طرح نپولین کا ساتھ دیتاہے۔

اس پوری کہانی میں نہایت ہی جذباتی قسم کا منظر وہ ہوتاہے جب باکسر نامی ایک نہایت مخلص گھوڑے کو بیماری اور ضعف کے دوران علاج کے بہانے ایک قصائی کے ہاتھوں بیچاجاتاہے، لیکن اس کے ساتھی جانور اس کی کوئی مدد نہیں کرپاتے، اس موقع پریہ ناول یوٹیلٹیرینزم کی حقیقت دنیا کو واضح کرکے دکھاتاہے۔

انقلابی تحریک کے نتیجے میں طاقت حاصل کرنے والا ٹولہ ڈرائنگ روم میٹنگز میں ہر اس قاعدے اور قانون کو تبدیل کرتاہے جو ان کے غاصبانہ آمریت کے راستے میں رکاوٹ بنتاہے۔

اس سلسلے میں اس انقلابی تحریک کے ایک بنیادی نعرے
All animals are equal۔

کو ذاتی مفادات کے لئے تبدیل کیاجاتاہے اور اسے کچھ یوں بنایا جاتا ہے کہ
All animals are equal but some animals are more equal than others

جارج نہایت ہی خوبصورت انداز میں منظر کشی کرتا ہے۔ کہ کیسے اپنی ذاتی خواہشات کو عوام کی ضرورت کا نام دے کر انہیں ناگزیر باور کرواتے ہوئے جائز اور حلال ٹھہرایاجاتاہے۔ ایک موقع پر وہ لکھتاہے۔

Squealer says that the pigs dislike this better food, but they make a sacrifice to eat milk and apples because they are the“ brainworkers ”and are essential to organizing and managing the farm. He also says that the pigs need this richer, better food because the whole farm depends on them

جارج نے واضح کیا ہے کہ طاقت کے اپنے ڈائنامکس ہوتے ہیں، اور یہ کہ طاقتور ہمیشہ سادہ لوح عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے انہیں اپنے ذاتی مفادات کے لئے جب چاہے جیسے چاہے استعمال کرتاہے، اور پھر بڑی ہوشیاری سے اپنے ذاتی مفادات کو ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد کا عنوان دے کر پسِ پردہ سودے بازی کرلیتا ہے۔

یہی اس پوری کہانی کا مرکزی خیال ہے۔ ناول پڑھیے غور کیجیے اور اپنے گریباں میں جھانکیے کہ ”اینمل فارم“ میں آپ کا کردار کون سا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *