عمران خان کو ایف بی آر کا نیا سربراہ چننے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے
ایف بی آر کے نئے سربراہ کا انتخاب تنازعات کا شکار ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سینئر صحافی سید طلعت کا کہنا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے چینئرمین کے لیے طارق پاشا کا نام دیا گیا جو کہ اسحاق ڈار کے دور میں چیئرمین تھے، دوسرا نام مجتبیٰ حفیظ کا دیا گیا جو کہ حفیظ شیخ کے قریبی دوست ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تیسرا نام ہارون اختر کا دیا گیا جو کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے ریوینیو تھے۔ انکا مزید کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نواز شریف کی ٹیم کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق وزیر مملکت ہارون اختر خان کو وزیراعظم کا ریونیو مشیر لگائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا چئیرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ساتھ آنے والی ٹیم کو فارغ کر دینے کا اعلان بھی کیا جانا تھا۔ ان کے متبادل کا دو سے تین روز میں فیصلہ متوقع تھا. تاہم سینئر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہارون اختر کی وزیراعظم سے ایک نہیں، کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ انہیں کہا گیا تھا کہ وہ چئیرمین ایف بی آر بن جائیں البتہ ان کے آنے کے بعد بھی حفیظ شیخ کو نہیں ہٹایا جائے گا۔
دوسری طرف ہارون اختر مکمل اختیارات نہ ملنے کی صورت میں کام نہیں کریں گے۔ وزیراعظم کی موجودہ ٹیم کے بارے میں ہارون اختر کی رائے اچھی نہیں، ابھی تک انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ عمران خان ہمایوں اختر اور ہارون اختر کو پارٹی میں شامل کرنے کے لیے دو بار ان کے گھر گئے لیکن جہانگیر ترین ہی رکاوٹ بنے۔
اس حوالے سے عارف نظامی نے کہا تھا کہ قمر خان صاحب کی ن لیگ کے ہمایوں اختر سے بڑی دوستی ہے۔ ہارون اختر کی قمر خان کے ذریعے وزیراعظم سے ملاقات ہوئی۔ ہارون اختر بڑے قابل آدمی ہیں۔ عمران خان ان سے ملاقات کر کے بڑے خوش ہوئے۔ ہارون اختر نے وزیراعظم کومعیشت کے حقائق بتائے کہ فلاں فلاں چیزیں ٹھیک نہیں چل رہیں۔ ہارون اختر سے وزیراعظم نے پوچھا کہ آپ پھر آ رہے ہیں؟ حکومت کے پاس ایک آپشن موجود ہے لیکن ہارون اختر کو چیئرمین ایف بی آر نہیں بلکہ وزیراعظم کا مشیر آنا چاہیے۔ تاہم مشیر خزانہ حفیظ شیخ بڑے حاسد ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ خزانہ کے علاوہ محکمہ ریونیو بھی ان کے پاس ہو۔
حماد اظہر کو ریونیو کا قلمدان دیا گیا تھا لیکن حفیظ شیخ ناراض ہو گئے اور حماد اظہر سے چند روز کے اندر قلمدان واپس لے لیا گیا۔ لیکن اب وزیراعظم عمران خان حفیظ شیخ کی ناراضگی افورڈ کر سکتے ہیں کیوںکہ وہاں اب تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس سب کے باوجود ہمارے ہاتھ آئی ایم ایف نے باندھے ہوئے ہیں۔ شبر زید ی کو حفیظ شیخ نے کہا تھا کہ آپ نے یہ ٹھیک نہیں کیا، وہ ٹھیک نہیں کیا، جس پر وہ چلے گئے۔
عارف نظامی نے کہا ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کیلئے ہارون اختر کو جو آفر کی گئی ہے، وہ اس کیلئے تیار ہیں۔ ان کے بھائی ہمایوں اختر پہلے ہی پی ٹی آئی میں ہیں۔


