عورت مارچ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماہ مارچ کا آغاز ہونے کو ہے اور یہ وہ ماہ ہے جب ایلیٹ کلاس کے عورتوں کے اندر کی عورت اور مڈل کلاس عورتوں کے لئے دل میں ان کے لئے ہمدردی پیدا شروع ہوجاتی ہے جبکہ بیشتر مرد حضرات کے اندر کا بھی فیمنسٹ بھی جاگ جاتا ہے جو کہ سارا سال اپنے ہی گھر میں حقوق نسواں کا استحصال کرتے ہیں۔ فیمنزم تحریک کا آغاز بیسویں صدی میں مغرب سے ہوا جس کا مقصد عورت کو اس کی بنیادی ضروریات و ترجیحات سے روشناس کرانا تھا۔ مغرب میں اس کو باقاعدہ پذیرائی ملی اور یوں یہ تحریک پوری دنیا میں جانی جانے لگی۔

مرد کا یہ بنیادی مسئلہ رہا ہے کہ عورت کو کمتر جان کر خود کو برتر پاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج تک عورت اس استحصال کا شکار ہے۔ عمومی طور پر مرد کی اس مصنوعی برتری کی وجہ اس کا کمانا ہے اور اس برتری کو مشرق میں اب تک اسی وجہ سے قائم رکھا گیا ہے کیونکہ عورت کو اس کے بنیادی حق یعنی تعلیم سے دور رکھا گیا۔

گذشتہ سال ہونے والے عورت مارچ پر کئی تبصرے و مشاہدات ہوئے لیکن اس سے بڑھ کر سوشل میڈیا پر یہ مارچ تنقید کا نشانہ بنا رہا اس کی وجہ یہ تھی کہ عورت کے بنیادی حقوق کی بجائے اس کے گھریلو مسائل کو ٹرینڈ بنادیا گیا۔ جہاں کھانا گرم کرنا، جینز پہننا جیسے سلوگن کافی زیر بحث رہے۔ لباس کا تعلق معاشرے سے ہوتا ہے ناکہ حقوق سے البتہ جبری طور پر کچھ مسلط کرنا بھی حقوق نسواں کا استحصال ہے۔ یہ مسائل بیشتر گھریلو ہوتے ہیں اور گلوبلی ان کو ایشو بنانا خود ایک ایشو ہے۔ پاکستان میں عورت کے حقیقی حقوق یا فیمنزم کے حقیقی معنوں سے چند ایک لوگ متعارف ہیں اور وہ بھی اس موضوع پر گفتگو کرتے نظر نہیں آتے کیونکہ یہاں پر جنسی طنز کردیے جاتے ہیں۔

ایسا ملک جہاں خواتین قوانین کاموثر نفاذ نہ ہونے کے سبب آج بھی اپنے بہت سے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہیں، لیکن گزشتہ سال اور اس سال ان مسائل پر بات ہونے کے بجائے ’عورت مارچ‘ کے مخصوص پلے کارڈ ز ہی سوشل میڈیا اور تبصروں کی زینت بنے رہے اور رہیں گے اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان تقریبوں کو موسمی سمجھ لیا جاتا ہے۔ پلے کارڈز پر لکھی گئی زبان کو کچھ لوگ نازیبا قراردے دیں گے تو کچھ نے ان کارڈز کو بنیادی مسئلے سے غیر متعلق بھی قرار دیں گے اور یوں اس سارے شور میں خواتین کے اصل حقوق کی جو آواز تھی وہ دوبارہ کہیں دب جائے گی۔ یقیناً عورت مارچ کی خواتین کے مطالبات بھی ان کا حق ہیں لیکن ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ترجیحات کیا ہیں۔ کیا اگر معاشرے کے مرد خراب زبان استعمال کرتے ہیں تو خواتین کو بھی اتنی ہی خراب زبان استعمال کرنے کا حق چاہیے، یا پھر درج ذیل مسائل کو زیادہ ترجیح دینی چاہیے۔

گذشتہ برس کئی جگہ کچھ دبی دبی آوازیں دیکھنے کو ملیں جو کہنا چاہ رہی تھیں کہ پاکستان میں عورت کے بنیادی مسائل آخر ہیں کیا، اور ہم کن چیزوں پر بات کررہے ہیں۔ ممکن ہے اگر یہ مسائل حل ہوجائیں تو پھر کسی عورت کو کسی بھی قسم کے مارچ میں ’واہیات نعروں‘ کے ساتھ شرکت کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر منظر عام پر ان ہی موضوعات کو زیر بحث رکھا جائے اور منتظمین بھی اسی پر عمل پیرا رہیں تو عورت مارچ دوبارہ کسی تنقید کا شکار نہ ہوگا۔

لڑکی کی پیدائش پر بھی ویسے ہی خوشی منانی چاہیے جیسے لڑکے کی پیدائش پر منائی جاتی ہے اور بیٹی کی پیدائش پر عورت کو قصور وار نہ ٹھہرایا جائے۔

تعلیم، غذا اور اندازِ زندگی میں برابر کا حق دار تسلیم کیا جائے اور دونوں کی پرورش یکساں خطوط پرکی جائے۔

بچے کی پیدائش پر ورکنگ خواتین کو قانون کے مطابق تنخواہ کے ساتھ چھٹی دی جائے اور کام کی جگہوں پر ورکنگ خواتین کے بچوں کی نگہداشت کا انتطام کیا جائے۔

خواتین کو جائیداد میں ان کا جائز حصہ ریاستی قوانین کی روشنی میں دیا جائے۔

نوکریوں میں خواتین کو برابر کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انہیں کام کے مطابق مردوں کے برابر تنخواہ دی جائے۔

شادی بیاہ کے معاملے میں خواتین کی رائے کو مقدم رکھاجائے اور کسی بھی جبر یا کسی اور سماجی مسئلے کے تحت ان پر کوئی رشتہ مسلط نہ کیا جائے۔

کھیتوں، کارخانوں اور گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور انہیں ان کے کام کا باقاعدہ معاوضہ ادا کیا جائے۔ خواتین سے جبری مشقت لینے کا سلسلہ فی الفوربند کیا جائے۔

اپنے گھر کے لئے آواز اٹھائیں، اپنی اسکول گئی بچی کے  تحفظ کے لئے باہر نکلیں، ان کی عصمت کے لئے سلوگن اُٹھائیں۔ ان کو جہیز میں شعور و تعلیم دیجئے، ان کو نسل کا ذمہ دار سمجھیں۔ ان کی نظر سے دنیا کو پرکھیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *