پنجابی: ایک بدتمیز زبان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے دیس میں پنجابی کے حوالے سے تھوڑے وقفے کے بعد کوئی نہ کوئی ایسی خبر آ ہی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں گھر میں اپنے بچوں سے اردو بولنے والے پنجابی ”پُھوڑی“ ڈال کر سینہ کوبی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ چند دن واویلا ہوتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔

یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے۔ جہاں کے دانشور ایک زمانے میں ”اردو، بولو، اردو لکھو، اردو کھاؤ، اردو پہنو“ جیسے سبق پڑھاتے رہے ہیں، وہاں اس قسم کے واقعات پراچنبھا نہیں ہونا چاہیے جو کل ایک خاتون کے حوالے سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اسی قسم کا واقعہ چند سال پہلے بھی پیش آیا تھا، جب پاکستان کے ایک مہنگے سکول کے بچوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ سکول کے احاطے میں پنجابی نہیں بولیں گے۔ یقیناً اس کی وجہ بھی پنجابی کا ایک بدتمیز زبان ہونا ہو گا۔

میں ایک شدید قسم کا دیہاتی ہوں۔ پنجابی کے بدتمیز زبان ہونے کی خبر مجھے پہلی بار 1970 میں ہوئی تھی۔ لاہور میں میرا ایک دوست انگریزی کی ٹیوشن پڑھانے جایا کرتا تھا۔ اُس نے بتایا کہ جس گھر میں وہ انگریزی پڑھاتا ہے، اُن کے بچوں کو پنجابی بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اگر کوئی بچہ پنجابی کا کوئی فقرہ بول دے تو ماں باپ ایک دم سے ٹوک کر کہتے ہیں ”بیٹا! بدتمیزی نہیں کرتے“۔

میں اس بات سے واقف نہیں ہوں کہ سکول میں پنجابی بولنے سے روکنے پر سکول کے خلاف کس قسم کا احتجاج ہو اور اگر ہوا تو اُس کا کیا نتیجہ نکلا۔ البتہ ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک احتجاجی جلسہ ہوا تھا۔ اور خاصی آہ و زاری اور غم و غصے کے اظہار کے علاوہ مادری زبان کے فوائد پر بھی روشنی ڈالی گئی تھی۔

ایک صاحب نے ایک ”تحقیقی“ مقالہ پڑھا تھا جس کے مطابق اُن بچوں کے لیے مقامی زبان نارویجن سیکھنا آسان ہے، جو اپنی مادری زبان پر دسترس رکھتے ہوں۔ کیونکہ ایسی صورت میں بچے کے ذہن میں چیز کا کانسیپٹ پہلے سے موجود ہوتا ہے، بس اُسی کانسیپٹ کے لیے لفظ تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ اور اگر کانسیپٹ پہلے سے موجود نہ ہو تو نئی زبان سیکھنا مشکل ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی ”کُرسی“ کے لفظ سے واقف ہے تو اُسے نارویجن سکھانا آسان ہو گا کہ اُسے کہا جا سکتا ہے کہ جسے تم کرسی کہتے ہو، اُسے نارویجن میں ”ستوُل“ کہتے ہیں۔ اور اگر وہ کرسی کے لفظ سے ناآشنا ہے تو نارویجن کا لفظ ستوُل سیکھنا اُس کے لیے مقابلتاً مشکل ہو گا۔

اتفاق سے اس جلسے کے منعقد کرنے والے ”اصلی تے وڈّے“ مارکسسٹ تھے۔ پتہ نہیں یہ بات اُن کی نظروں سے کیسے اوجھل رہ گئی کہ اُن کے فلسفے کے مطابق معروض کو موضوع پر فضیلت حاصل ہے۔ اگر چیز موجود ہے تو اُس کے لیے نیا لفظ سیکھنا مشکل نہیں ہوتا، خواہ بچے کو اس چیز کے لیے مادری زبان کا لفظ آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ مثلاً اگر کسی کے سامنے کُرسی رکھ کر کہا جائے کہ اسے ہم نارویجن میں ”ستول“ کہتے ہیں تو وہ بچہ باآسانی اس لفظ کو سیکھ جائے گا خواہ اُس نے پہلے سے ”کُرسی“ کا لفظ نہ بھی سیکھا ہو۔

بہر حال اس دلیل کو ناروے میں بہت زیادہ استعمال کیا گیا، جس کی بنیاد پر ناروے میں ”مادری زبان کے اساتذہ“ نامی عہدہ وجود میں آیا، اور ہمارے لوگوں کے لیے سکول میں ملازمت کے دروازے کھلے۔ لیکن زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ناروے میں سب پاکستانیوں کی مادری زبان اردو قرار پائی، حالانکہ 90 فیصد سے زائد کا تعلق تحصیل کھاریاں کے نواحی دیہات سے ہے۔ اردو بولنے والوں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ مادری زبان کے حوالے سے ناروے میں وجود میں آنے والی ملازمتوں کا اس تحریر سے گو کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن اس لیے اس کا ذکر کرنا مناسب سمجھا کہ پنجابی زبان کے لیے ڈالی گئی اس ”پُھوڑی“ یعنی اس جلسے میں اس مقالے یعنی بچوں کا پہلے سے اردو جاننے سے نارویجن زبان سیکھنے میں آسانی کو پنجابی زبان کے دفاع کی خاطر پڑھا گیا تھا۔

مادری زبان سے جذباتی وابستگی ایک فطری سی بات ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو آپ سیکھتے نہیں بلکہ ورثے میں ہی مل جاتی ہے۔ یہ وہ واحد زبان ہے جس پر آپ کو اس قدر عبور حاصل ہوتا ہے کہ آپ کا کوئی جملہ گرامر کے حوالے سے غلط نہیں ہو سکتا، کسی لفظ کی ادائیگی غلط نہیں ہو سکتی۔ دوسری کسی بھی زبان پر آپ جس قدر بھی محنت کر لیں، لیکن آپ کو وہ روانی، وہ اعتماد حاصل نہیں ہو گا، جو روانی اور اعتماد آپ کو مادری زبان بولتے حاصل ہوتا ہے۔ آپ کے کبھی ذہن میں نہیں آئے گا کہ آپ کا فقرہ گرامر کے حوالے سے غلط ہو سکتا ہے۔ آپ بولتے وقت الفاظ ڈھوندتے نہیں بلکہ الفاظ آپ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔

میں بھی پنجابی ہوں، پہلی جماعت سے اردو پڑھی۔ ایف اے تک اردو لازمی مضمون تھا۔ بی اے میں دوسرے مضامین تھے لیکن ذریعہ تعلیم اردو ہی تھی۔ گو فارسی اور انگریزی بھی پڑھی ہے لیکن میرے لیے پنجابی ہی وہ واحد زبان ہے جسے بولتے وقت مجھے الفاظ تلا ش نہیں کرنے پڑتے، فقرے کی ساخت یا گرامر کا سوچنا نہیں پڑتا۔ سب کچھ خود بخود ہو جاتا ہے۔ میرے لہجے میں کس قدر پنجابیت ہے، اس کا احساس مجھے تب ہوا جب چند سال پہلے اپنے دوست اور بمبئی سے شائع ہونے والے سہ ماہی ”اثبات“ کے مدیر اشعر نجمی سے پہلی بار بات ہو ئی، تو سب سے پہلا فقرہ جو انہوں نے مجھے کہا وہ یہ تھا ”آپ کے لہجے میں بہت سخت قسم کی پنجابیت ہے“۔

مجھے پنجابی ہونے یا پنجابی بولتے وقت کبھی شرمندگی محسوس نہیں ہوئی۔ لیکن بحالت مجبوری پنجابی کے علاوہ دوسری زبانیں بھی استعمال کرتا ہوں۔ مجھے پنجابی سے محبت ہے، کیونکہ میں ایک پنجابی ہوں۔ میرے بچے روانی سے پنجابی بولتے ہیں، گو اُن کا ذخیرہ الفاظ محدود ہے۔ میری بیٹی کو بچپن میں اردو کی بجائے پنجابی بولنے کی وجہ سے اپنے جیسے پنجابیوں کے ہاتھوں امتیازی سلوک کا سامنا بھی ہوا۔ مجھ پر بھی بہت تنقید ہوئی کہ ”پڑھا لکھا“ ہونے کے باوجود میرے بیٹی اور ان پڑھ لوگوں کے بچوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔

میری پنجابی زبان سے محبت اپنی جگہ، لیکن کچھ معروضی سچائیاں یا حقائق ایسے ہیں جو اس بات کا اقرار کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ پنجابی زبان مر چکی ہے۔ میں پنجابی زبان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے دُکھی بھی ہو سکتا ہوں اور اسے ایک فطری عمل سمجھ کر اپنے آپ کو دلاسا بھی دے سکتا ہوں۔ کیونکہ پنجابی کا مرنا کوئی ایسا انہونا واقعہ نہیں ہے، جس کا سامنا اس سے پہلے کسی دوسری زبان کو نہیں ہوا۔

انسانی تاریخ میں بہت سی زبانیں پیدا ہوئیں اور ختم ہو گئیں۔ پنجابی بھی اُسی راہ پر گامزن ہے۔ کچھ عرصہ پہلے بی بی سی اردو پر پڑھا تھا کہ شمالی علاقوں میں کوئی زبان ہے جس کے بولنے والے صرف دو انسان رہ گئے ہیں، اُن کے مرنے کے بعد اُس زبان کو بولنے والے ایک انسان بھی نہیں رہے گا، چنانچہ وہ زبان صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔ یہی کچھ پنجابی سمیت بہت سی زبانوں کے ساتھ ہونے جا رہا ہے۔

جس زبان کو لکھا پڑھا نہیں جاتا، بولا نہیں جاتا وہ زبانیں مر جاتی ہیں۔ پنجابی جو صرف بولنے تک ہی محدود ہے۔ اب لوگ اسے بولنے سے بھی کتراتے ہیں۔ ناروے میں اگر ایک پنجابی خاتون پنجابی زبان کی بجائے اپنے بیٹے سے یوں اردو بولے، ”قاسم، نیچے لتھ (اُتر) جاؤ“۔ یا ایک اور خاتون اپنے بیٹے سے یوں سوال کرے ”شید (شاہد) کو بول ( مُوت) آیا ہے“؟ تو سمجھ لینا چاہیے کہ پنجابی مر چکی ہے۔ اور ہم جس قدر بھی آہ و زاری کر لیں، غم و غصے کا اظہار کریں، یہ مردہ یا جان بلب زبان زندہ ہونے سے رہی۔ اگر لاطینی، آرامی اور سنسکرت جیسی بڑی زبانیں ختم ہو گئی ہیں تو پنجابی کس کھیت کی مولی ہے۔

زبانوں کی زندگی یا موت کا تعلق صرف پنجابی تک ہی محدود نہیں ہے۔ اردو جسے پروان چڑھانے کے لیے ہم نے دیگر ”علاقائی“ زبانوں کو قبل از وقت موت کے سفر پر روانہ کیا ہے، وہ اردو بھی موت کی راہ پر گامزن ہے۔ اردو جو ہر قسم کی سرپرستی کے باوجود اس قابل نہیں ہو سکی کہ اس میں علمی کا م کیا جائے، جو صرف ادب اور شعر و شاعری کی زبان ہے، وہ بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ پائے گی۔ شاید اگلے پچاس سال کے بعد اردو بھی اُسی مقام پر ہو گی جہاں آج پنجابی ہے۔ اردو بولنے تک محدود ہو جائے گی، اردو میں شعر و شاعری ہوا کرے گی۔ باقی کام انگریزی سنبھال لے گی۔

جس زبان میں علمی کام نہیں ہوتا، جو زبان علم پیدا نہیں کرتی، جس زبان میں نئے لفظ پیدا نہیں ہوتے بلکہ دوسری زبانوں سے مستعار لیے جاتے ہیں، وہ زبان زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہ سکتی۔ مستعار شدہ الفاظ کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہے اور یوں زبان ختم ہو جاتی ہے۔ سکول کو اسکول، سٹیشن کو اسٹیشن، سپون کو اسپون کہنے، لکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اردو کس سمت میں سفر کر رہی ہے۔ اور پھر یہ زمانہ حال کے عام استعمال کی چیزوں کو دیکھیں۔ کمپیوٹر، ماؤس، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، کی بورڈ، انٹرنیٹ، موبائل وغیرہ، ہمارے پاس ان کے لیے کوئی لفظ نہیں سوائے اس کے کہ ہم نئے غیر ملکی الفاظ کو جوں کا توں قبول کر لیں۔

جوں جوں وقت آگے بڑھ رہا ہے، ہماری زندگی تبدیل ہو رہی ہے، ہمارے ارد گرد کا ماحول، ہماری اشیائے استعمال، اور اُن سے جڑے تصورات بدل رہے ہیں، یا درآمد ہو رہے ہیں۔ اب گھڑے ختم ہو گئے ہیں، منرل واٹر کا لفظ میرے گاؤں میں عام استعمال کا لفظ ہے۔ میرے بچپن کی کتنی چیزیں اب موجود نہیں رہیں، اور نہ اُن سے منسلک الفاظ موجود رہے ہیں۔ اور یہی حال اردو کا ہے۔ زندگی بدل رہی ہے، اور اس بدلتی زندگی کے نتیجے میں جہاں پنجابی ختم ہوئی ہے، یوں اردو بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔

کیا ہمیں دُکھی ہونا چاہیے کہ ہماری زبانیں ختم ہو رہی ہیں، ہمارے روز مرہ کے طور طریقے ختم ہو رہے ہیں، رسوم و رواج ختم ہو رہے ہیں، یعنی ”ہماری ثقافت“ پر بیرونی ثقافت حملہ آور ہے؟

تمام زبانیں، رسوم و رواج، عقائد ایک خاص قسم کے ماحول کی پیداوار ہیں، جوں جوں وہ حالات تبدیل ہوتے ہیں تو انسانی زندگی سے متعلق چیزیں اور تصورات بھی بدل جاتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ فاصلے کم ہو رہے ہیں۔ ہم واقعی ایک گلوبل گاؤں بننے جا رہے ہیں۔ اور اس گلوب گاؤں کی ایک زبان ہو گی۔ اور وہ زبان وہی ہو گی جو ایک زندہ زبان ہو گی۔ اور زندہ زبان وہ ہوتی ہے جس میں علمی کام ہوتا ہو، جو نت نئے الفاظ پیدا کرتی ہے۔

اور نت نئے الفاظ وہیں پیدا ہوتے ہیں جہاں نت نئی ایجادات ہوتی ہوں، جہاں نت نئی دریافتیں ہوتی ہوں، جہاں علم پیدا ہوتا ہے۔ جو معاشرے علم تخلیق کرنے کی بجائے علم کو درآمد کرتے ہیں اور مانگے تانگے کے الفاظ سے کام چلاتے ہوں، یا علم کو اپنے معاشرتی یا دینی تعصبات کی وجہ سے رد کرتے ہیں، وہاں کی صرف زبانیں ہی مردہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ معاشرے بھی مر جاتے ہیں۔

شاید یہ دعویٰ قبل از وقت ہو گا کہ ایک وقت آئے گا کہ سب زبانیں ختم ہو جائیں گی، یا شاید اُن کی اہمیت زبان کی بجائے بولی کی ہو۔ لیکن پورے سیارے پر ایک ہی زبان ذریعہ تعلیم اور ذریعہ ابلاغ ہو گی۔ اور وہ زبان انگریزی ہو گی۔ جب تک وہ وقت نہیں آتا، ہم پنجابی کو گھٹیا زبان کہنے پر ا نپے غم و غصے کا اظہار کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply