خاتمے کے خطرے کی شکارچترالی زبانیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چار سے پانچ لاکھ کی آبادی والے چترال کے انتظامی سطح پر دو اضلاع میں تقسیم والے علاقے میں 14 زبانوں کا وجود اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لئے کافی ہے کہ یہ دور افتادہ علاقہ ثقافتی، تجارتی اور سیاسی سطح پر ہمیشہ سے اہمیت کا حامل رہا ہوگا۔ سینٹرل ایشیاء کے اکثرتجارتی راستے جدید سفری سہولتوں سے پہلے اسی علاقے سے گزرتے تھے۔ ان تجارتی قافلوں کو اس علاقے کی افادیت کا بھی بخوبی اندازہ ہوگا اور اتنی اہمیت کے حامل علاقے میں رہائش رکھناہر ایک کے لئے اولین ترجیح رہی ہوگی۔

یہ ترجیح مختلف قسم کی بول بولنے والوں کو اس تنگ سی وادی میں جمع کرتا گیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ اس چھوٹی سی وادی میں 14 مختلف زبانین بولنے والے لوگ آباد ہوگئے۔ ان کی نسل آج بھی چترال کے کسی نہ کسی کونے میں آباد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گرے ہوئے ہونے کے باوجود اس وادی میں بیک وقت 14 زبانیں بولی جاتی ہیں۔

سفری سہولتوں میں جدت کے ساتھ راستوں کا تعین بھی نئے سرے سے طے ہونے لگے۔ سمندری جہازوں، ریل گاڑیوں، گاڑیوں اور پھر ہوائی جہازوں نے ان تمام زمینی راستوں کو کہانیوں کا حصہ بنادیا۔ نہ صرف ان زمینی راستوں کو بلکہ ان پہاڑی اور دشوار گزار گزرگاہوں کے مکینوں کو بھی یکسر فراموش کردیا گیا۔ تجارتی راستے بند ہونے لگے مکینوں نے روزگار اور زندہ رہنے کے لئے ہجرت کو فوقیت دینا شروع کیا۔ ہجرت سب سے زیادہ ان لوگوں کی زبانوں پر اثر انداز ہوئی۔ اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ وسائل کی کمی اور علاقے سے متواتر ہجرت نے چترال کی تمام زبانوں کو معدومیت کے خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

اس خطرے کی نشاندہی یونیسکو کے 2009 کے ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی چھ ہزار زبانوں میں ڈھائی ہزار زبانیں خاتمے کی خطرے سے دوچار ہیں۔ پاکستان میں بولی جانے والی 74 زبانوں میں سے ستائس زبانیں بھی اس خطرے کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چترال جیسے دور افتادہ علاقے کی تقریباً تما م زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ رپورٹ اس لئے بھی سچ معلوم ہورہی تھی کہ چترال میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان ”کھوار“ تک کے لئے اس وقت کوئی باقاعدہ رسم الخط موجود نہیں تھا۔

حالانکہ ”کھوار“ میں شاعری اور وہ بھی بہت بڑے پیمانے کی شاعری صدیوں سے جاری رہی ہے۔ اگرکوئی رسم الخط موجود بھی تھا تو اسی رسم الخط کو استعمال کرتے ہوئے کوئی نثری مواد، شاعری یا پھرکوئی بھی علمی مواد دستیاب نہیں تھا۔ ادب سے وابستہ افراد سب ”کھوار“ لکھنے میں اپنی مرضی کے مالک تھے۔ چترال میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان جس سے چترال کی تقریباً 99 فیصد لوگ سمجھتے اور بولتے ہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے خاتمے کی طرف بڑھ رہا تھا۔

یونیسکو کی اس رپورٹ کے بعد چترال سے صرف چار نوجوان اکٹھے ہوتے ہیں۔ وہ چترال کی تمام زبانوں کو معدومیت کے خطرے سے باہر نکالنے کے لئے ذاتی وسائل سے کام کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ چار افراد ”میئر“ کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھتے ہیں اور اسی ادارے کے پلیٹ فارم سے چترال میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبان ”کھوار“ کی نثری مواد کو ترقی دینے، نوجوان نسل کو ”کھوار“ لکھنے کی طرف راغب کرنے اور بطور زبان ”کھوار“ کو محفوظ بنانے کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔

2010 میں اپنے قیام سے لے کر اب تک ”میئر“ کھوار زبان کے دستیاب ہر صنف محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کھوار کیلنڈر سے لے کر کھوار زبان کی پہلی ناول، شعری مجموعوں سمیت کھوار زبان میں ایک باقاعدہ سہ ماہی شمارے کا اجرا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ انہی نوجوانوں کی کاوشوں سے ”کھوار“ زبان کا باقاعدہ نصاب تیار ہو کر خیبرپختونخواہ کے سرکاری اسکولوں کے پرائمری کلاسوں میں پڑھایا بھی جارہا ہے۔ جو کہ آنے والی نسل میں اپنی زبان کو منتقل کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔

ان چار افراد کی کاوشوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ معدومیت کے شکار کسی بھی زبان کو بچانے کے لئے ہم بہت کم وسائل کے باوجود حیران کن کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں۔ میئر کے قیام اور صرف دس سال کی محنت نے کم از کم معدومیت کے شکار چترال کی سب سے بڑی زبان ”کھوار“ کو اس دائرے سے باہر لانے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ چار افراد کی یہ کامیابی دنیا کے ان ڈھائی ہزار زبان بولنے والوں اور پاکستان میں خاتمے کے خطرے سے دوچار ان 27 زبان بولنے والوں کے لئے بھی ایک مشعل راہ ہے۔

ان کی کاوشیں یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ کچھ مشترکہ اور قومی مفادات کے کام ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہم حکومتی امدادکے منتظر رہ کر تاریخ کا حصہ تو بناسکتے ہیں مگر ان کو اپنی آنے والی نسل کو منتقل نہیں کرسکتے۔ اس کامیابی کے بعد یہ لوگ حکومت وقت سے یہ تقاضا کرنے میں حق بجانب ہیں کہ چترال کی ایک زبان ہم بچانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ معدومیت کے شکار باقی زبانوں کو بچانے کے لئے حکومتی سطح پر بھی اقدامات ہونے چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *