ہندوستانی غلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں ہمارے وزیر اعظم نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے حکمران کو بھری محفل میں ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترکوں نے چھ سو سال تک ہم پر حکومت کی تھی۔ شاید ہمارے وزیر اعظم کا اشارہ سلطنت دہلی اور مغل حکمرانوں کی طرف تھا۔ خیر ترک حکمران نے آداب مہمانی کا پاس رکھتے ہوئے اس بات پر کچھ تبصرہ نہیں کیا۔ اس بات سے قطعہ نظر کہ سلطنت دہلی اور مغل حکمرانوں کا نسلی پس منظر کیا تھا، اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ان بیرونی حکمرانوں نے مقامی باشندوں پر کس طرح کے مظالم روا رکھے تھے۔

اس دور جدید میں غلامی کو انسانیت کے خلاف جرائم میں سے اک جرم تصور کیا جاتا ہے۔ ماضی میں غلامی کی تجارت میں ملوث رہنے والے بہت سے ممالک اپنے ماضی پر پشیمانی کا اظہار کرچکے ہیں۔

سلطنت دہلی اور ازبکوں ( مغلوں ) کے برصغیر پر تسلط سے قبل بھی یہاں غلامی کا رواج تھا جسے آپ مقامی غلامی کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کی غلامی میں غلاموں کو بیرونی منڈیوں میں فروخت کرنے کا رواج نہیں تھا اور نہ ہی ہنرمند افراد کو غلام بنانے کی روایت تھی۔

ہندوستان پر قابض مسلم حکمرانوں نے پہلے سے موجود غلامی کو ختم کرنے کے بجائے اسے اک نیا رخُ دیتے ہوئے غلامی کو ترویج دی اور ہنرمند باشندوں کو غلام بنا کر وسط ایشیا کی منڈیوں میں فروخت کرنا شروع کردیا۔

ہندوستان سے وسط ایشیا کو منتقل کیے جانے والے غلام عام طور پر ہندوُ اور غیر سنیُ مسلمان ہوتے تھے۔ موجودہ افغانستان اور ایران سے شیعہ عقائد رکھنے والے ہنر مند افراد کو غلام بنا کر فروخت کیا گیا تھا۔ برصغیر سے لائے جانے والے ہندو غلاموں کو زراعت، گلہ بانی اور تعمیرات کے شعبوں میں استمعال کیا جاتا تھا جبکہ ہنرمند جولاہوں کو کپڑا بنانے کی صنعت کے لئے غلام بنا کر لایا گیا تھا۔

سترہویں صدی میں لکھی جانے والی مشہور کتاب ”مطلب الطالبین“ کے مطابق ایک نقشبندی شیخ خواجہ احرار کے پاس پانچ سو سے زائد ہندوستانی غلام تھے جن میں چالیس کمہار تھے دیگر بڑھئی، گلہ بان، مستری اور زراعت کا کام کرنے والے تھے گویا غلاموں کے ہنر پر حضرت شیخ کی گدی پھل پھُول رہی تھی۔ ہندوستان سے لائے جانے والے غلاموں سے نہریں کھدوانے اور بھٹوں میں اینٹیں بنوانے کا کام بھی لیا جاتا تھا، گویا بھٹا مزدوری کی جڑیں ہندوستان سے وسط ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں۔

وسط ایشیا کی منڈیوں میں ایران و ہندوستان سے ہنرمند غلاموں کی طلب بہت زیادہ تھی کیونکہ ہندوستان کو نوآبادی بنانے سے وسط ایشیا کے وسائل میں قابل قدر اضافہ ہوا تھا۔ مفتوح اقوام کے ہنرمندوں کو غلام بنانا اک پرانی روایت تھی مثال کے طور پر تیمور کے دور میں اک بڑی تعداد میں ہندوستانیوں اور ایرانیوں کو غلام بنا کر ثمرقند لایا گیا تھا جہاں بی بی خانم کا مقبرے کی شاہکار تعمیر ایرانی ہنرمندوں کے ہاتھوں ہوئی تھی۔

چونکہ ہندوؤں کو کافر تصور کیا گیا تھا اس لئے ہندو غلاموں کی وسط ایشیا میں زیادہ مانگ تھی۔ اسی طرح ازبکوں اور صفویوں کی جنگوں کے دوران ازبکوں نے شیعہ صفویوں کو غیر مسلم تصور کیا تھا اس لئے ایران اور افغانستان سے بڑی تعداد میں شیعہ ہنرمندوں کو غلام بنا کر وسط ایشیا کی منڈیوں میں فروخت کیا گیا تھا۔ وسط ایشیا کے چھاپہ مار لڑاکوں نے روُس، کیو اور تاتارستان کے علاقوں سے بہت سے روسی ہنرمندوں کو بھی اغوا کرکے غلام بنایا تھا۔

اک تاریخی دستاویز کے مطابق ازبک حاکم شیبانی خان کی قازق حکمران پر فتح میں اک چودہ سالہ ہندوستانی غلام نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ چودہ سالہ ہندوستانی غلامُ قازق آقا کے چنگل سے بھاگ نکلا تھا، اسُ نے قازق حاکم طانش سلطان کی افواج کی پیش قدمی کی خبر شیبانی خان کو دی تھی۔ اس خبر کی وجہہ سے شیبانی خان جنگ جیتنے میں کامیاب ہوا تھا۔ ازبک حاکم نے اس فرار ہونے والے ہندوستانی غلام کو ”خوش خبر“ کا لقب دیا تھا۔

لشکر کشی کے علاوہ غلاموں کی منتقلی تجارتی کاروانوں کے ذریع بھی ہوتی تھی۔ ایک پرتگالی عیسائی مورخ کی یادداشتوں کے مطابق پنجاب میں گھاگر نامی قبیلہ لاہور سے کابل جانے والے قافلوں کے لئے مقامی غلام فراہم کرنے کے کام کی دلالی کرتا تھا۔ وسط ایشیا کے عروج کے زمانے میں اک محاورہ زد زبان عام تھا ”غلام ہندوستان کے اچھے اور گھوڑے پارتھیا ( ترکی) کے“۔ مغل بادشاہوں میں یہ دستور عام تھا کہ جب وہ وسط ایشیا کے حکمران دوستوں کو ہندوستانی تحائف بھیجتے تھے تو ان تحائف میں ہندوستانی غلام بھی شامل ہوتے تھے۔

فاتحین کی ہندوستانیوں کو غلام بنا کر فروخت کرنے کی ریت عربوں کو سندھ فتح کرنے سے ہی شروع ہوگئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ سے ہزاروں مردوں اور عورتوں کو غلام بنا کر عرب کی منڈیوں میں روانہ کیا تھا۔ تاریخ فرشتہ کے مطابق صرف محمود غزنوی دو لاکھ کے لگ بھگ ہندوستانی باشندوں کو غلام بنا کر لے گیا تھا، ان غلاموں میں سے ایک لاکھ غلاموں کا تعلق ملتان اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں سے تھا۔ سلطنت دہلی کے تسلط کے زمانے میں ہندوستان سے وسط ایشیا کو غلاموں کی فراہمی اتنی بڑھ گئی تھی کہ غلاموں کی منڈیوں میں غلاموں کی قیمتیں گرگئی تھیں۔

علاؤالدین خلجی کی ملکیت پچاس ہزار غلام لڑکے تھے جبکہ فیروز تغلق کا ایک لاکھ اسی ہزار غلام رکھنے کا دعوی تھا۔ ایک آرمینائی تاجر کی یادداشتوں کے مطابق وسط ایشیا کے شہر خیوہ میں تیس ہزار ایرانی اور تین ہزار روسی غلامُ موجود تھے۔ سمرقند و بخارا کی غلاموں کی منڈیاں وسط ایشیا ایشیا کی سب سے بڑی منڈیاں تھیں جہاں لاکھوں کی تعداد میں ہندوستانی غلام فروخت کے لئے موجود تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب کسی بھی خطے سے ہنرمند افراد کو نکال دیا جائے تو وہ خطہ معاشی ترقی میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ باہر سے آئے ہوئے حکمرانوں نے جو یہ گھاؤ ہندوستان کو لگایا تھا وہ زخم شاید ابھی تک نہیں بھر پایا ہے۔ وسط ایشیا پر روسی غلبے کو بھی قابل تحسین نہیں سمجھا جاسکتا ہے لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ روسی غلبے نے وسط ایشیا سے غلامی کا خاتمہ کردیا تھا۔

مندرجہ بالا تحریر کو ”رائل ایشیاٹک سوسائٹی، گریٹ بریٹن اور آئرلینڈ“ کے تحت شائع ہونے والے علمی مقالے سے اخذ کیا گیا ہے جس کے مصنف ”اسکاٹ سی لیوی“ ہیں۔ ان کا مقالہ کیمبرج یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *