بیٹی کے پیلے ہاتھ اور نیلے ہونٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"leena

کچھ دن جاتے ہیں کہ کوئٹہ سے ویگنوں پر لدی چونسٹھ لاشیں خواب وخیال ہوں گی۔ اب شور ہے کہ دارالحکومت بند ہو گا کہ نہیں۔ یہ بھی خامشی میں ڈھل جائے گا ۔ پھر ایک نیا غلغلہ اٹھے گا ۔ ایک نیا طوفان دستک دے گا ۔ پھر وہ بھی تھم جائے گا۔ یونہی شب وروز گزریں گے۔ ایک المیے سے دوسرے المیے تک کا سفر یونہی چلتا رہے گا پر مجھ سے لوگ تو ابھی پچھلے دکھوں کا بوجھ اتار نہیں پائے، نئے دکھ کہاں سے اٹھائیں۔ تو پرانا قصہ سنا دوں ۔ برا تو نہیں مانیں گے۔

کل رات دل کے دروازے پر اس قصے نے پھر دستک دی۔ نجانے کیوں۔ میں گھبرا کر اٹھی۔ خواب تھا، خواب ہی ہو گا۔ سوچا خواب کی تصویر بنائیے۔ اسی طرح ژولیدہ مو، ننگے پاؤں قلم اور کاغذ ڈھونڈنے نکلی۔ ہاتھ ابھی کانپتے تھے جب قلم تھاما۔ کاغز پر نوک قلم رکھی تو لفظ نہیں ٹپکے ، ایک نقش سا کھنچ گیا، چوبیس سالہ فاطمہ کا نقش۔ ایک خاموش نقش، کہیں کہیں چہرے پر لہو کے دھبے تھے، کہیں آنکھوں میں ہلکورے لیتے کچھ سوال۔ اور میں اسے تکتی تھی، سوالوں کے جواب تلاشتی تھی پر مفلس کی جیب کی طرح ذہن بھی خالی تھا اور دل بھی۔

کچھ دیر یونہی ہم ایک دوجے کو تکتے رہے پھر اس کے ہونٹوں پر ایک زخمی مسکراہٹ بکھری اور لفظ بولنے لگے، اسی کی زبانی ۔

جانتی ہیں نا مجھے ۔ میں ہوں فاطمہ، وہی فاطمہ جس کو چند روز قبل کوئٹہ میں چار خواتین کے ساتھ بڑی چھان پھٹک کے بعد، خوب پہچان کر گولیوں کی باڑھ پر رکھا گیا تھا۔ دو روز، نہیں شاید تین روز تک تو میڈیا والوں نے بہت واویلا کیا۔ کچھ نرم دل حضرات نے افسوس بھی کیا۔ کچھ آپ جیسوں نے کالم اور بلاگ بھی لکھ مارے۔ حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے مذمتی بیان بھی آئے۔ ہزارہ کے لوگوں کے زخم پھر چاقو کی نوک سے کریدے گئے۔ پھر سب اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ جو خون روز بہتا ہو اس کی ارزانی پر کتنے دن کوئی تشویش کرے۔

پر سچ کہوں، مجھے اپنے ہم وطنوں سے اس بات کا گلہ نہیں کہ وه اس قدر جلدی مجھ کو بهول گئے بلکہ خوشی ہے کیوں کہ اس طرح کے واقعات کو جلد بھلا دینے میں ہی ان کی عافیت ہے۔ کندھوں پر دکھوں کا بوجھ اٹھا کر چلنا بڑی اذیت کا کام ہے، کوئی ہزارہ قبیلے سے پوچھے۔ یہ آپ لوگ بھولنے اور بھلا دینے کی روایت کے امین ہو۔ خوش قسمت ہو کہ اس عذاب سے محفوظ ہو۔
یہ عذاب کیسا ہوتا ہے ، جاننا ہے تو جا کر میری ماں سے ملو۔ میری ماں مجھے روز یاد کر کے اپنے آنچل کو بھگو لیتی ہے۔ میری تصویر کو بوسے دیتے دیتے اس کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں۔ بستر کی چادر پر بار بار ہاتھ پھیر کر مجھے محسوس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ میرے کپڑوں میں بسی خوشبو کو اپنے سینے سے لگائے زاروقطار روتی ہے۔

\"bangles-008\"

میری میز پر رکھی چوڑیوں کو اپنے ہاتھوں سے چھوتی ہے تو اسے اس میں سے چھن چھن کی آواز تو سنائی ہے پر میری کلائی دکھائی نہیں دیتی۔ میری ماں میری موت سے چند روز قبل بڑی محبت سے جو دوپٹہ میرے لیے موتیوں سے سجانے میں مصروف تھی، جس میں صرف چند موتی لگانا باقی تھے اسکو تھامے روز اب اپنے آنکھوں کے موتیوں سے بھر دیتی ہے پر پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوتی اس لیے بڑے تسلسل سے اس کام کو میری موت کے بعد انجام دیتی ہے۔

میری ماں میری سنگھار کی میز سے اسے ملی ایک کاجل کی ڈبی کو لیے بیٹھی رہتی ہے اور میری ان آنکھوں کو تلاش کرتی ہے جن کو بند ہوئے ہوئے اب کئی دن بیت چکے ہیں۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے اب بھی انکاری ہے کہ میری آنکھیں مٹی میں مل گئی ہیں۔ میری کتابوں بھری شیلف میں رکھی کتابوں کو تو میری ماں پڑھ نہیں سکتی مگر جب میرے مردہ جسم کوہسپتال کی سرد سل پر میری ماں نے دیکھا تو میرے چہرے پر کھنڈی زردی اور میرے نیلے پڑ گئے ہونٹوں پر رقم کرب کو پڑھنے اور سمجھنے میں اسے کوئی دقت نہیں ہوئی۔ اس ایک لمحے میں اس نے میری دہشت، میرا خوف، میری چیخیں، میری فریادیں، میرے جسم میں اترتا سیسہ اور میری کھنچتی روح سب کو میرے ساتھ گزار لیا ۔ قیامت وہ نہیں تھی جو مجھ پر گزری کہ وہ گزر گئی ہے اور اب مجھ میں کوئی احساس باقی نہیں۔ قیامت وہ ہے جو میری ماں پر روز گزرتی ہے کہ مرنا اس کے اختیار میں نہیں اور جینا وہ چاہتی نہیں ہے۔ وہ میرے آخری لمحوں کی اذیت بار بار جیتی ہے ۔ اور اگر موت کے اس پار کوئی عذاب ہے تو خدا وہ عذاب اس سے برا کیا ہو گا۔

میری ماں رات کو اب بھی میرے بستر کے سرہانے پانی سے بھرا گلاس رکھنا نہیں بھولتی۔ ہر صبح وہ گلاس جب اسے پھر بھرا ملتا ہے تو وہ کچھ بے یقینی سے اسے دیکھتی ہے۔ بے شکن بستر کی شکنیں ٹھیک کرتی ہے اور پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتی ہے۔

میرا دل کرتا ہےکہ میں ماں سے کہہ سکوں کہ ماں، میری پیاری ماں، مجھے پتا ہے تم کیوں روتی ہو۔ میں تمہارے بہت سے سپنے ادهورے چھوڑ آئی ہوں نا۔ خاص طور پر وہ سپنوں کا ایک سپنا جس کا ذکر آتے ہی تمہارا چہره چاند کی ماند دمکنے لگتا تھا۔ تمہیں ڈھولک کی تھاپ پر گیت سنائی دیتے تھے، وہ تمہارا مجھے لال جوڑا پہنانے اور ہاتھوں کو پیلا کرنے کا سپنا۔

وہ سپنا جس کی تیاریوں میں تم چند دن پہلے دن رات مصروف تھی۔ پیاری ماں یقین کرو زندگی کے آخری لمحات تمہارا یہ سپنا میرے ذہن میں بار بار آیا پر کیا کرتی۔ لیکن اس دن گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں میرا سفید لباس سرخ ہوتا تھا اور پتہ ہے جوں جوں میرا جوڑا سرخ ہو رہا تھا توں توں میرے ہاتھوں کا رنگ بھی پیلا پڑتا جا رہا تھا۔ لگا جیسے تمہارا سپنا ڈھل رہا تھا پر تم نجانے کیوں اس لال جوڑے اور ہاتھوں کی اس پیلاہٹ کو دیکھ کر غش کھا گئیں۔ مجھے لگتا ہے کہ تم آج کے بعد کس کی بیٹی کو سرخ جوڑے اورہاتھ پیلے ہونے کی دعا نہ دے سکو گی۔

میری ماں مجھے اس روز بلاتی رہی پر میرے نیلے ہونٹ نہ کھلے۔ کوئی آواز لوٹ کر نہیں آئی اس دن۔ کاش میں بول سکتی تو ماں کو کہتی کہ اس اندھیر نگری میں بیٹیاں ہی نہیں، بہت سی مائیں بھی قربان ہوتی ہیں۔ ہو سکے تو ایسے ہی ظلم کا نشانہ بنے والی ماؤں کے بچوں کے پاس جانا جو ایک عرصے سے پیشانی کے بوسے کو ترستے ہیں۔ میری وہ تمام چیزیں جن کو تم برسوں سے میرے جہیز کے لیے جمع کر رہی تھیں وہ اس بچی کو دینا جس کی ماں کو اس کے رخصت ہونے سے پہلے ہی ظالموں نے ایک جبری رخصت پر دنیا کے پار بھیج دیا تھا۔ تم اس بچی کو فاطمہ سمجھ کر اپنی دعاؤں میں رخصت کرنا۔ تم ان بچوں کو اپنے ہاتھ سے کھانا بنا کر دینا جو اب ماں کے ہاتھ کے بنے کھانے میں رچی محبت کو ڈھونڈتے ہیں۔ ان بچوں کے پاس جانا جو راتوں کو اس آہٹ پر کان لگائے بیٹھے ہیں جو ان کے دروازے پر آتی تھی، پھر ان پر درود پڑھ کر دم کر کے لوٹ جاتی تھی۔ اب کوئی ان پر درود نہیں پڑھتا۔ ہو سکے تو تم پڑھ آنا۔ ان کے آنسوؤں کو پونچھنا، انہیں سینے سے لگانا۔ ان کے بالوں میں کنگھی کرنا۔ شاید عذاب کی شدت میں کچھ کمی آ جائے۔ اور کیا کہوں۔ تم میرے لیے دعا کرنا، میں تمہارے لیے کرتی ہوں۔ شاید بھول جانا سیکھ لو تم ایک دن۔ نیلے پڑتے ہونٹوں کو، سرخ ہوتے جوڑے کو اور پیلے پڑتے ہاتھوں کو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “بیٹی کے پیلے ہاتھ اور نیلے ہونٹ

  • 29/10/2016 at 12:31 am
    Permalink

    ہائے افسوس
    جس کو فلک نے لوٹ کر برباد کر دیا
    ہم رہنے والے ہیں اس اجڑے دیار کے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہائے افسوس کہ کیسے بتاؤ کہ میری قوم کا کیا قصور ہے کوئی سنتا نہیں کوئی سننے کو تیار نہیں۔
    اس قوم کا دشمن کوئی نہیں ہاں خدا دشمن ہو گیا ہے مگر کوئی مانتا نہیں۔
    تمہارے پاس ایک شخص آیا تھا کہ اس نے دعوی کیا کہ وہ رسول اللہ کا غلام ہے اور خدا کا نبی ہے۔ مرزا غلام احمد ۔ ۱۲۰ سال پہلے اس نے کہا تھا کہ عذاب منہ کھولے کھڑے ہیں اور خدا نے مجھے تمہارے لیے بھیجا ہے کہ کہ اپنی غلطیاں وقت سے پہلے سدھار لو ان میں جہاد کا غلط عقیدہ بھی تھا اور مرزا صاحب نے واضح بتا دیا تھا کہ اس عقیدہ کو ٹھیک نہ کیا تو خدا کا عذاب ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کی صورت آئے گا اور تم کو برباد کر کے ہی دم لے گا کہ یہ میں نہیں خدا کہتا ہے۔ اب کیا مرزا صاحب کی ۱۲۰ سال پہلے کی کتابوں میں یہ نہیں لکھا اور سیاسی بصیرت سے نہیں خدا کی وحی کے حوالہ سے لکھا ہے۔ مگر قوم نے اس کا انکار کیا اب یا مرزا صاحب کا خدا سچا تھا یا تم اور اب اس عذاب کو سمجھو اور تحقیق کرو خدا سے پوچھو وہ خدا اگر کل بولتا تھا تو آج بھی بولے گا تم اس سے پوچھو تو۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *