اب احباب کہیں گے کہ ہماری عادت ہے ہر بات میں کیڑے تلاش کرنے کی۔ کوچہ جاناں میں ایسے بھی حالات نہیں جیسا ہم کہتے ہیں۔ جن مسائل کی نشاندہی ہم کرتے ہیں یہ آج کی بات نہیں۔ یہ تو روز ازل سے چلتے آ رہے ہیں۔ بس تب سوشل میڈیا نہیں تھا لہذا بات کھلتی نہیں تھی۔ شروع سے یوں ہی ہوتا آ رہا ہے۔بادشاہت کا زمانہ تھا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ بادشاہ نے کیا کر دیا ورنہ تب بھی یہی سب ہوتا تھا۔ لوگ یوں ہی ایک دوسرے کا حق مارتے تھے۔ حق بات کرنے پر زنداں میں ڈال دیے جاتے تھے۔ عورت بھی شروع ہی سے مرد کی ذاتی ملکیت ہے۔ وہ اس کا مالک ہے۔ مختار ہے۔ جو چاہے کرے۔ بس اس زمانے کی عورتیں اس قدر سرکش نہیں تھیں۔ مرد کے کہے کو حرف آخر مانتی تھیں۔ اگر شوہر مار پیٹ بھی کرتا تو اسے اس کا پیار ہی سمجھتیں۔ ہوتا تو شروع سے یہی آ رہا ہے نا۔ بس اب بات کھل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا آ گیا ہے۔ عورتیں سرکش ہو گئی ہیں۔ لوگوں کو حکمرانوں کے سامنے بولنا آ گیا ہے۔ مسئلے وہی ہیں بس سوشل میڈیا آ گیا ہے۔
Read more