دوپٹہ لینے کے دس فائدے

زیادہ اثر کے لئے اپنے معاشرتی اور مذہبی جذبات ایک طرف رکھ کر پڑھیں۔ اس کالم کو ہر قسم کے جنونی خواتین اور حضرات سے دور رکھیں۔ دوپٹہ لینے کے مذہبی اور اخلاقی فائدوں سے بہنیں واقف ہوں گی ہی۔ لہٰذا ان فائدوں پر یہ مضمون نہیں لکھا گیا، یہ معلوماتی کالم محض "علاوہ ازیں” فائدوں پر لکھا گیا ہے۔ فائدہ نمبر 1۔ دوپٹے کا سب سے اہم اور کثرت سے استعمال باورچی خانے میں کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں

Read more

مولانا آپ کی دستار سلامت، ہمیں بھی جینے کا حق دیجئے

مولانا صاحب آپ کی دستار سلامت رہے لیکن ہمیں بھی اپنی مرضی سے جینے کا حق دیجئے۔ مولانا صاحب کیا کبھی ہم نے آپ سے فرمائش کی کہ آپ شلوار قمیض کی بجائے پتلون اور شرٹ پہنا کریں؟ مولانا آپ نے داڑھی کیوں رکھ لی آپ تو کلین شیو میں اچھے لگیں گے۔ مولانا صاحب آپ پر مونچھیں بہت غضب کی لگیں گی۔ مولانا صاحب آپ دستار باندھنا بند کر دیں آپ پر ذرا نہیں جچتی۔ مولانا صاحب آپکی دستار

Read more

انسداد تشدد سنٹر برائے خواتین بند کیا جائے!‎

اب احباب کہیں گے کہ ہماری عادت ہے ہر بات میں کیڑے تلاش کرنے کی۔ کوچہ جاناں میں ایسے بھی حالات نہیں جیسا ہم کہتے ہیں۔ جن مسائل کی نشاندہی ہم کرتے ہیں یہ آج کی بات نہیں۔ یہ تو روز ازل سے چلتے آ رہے ہیں۔ بس تب سوشل میڈیا نہیں تھا لہذا بات کھلتی نہیں تھی۔ شروع سے یوں ہی ہوتا آ رہا ہے۔بادشاہت کا زمانہ تھا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ بادشاہ نے کیا کر دیا ورنہ تب بھی یہی سب ہوتا تھا۔ لوگ یوں ہی ایک دوسرے کا حق مارتے تھے۔ حق بات کرنے پر زنداں میں ڈال دیے جاتے تھے۔ عورت بھی شروع ہی سے مرد کی ذاتی ملکیت ہے۔ وہ اس کا مالک ہے۔ مختار ہے۔ جو چاہے کرے۔ بس اس زمانے کی عورتیں اس قدر سرکش نہیں تھیں۔ مرد کے کہے کو حرف آخر مانتی تھیں۔ اگر شوہر مار پیٹ بھی کرتا تو اسے اس کا پیار ہی سمجھتیں۔ ہوتا تو شروع سے یہی آ رہا ہے نا۔ بس اب بات کھل جاتی ہے۔ سوشل میڈیا آ گیا ہے۔ عورتیں سرکش ہو گئی ہیں۔ لوگوں کو حکمرانوں کے سامنے بولنا آ گیا ہے۔ مسئلے وہی ہیں بس سوشل میڈیا آ گیا ہے۔

Read more

پاکستان میں خواتین صحافیوں کی آن لائن ٹرولنگ

  سینئیر صحافی اور معروف اینکر عاصمہ شیرازی نے 12 جولائی کی صبح ٹویٹ کی کہ انہوں نے 11 جولائی کو لندن سے نکلنے سے ایک رات پہلے نواز شریف کا انٹرویو کیا جس میں انہوں نے اپنے مستقبل کا پلان بتایا مگر بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ انٹرویو نشر نہ ہوسکا۔ اس کے بعد صحافی عاصمہ شیرازی کو مسلسل آن لائن ٹرولنگ کا سامنا ہے۔ انٹرنیٹ پر مسلسل ٹرولنگ کے بعد بہت سے سماجی کارکن، صحافی اور

Read more