صحافی بھی دل والے ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوچہ صحافت میں میرا پہلا پڑاؤ نئی بات اخبار کی رپورٹنگ ڈیسک تھی۔ میں اور شاہ رخ تقریبا ایک ہی دن بطور ٹرینی رپورٹر بھرتی ہوئے تھے۔ ہم روزانہ پہلے پریس کلب یا پھر دیے گئے اسائمنٹ پر جاتے پھر آفس آتے اور رات گئے ایک ہی ساتھ گھر کے لیے نکلتے تھے۔ ہم سے پہلے نکلنے والے کرائم رپورٹر رجب علی اور بعد میں چیف رپورٹر ریاض ساگر ہوتے تھے۔

آفس میں انٹری کے بعد رجب بھائی اور اُن کا فون دونوں ہی خاموش نہیں ہوتے تھے۔ کبھی اِس کو کال تو کبھی اُس کو۔ ریسکیو اور پولیس والوں سے گفتگو بھی انتہائی دلچسپ ہوتی تھی ”آج کا ٹوٹل اسکور کتنا ہے؟ اُس زخمی کی حالت کیسی ہے، صبح تک بچے گا یا نہیں، مار دوں اُسے؟ بتا نہ یار مجھے خبر فائل کرکے گھر کے لیے نکلنا ہے“ صحافت میں ہمارے یہ نئے نئے دن تھے ہم یہ باتیں سُن کر مرعوب بھی ہوتے ہیں اور کچھ عجیب سے کیفیت بھی طاری ہوجاتی تھی۔

وقت گزرتا چلا گیا ہم اخبار سے نیوز چینل میں پہنچ گئے۔ اے پی ایس کے سانحے سے لے کر کئی خودکش حملے اور بم دھماکے دیکھے لوگوں کو چیختے اور مرتے دیکھا۔ نیوز بلیٹن کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے دکھ اور غم کو بیچتے دیکھا۔ آہستہ آہستہ احساس ہونے لگا کہ سارے صحافی بے حس ہیں۔ اِن کے سینے میں دل ہی نہیں ہے۔ اِن کو غم اور کسی کی موت سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔

پر شاید یہاں میں غلط تھا بالکل غلط، صحافیوں کے سینے میں دل ہوتا ہے انتہائی حساس اور کمزور دل۔ اسی لیے تو یہ ایک جھٹکا برداشت نہیں کرپاتے ایک ہی ہارٹ اٹیک کے سامنے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ خوبرو اور گھبرو جوان اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر ہنستے ہنستے موت کو گلے لگالیتے ہیں لیکن دل پر جو گزر رہا ہوتا ہے۔ اُس کی خبر کسی کو نہیں ہونے دیتے۔

دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف اقتدار میں آئی۔ حکومت نے اپنے اشتہارات کا بجٹ تقریباً ستر فیصد کم کرنے کا اعلان کردیا، جس کے بعد میڈیا انڈسٹری شدید مالی مشکلات کا شکار ہوگئی۔ چینلز اور اخبارات میں کہیں ورکرز کی کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روکی گئیں تو کہیں جبری استعفے لے کر انہیں نوکری چھوڑنے پر مجبور کیا گیا یا پھر ڈاؤن سائزنگ کا بہانہ بنا کر خود ہی نکال دیا گیا۔

خاندان کے واحد کفیل، مہینوں سے بیروزگار، فیسیں نہ دینے پر بچے اسکولز سے باہر، گھروں میں فاقوں کی نوبت، سفید پوش صحافی کریں تو کیا کریں۔ نئے پاکستان کے ڈیڑھ سال کے دوران درجن سے زائد صحافی موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ حیرت اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب سچ کی تلاش، ظالم کے سامنے علم بغاوت بلند کرنے یا حق پر ڈٹ جانے کے باعث یہ دنیا نہیں چھوڑ گئے بلکہ اِن سب کی اموات کی وجہ تقریبا ایک ہی ہے اور وہ ہے دل میں اُٹھنے والا وہ درد (ہارٹ اٹیک) جو اِنہیں اُن اخبارات یا ٹی وی چینلز کے مالکان نے دیا جو پاکستان میں سچ کے نام نہاد علمبردار ہیں۔

یقیناً میڈیا کو ملنے والے اشتہارات میں کمی آئی ہے لیکن کتنی؟ حکومت کا اشتہارات میں حصہ تھا پر کتنا؟ کیا حکومت کی طرح نجی کمپنیز نے بھی اشتہارات دینا بند کردیے ہیں؟ پچھلے برس ورلڈکپ گزرا، رمضان ٹرانسمیشنز بھی اچھی ہوئیں اور اب پی ایس ایل۔ اب اور کیا چاہیے؟ یہاں سوالات بہت ہیں پر جوابات دینے کے لیے کوئی تیار نہیں، کراچی سے خیبر تک صحافتی تنظیمیں احتجاج تو کرتی ہیں پر یہ کیسا احتجاج ہے، جس سے مسائل ہی حل نہیں ہورہے ہیں۔

لگتا تو یہ ہے کہ میڈیا چینلز کے ٹرن اوور میں کمی اصل میں منافع کی کمی ہے جس کو سیٹھ صاحبان نے دل سے لگالیا ہے اور اِن کے دل سے لگی یہ بات کئی لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں بند کرچکی ہے اور اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو نجانے اور کتنے دل صرف اِس لیے بند ہوجائیں گے کہ وہ گھر میں بیوی، بچوں، ماؤں، بہنوں اور بوڑھے باپ کی آنکھوں میں اُٹھتے سوالات کے جوابات دینے کی سکت نہیں رکھتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *