ایک تیر بہدف نسخہ کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امن کا فروغ حدود و قیود سے ماورا چیز ہے، اس کا پرچار کرنا اور اس کی روشنی پھیلانا ایک مشترکہ عمل ہے، کسی فرد واحد کی جدوجہد اس کی حکمرانی کے لئے ناکافی ثابت ہوسکتی ہے، امن کی شمع کو مل کر جلانا چاہیے اور اس کی روشنی و حرارت کو ماند کرنے والی ہواؤں کا محاسبہ ہونا چاہیے۔ بقول جون ایلیا

چارہ گر ہار گیا ہو جیسے
اب تو مرنا ہی دواہوجیسے

عالمی سطح پر جابجا شورش نظر آتی ہے، جس کی شدت و حدت کو کم کرنے کے لئے ایک ادارہ اقوام متحدہ کے نام سے موجود ہے، امن کے پرچار کو ممکن بنانا اس ادارے کے فرائض منصبی میں شامل ہے، شورش کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لئے یہ ادارہ سرگرم رہتا ہے، یوں تو اس ادارے کو قائم ہوئے کئی دہائیاں گزر گئیں لیکن ”کچھ باغباں توہیں برق و شر سے ملے ہوئے“ کہ ان ریشہ دوانیوں میں کمی واقع ہونے کی بجائے دن رات اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان عوامل کا ہر سطح پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

سب سے زیادہ یلغار جن ممالک میں برپا ہے یا آنے والے اوقات میں شروع ہوسکتی ہے ان کا تعلق مسلم ممالک سے رہا ہے، مفادات ایک طرف اور بے بسی و بے کسی کی تصویر ایک طرف۔ ”جسد واحد“ والی اصطلاح تو اب شاذ شاذ ہی نظر آتی ہے کہ کانٹا ایک جسم سے گزرے اور اس کی چبھن سے ساری مسلم امہ بے قرار ہوجائے۔ ان یورشوں کی سرحد یں مشرق وسطیٰ کو چھوتے ہوئے سینٹرل ایشیاء تک آپہنچتی ہیں، عراق، شام، مصر، لیبیا وغیرہ تو ماضی کے قصے ہوچکے، ایران پر عائد کی گئیں معاشی پابندیاں اور امریکہ کا ڈیل سے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کرلینا آج کی باتیں ہیں، ہاں مگر کوریا کا ایک حصہ کچھ اسی طرح کی پابندیوں کی وجہ سے مشکل گزربسر کررہا ہے۔

”کھٹکتے ہیں دل یزداں میں کانٹے کی طرح“ کی اصطلاح کو ہم ایک سائیڈ پر بھی کردیں تو بھی حالات ہمارے لئے اتنے سازگار نہیں، مسلمان ممالک کے خلاف مسلمان ممالک کی سرحدیں و آب و ہوا استعمال ہورہی ہے، استعماری قوتوں نے یہ چال نہایت کامیابی سے چلی ہے، حجاز کے حکمرانوں کا جھکاؤ کس طرف ہے اس کو سمجھنے کے لئے کوئی مضبوط دماغ ہر گز درکار نہیں، تاہم یہ امر خوش آئند کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گتریس نے حال ہی میں پاکستان کادورہ کیا ہے اور اس کے دوران انہوں نے افغان مہاجرین کی پاکستان میں پناہ گزینی اور عالمی امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کھلے لفظوں میں امن کے فروغ کے لئے عالمی اداروں کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، اپنے منہ سے اپنی ناکامی کے اعتراف کو بڑے ظرف کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور درحقیقت ہوا بھی کچھ یوں ہی ہے، ذراغور کریں تو نظر آئے گا کہ طاقتور ممالک اپنی مرضی آپ کے تحت یورش ویلغار کی حمایت و مخالفت کرتے نظر آتے ہیں، سیکرٹری جنرل کو چاہیے کہ امن کے فروغ کو ہر ممکن بنانے والے ادارے کے ہاتھ اور بازو کی مضبوطی کے لئے آواز بلند کریں، عالمی طاقتوں کے کندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس عالمی ادارے کے فرائض میں رخنے نہ ڈالیں۔

ان کے دورہ پاکستان کا اہم مقصد افغان پناہ گزینوں کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد تقریباً چالیس لاکھ سے زائد افغانیوں کا یہاں پناہ گزین ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی، یہ بات لمحہ فکریہ کہ اُن کی رجسٹریشن اور کوائف سے متعلقہ امور، جن کو بہت پہلے نمٹا دینا چاہیے تھا یہ کام اب تک درست طرح سے مکمل نہیں ہوسکا، اپنی پالیسیوں کو کوسنے کے سوا اور کیا باقی بچتا ہے جن سے ملک کے امور مضبوط دماغ کی بجائے چنداں ”اندازے“ سے چلائے جاتے رہے ہیں۔

افغان مصالحتی عمل کے سربراہ زلمے خلیل زاد نے سینکڑوں دورے کیے ہیں، کابل و اسلام آباد تک، کہ افغانستان سے امریکی جتھوں کے بروقت انخلاء کو یقینی بنایا جاسکے، فوجیوں کے انخلاء کا یہ وعدہ امریکی صدر نے اپنے صدارتی انتخاب سے پہلے اپنے عوام سے کیا تھا، اگلے صدارتی انتخابات سے پہلے پہلے کیا ایسا ممکن ہوپائے گا جو اب تک تو ایک مشکل امر رہا ہے، امریکی اپنے فوجیوں کی کابل میں حفاظت چاہتے ہیں جبکہ طالبان اپنے ساتھیوں کی رہائی، یہ بھی غور طلب کہ موجودہ افغان حکومت اس مذاکراتی عمل میں کچھ زیادہ شریک نہیں ان مندرجہ بالا حالات میں یہ بیل کیسے منڈھے چڑھے گی۔

جب ایک ”فریق“ ہی مذاکرات سے الگ ہے، اگر آنے والے دنوں میں یہ ”انخلاء“ مکمل بھی ہوگیا تو ہمارے پاس سیکرٹری جنرل کی پناہ گزینوں کے لئے کی گئی ”امداد“ کی اپیل کے علاوہ ان کے لئے کیا پالیسی ہے جو پناہ گزینوں اور ان کی بحال کاری سے جڑے ہوئے تصفیے کے حل کے لئے ایک تیر بہدف نسخہ کا کردار ادا کرسکے۔ اپنی دھرتی پر امن کو ممکن بنانے کے لئے عالمی قوتوں کا منہ دیکھتے رہنے سے بھلا کیا حاصل ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *