یوم سائنسی زبان بھی منائیں


مادری زبان کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سائنس کی زبان انگریزی ہے۔ مادری زبان و انگریزی کو یکساں اہمیت دینی چاہیے تاکہ ایک لسانی گروہ، سائنسی گروہ بھی بن سکے۔ چونکہ سائنس سے متعلق ہر چیز انگلش زبان میں ہوتی ہے تو اس لیے سائنسی زبان کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ دنیا میں انہی اقوام نے ترقی کی ہے۔ جنہوں نے وقت کے ساتھ سفر کیا ہے۔ جنہوں نے وقت سے منہ نہیں موڑا۔ جنہوں نے وقت کے تقاضوں سے خود کو بہرہ ور کیا ہے۔

اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسکو، زبان، روایات اور دیگر معاملات کو دیکھتا ہے۔ زبان کے حوالے سے نئی تحقیقات بھی اسی ادارے کی مرہون منت ہیں۔ فلاں زبان مٹ رہی ہے۔ فلاں زبان کے بولنے والے اتنے تعاد میں ہیں۔ یہ سب ہمیں یونیسکو بتاتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ علم ریاضی، کیلکولیٹر، فیصد، کمپیوٹر اور دیگر سائنسی علوم و مشینوں کو استعمال میں لائے بغیر یونیسکو زبان کی گھتیاں بہ مشکل ہی سلجھا سکتا ہے۔

چونکہ نوے کی دہائی کے آغاز سے ہی دنیا ایک عالمی گاؤں کا منظرنامہ پیش کررہی ہے اور آنے والے دنوں میں فاصلے مزید کم ہو جائیں گے۔ انگلش زبان کے حوالے سے معروف دانشور پرویز ہود بھائی نے ایک دفعہ کہا کہ ”آنے والے سو سالوں میں دنیا میں صرف انگلش بولنے والے ہی رہ جائیں گے۔ انگلش کے علاوہ باقی زبانیں معدوم ہو جائیں گی۔ “ اسی حوالے سے ایک اور تحقیق کے مطابق دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ کتابیں انگریزی زبان میں چھاپہ جاتی ہیں اور دنیا میں انگریزی زبان سمجھنے والے باقی زبانوں کی نسبت زیادہ ہیں۔

اسی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان میں اس وقت مادری زبانوں کا برا حال ہے تو وہیں سائنس کی زبان انگریزی بھی متاثر ہے۔ ہمارے ملک میں مادری زبانوں اور سائنس کی زبان کے ساتھ شروع سے ہی کچھ اچھا رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔ جس کے باعث جہاں مادری زبانیں معدوم ہو رہی ہیں تو وہیں انگریزی بڑے شہروں کی اپر کلاس کی بول چال کی زبان بن گئی ہے۔ جو کہ ملک کے حال اور مستقبل دونوں کے لئے نقصاندہ ہے۔ اس حوالے سے حکومتی سطح پر اور انفرادی سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ تاکہ پاکستان کا شمار بھی سائنس اور سائنسی زبان کے حوالے سے صف اول کے ممالک میں شمار ہوسکے۔

Facebook Comments HS