پاکستان میں انسانی حقوق کی صورت حال اور کشمیر
بنیادی انسانی حقوق کیا ہیں؟ بہت بنیادی سوال ہے مگر ہم میں سے بہت سے پاکستانی اس بات سے واقف نہیں ہیں۔ ویسے تو حکومت نے وفاق اور صوبائی سطح پر وزارتیں بھی قائم رکھی ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ بھی صرف بین الاقوامی برادری کو دکھانے کے لئے ہیں۔ کیونکہ جب ان کی ضرورت ہوتی ہے تو انہیں فعال کرلیا جاتا ہے ورنہ وہ مخصوص پاکستانی انداز میں کام کرتی ہیں۔ وزارت انسانی حقوق عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کرتی اور نہ ہی ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی سے متعلق کوئی کام ہوتا نظر آتا ہے۔
حکومت انسانی حقو ق کے وزراء سے مقبوضہ کشمیرمیں بنیادی انسانی حقو ق کی خلاف ورزیوں پر بیانات اور بین الاقوامی کانفرنسسزمیں واویلا کرنے کی حدتک استعمال کرتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پاکستان کے لئے بنیادی انسانی حقوق کی اہمیت اس دن سے بہت بڑھ گئی ہے جب سے بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے مسئلہ کشمیر کی ہیئت اور ساخت مکمل تبدیل کرنے کے لئے بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 نکال پھینکا، جو جموں وکشمیر کی جداگانہ حیثیت کو تسلیم کرتا تھا۔
یوں بھارت کے نزدیک جموں وکشمیر کوئی متنازع علاقہ نہیں رہا بلکہ اب وہ بھارت کا حصہ بن چکا ہے۔ بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کے کالعدم قرار دینے سے کنٹرول لائن کے آر پار شدید احتجاج شرو ع ہوا جو اب بھی جاری ہے اور کشمیر اور بھارت کے اندر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کو روکنے اور عوام کی آواز کو دبانے کے لئے بھارتی حکومت ہر حربہ آزمارہی ہے۔ اب ہمیں ہمسایہ ملک تو کیا فلسطین میں ہونے والے مظالم اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تو بہت نظر آتیں ہیں مگر ہم نے کیا کبھی اپنے ملک کے حالات کا جائزہ لیا ہے؟
اب فلسطین والے معاملے پر تو پھر کبھی بحث ہوگی کہ کیسے وہاں پر یہودیوں کی قدیم عبادت گاہ کو گرا کر مسجد تعمیر کی گئی اور جب یہودی طاقت ور ہوئے تو انہوں نے اپنا عبادت خانہ دوبارہ کھولنے کی کوشش کی تو وہاں پر بنیادی انسانی حقوق کا تقاضا کھڑا ہوگیا۔ ہمارے ہاں بچپن سے لے کر ہمارے نصاب میں یہی پڑھایا گیا ہے کہ برصغیر پر مسلمانوں نے کس طرح سے فتوحات کے بعد مقامی باسیوں، ان کی خواتین اور عبادت گاہوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
اور یہ باتیں بڑے فخر کے ساتھ بیان کی گئی ہیں، یعنی کیسے سومنات کا مندر گرایا گیا۔ یہ باتیں بچوں کے معصوم ذہنوں میں ڈال دی جاتی ہے جن سے وہ بوڑھے ہونے تک پیچھا نہیں چھڑا سکتے۔ مثلا ہندو مکار اور عیار ہیں۔ مسیحی اور یہودی مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہوسکتے۔ صرف مسلمان ایک ایسی قوم ہے جسے دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، باقی تمام قوموں کا فرض ہے کہ وہ مسلمانوں کے محکوم بن کررہیں۔ سیکولرزم لادینیت کا دوسرا نام ہے۔ ریاست کے پاس ایسا اختیار ہونا چاہیے کہ وہ عوام کی خوشی اور بنیادی انسانی حقوق کی بات کرنے والے ہر شخص کو کچل کررکھ دے۔ اب حکومت عوام کی آواز کو دبانے کے لئے ایسے حربے استعمال کرتی رہتی ہے۔ مثلاگزشتہ سالوں کے دوران جب ملک کے مختلف علاقوں میں مسیحیوں پر ظلم وستم اور چرچز پر مسلسل خودکش حملے ہو رہے تھے تو لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں دو چرچز پر خود کش حملہ آوروں نے حملہ کیا اور درجنوں مسیحیوں کو موت کی نیند سلادیا اور کئی زخمی ہوئے۔ وہاں پر موجود لوگوں نے حملہ آوروں کے سہولت کاروں کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا، مگر سرکار نے کوئی کارروائی نہ کی۔ مشتعل افراد نے توڑ پھوڑ کے ساتھ دو مبینہ سہولت کاروں کو ماردیا۔ جس کے نتیجے میں چالیس سے زائد بے گناہ مسیحیوں کو پکڑ کر جیل میں ڈال دیا اور کئی مہینوں تک یوحنا آبادمیں مقیم مسیحیوں کی زندگی اجیرن کرکے رکھی۔ یعنی ایسا سبق دیا جائے کہ آئندہ کسی کو جرات نہ ہو جبکہ اس کے برعکس ایسا ہی کام فیض آباد دھرنا دینے والوں نے کیا تو انہیں شاباش دے کر رخصت کیا گیا۔ اب موجود ہ حکومت عوام کی آواز کو کچلنے کے لئے سوشل میڈیا پر پابندیاں لگانے اور سزائیں دینے اور بند کرنے کے لیے کام کررہی ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی کم عمر خواتین پر جبری تبدیلی مذہب اور شادیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ مجھے بتائیں کہ کیا پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذہب کا آزادانہ پرچار کرنے کی اجازت ہے؟ کیا آزادی رائے پر غیرعلانیہ پابندی عائد نہیں ہے؟ 1977 ء سے لے کر اب تک قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی سیٹوں پر آباد ی کے تناسب سے 60 فی صد تک اضافہ کیا گیا ہے مگر اقلیتوں کے لئے مخصوص نشستوں پر کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
کیا گزشتہ 50 سالوں کے دوران ملک میں بسنے والی اقلیتوں کی آباد ی کے تناسب سے اضافہ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ لیکن نہیں کیا گیا، یعنی ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اقلیتوں کی آواز کو دبایا جارہا ہے۔ بہتر ہوگا کہ اپنے ملک میں کمزور طبقے کا حقوق دیں تاکہ دوسروں کو بات کرنے کا موقع نہ ملے ورنہ دنیا کشمیر پر آپ کی آواز نہیں سنے گی۔


