کرونا وائرس: پہلی اینٹ بلوچستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلوچستان کا نو سو انسٹھ کلو میٹر بارڈر ایران کے ساتھ لگتا ہے۔ دونوں اطراف بلوچ آباد ہیں جن کی آپس میں رشتہ داریاں اور بنا روک ٹوک آنا جانا ہے۔

ماہی گیر روزانہ گہرے پانیوں میں ایرانیوں کے ساتھ ملاقاتیں اور کھانے پینے کی اشیا کا تبادلہ کرتے ہیں۔ لاکھوں لیٹر ڈیزل کی روزانہ سمگلنگ ہوتی ہے اِس کے علاوہ دیگر سیکڑوں قسم کی اشیا بھی روزانہ لائی جاتی ہیں جن میں کھانے کی اشیا سے لے کر کمبل، پلاسٹک کا سامان شامل ہے۔

بارڈر ایریا میں کھانے پینے کی پاکستانی اشیا نہیں ملتیں اِس لیے بسکٹس، چاکلیٹس، پنیر، دودھ، دہی ڈبوں میں محفوظ مچھلیوں سبزیوں سے لے کر پیٹرول اور ڈیرل روزانہ ایران سے لایا جاتا ہے۔ جس کی بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ اور کراچی تک اسمگلنگ کی جاتی ہے

چند انٹری پوائنٹس پر پاکستانی اور ایرانی عملہ آنے جانے والوں پر نظر رکھتا ہے، مگر بارڈر سے کم وبیش پانچ چھ سو کلومیٹر اندر تک پاکستان میں کوئی مناسب ہسپتال موجود نہیں جہاں مریضوں کو بنیادی سہولیات مہیا کی جا سکتی ہوں کجا کہ کرونا وائرس کی تشخص ممکن ہو۔

تقریبا تمام علاقوں میں بجلی نا پید، تھری جی، فور جی، کیبل اور نشنل ٹی وی کی سہولت موجود نہیں۔ اس لیے عوام کو کرونا وائرس بارے بنیادی معلومات اور حفاطتی تدابیر اور تباہ خیزوں بارے کچھ معلوم نہیں جس کی وجہ سے بیماری تیزی سے ملک بھر پھیل سکتی ہے۔

حکومت بلوچستان کے ترجمان محترم لیاقت شاہوانی صاحب نے میڈیا کو حکومت کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات بارے بریفنگ دی ہے یقیناً حکومت اس معاملے میں سنجیدہ اور فکر مند ہے۔ مگر شاید یہ اکیلے حکومت بلوچستان کے بس کا کام نہیں۔ وفاقی حکومت اور دیگر اہم اداروں کو شدید ترین اقدامات کرنے اور ایران سے پاکستان میں لوگوں کے داخلے کو ناممکن بنانا ہوگا تا کہ ملک کو اس وائرس سے بچایا جا سکے۔

بلوچستان حکومت کے کیے اقدامات سے درشان ہوتا ہے کہ جیسے ان کی مکمل توجہ صرف زائرین کی واپسی روکنے پر مرکوز ہے۔ جبکہ بارڈر پر تعینات ایف آئی اے، امیگریشن حکام، کسٹم، فورسز، کنٹینرز کے اسٹاف اور ڈیلی بنیادوں پر سامان کی ترسیل پر معمور مزدور طبقے پر نظر رکھنے اور انھیں چیک کرنے کی شدید ضرورت ہے کیونکہ یہ مثاتر ہونے کے بعد باآسانی پاکستان بھر میں کہیں بھی منتقل ہو سکتے ہیں جو اس وائرس کو ملک بھر میں پھیلانے کا باعث بن سکا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ان علاقوں میں موجود عملے کے تبادلے اور چھٹیوں پر پابندی لگائی جائے۔

یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اکثر ملازمیں بنا چھٹی دوستوں کو اپنی ذمہ داریاں دے کر بھی کئی دن اپنے گھروں پر گزار آتے ہیں، تو اِس بارے بھی سخت احکامات دیے جائیں۔

حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ بارڈر ایریا میں اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے مقامی آبادی کو مساجد، سیاسی اور دیگر قبائلی عمائدین کے ذریعے اس وائرس کی تباہ کاریوں بارے آگاہ اور باخبر کیا جائے تا کہ وہ خود ایران جانے یا وہاں سے آنے والوں پر نظر رکھیں اور ان کا مکمل چیک اپ کروائیں۔

یہ سب تک ہی مکمل ہو سکتا ہے جب فوری طور پر ان علاقوں میں کرونا وائرس کی تشخص کے لیے ضروری آلات بھیجے جائیں، ڈاکٹروں کی موجودگی لازمی اور انتظامیہ کو کسی قسم کی کوتاھی بھرتے پر شدید محکمہ کارروائی کا عندیہ دیا جائے۔

پاکستان کے لوگ بلوچستان کے لوگوں ان کے رسم و رواج اور بلوچستان کی وسعت بارے سوچ بھی نہیں سکتے تو ممکن ہے کہ اسلام آباد میں بیٹھے با اثر افراد اس مسلے کو اتنا گھمبیر نہ سمجھیں اِس لیے حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ اُنھیں تصویر کا اصل رخ دکھائے اور مصنوعی اقدامات سے قطعی پرہیز کرے خدا نہ کرے کے کہ اِس مسلے پر صرف فوٹو سیشن اور میڈیا بیانات دیے جائیں ورنہ پورے پاکستان کو اِس مسلے سے نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ امن ہو یا جنگ بلوچستان ہی پاکستان کی سالمیت، ترقی اور حفاظت کی پہلی اینٹ ہے اگر یہ اپنی جگہ سے کھسک گئی تو پاکستان کے استحکام کی دیوار ڈھنے میں دیر نہیں لگے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *