میلکم ایکس۔ ایک شدّت پسند باغی یا صاحبِ بصیرت رہنما؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ آج سے 55 سال پہلے فروری 1965 کا ایک دن ہے، نیویارک کے مین ہیٹن علاقے میں آرگنائزیشن آف ایفرو امریکن یونیٹی (OAAU) کی طرف سے منعقدہ ریلی کی قیادت کرتے میلکم ایکس، ایڈابان بال رُوم خطاب کے لیے پہنچتے ہیں۔ خطاب کی ابتداء السلام علیکم سے ہوتی ہے۔ اُسی اثنا میں اگلی صفوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے اور شور کی آواز آتی ہے۔ میلکم ایکس خطاب روک کر اُس طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اچانک گولیاں چلنے کی آواز سے بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ میلکم ایکس کی اہلیہ، بیٹی سینڈرز، اپنی بیٹیوں کو بچانے کے لیے اُن پر جُھک جاتی ہیں۔ مزید گولیوں کی آواز، شور، چیخ و پُکار، بھگدڑ۔

میلکم ایکس کون تھے؟ وہ اِس مقام تک اور حالات اِس نہج تک کیسے پہنچے کہ کوئی اُن کی جان لینے کے دَر پے ہو؟ امریکہ میں سیاہ فام شہریوں سے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک سے اُن کا کیا تعلق تھا اور آج انہیں امریکہ میں کِس طرح دیکھا جاتا ہے؟ یہ سب جاننے کے لیے آئیے میلکم ایکس کی زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

1925 میں امریکی ریاست نیبراسکا کے شہر اوماہا میں پیدا ہونے والے میلکم لِٹل کی زندگی کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

پہلا، بچپن کا وہ دور جس میں انہوں نے آنکھ کھولنے کے بعد سیاہ فام افراد کے حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو اپنے اِرد گرد پایا۔ میلکم کے والدین، اَرل لِٹل اور لوئیز لِٹل، جمیکا سے تعلق رکھنے والے ایکٹیوسٹ مارکُس گاروی کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والی پین افریقن اور بلیک نیشنلِسٹ تحریکوں کے سرگرم کارکن تھے۔ اس لیے بچپن میں ہی میلکم کا گاروی اِزم سے تعارف ہوچکا تھا اور گاروی کا قول،

”The world has made being black a crime,I will make it a virtue“

اُن کے ذہن کے نہاں خانوں میں بَس چُکا تھا۔

میلکم ایکس اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ہمراہ۔ ساتھ باکسر محمد علی اور ان کی بیٹی ہیں

دوسرا وہ دور جو نوعمری میں میلکم کے والد کی بظاہر ایک ٹریفک حادثے میں ہلاکت (جِسے بعد میں سفید فام شدّت پسند گروہ Ku Klux Klan یا KKK کی طرف سے قتل کیے جانے سے بھی منسوب کیا گیا) اور والدہ کی بیماری کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ والد کے بعد والدہ کی حالت کے سبب میلکم اور اُن کے تمام بہن بھائیوں کو علیحدہ علیحدہ فوسٹر ہومز منتقل کردِیا گیا۔ اِن حالات نے اُن کے نوعمر ذہن پر بہت گہرا اثر کِیا اور ایک ذہین طالبعلم ہونے کے باوجود وہ رفتہ رفتہ تعلیم سے دُور ہوگئے۔

بعد ازاں، کچھ سال بوسٹن میں اپنی سوتیلی بہن کے گھر رہ کر جب وہ نیویارک منتقل ہوئے تو اُن کی زندگی یکسر تبدیل ہوگئی۔ اب میلکم لِٹل ایک نوجوان گینگسٹر، چور، اُٹھائی گیر کی صورت میں دنیا سے اپنے آپ کو منوانے کے دَرپے تھا۔ جرائم و بد قماشی کی جِس ڈگر پر اُن کی زندگی رواں تھی وہ بالآخر انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گئی۔

1946 سے شروع ہونے والی اِس قید سے اُس دور کا آغاز ہوتا ہے جہاں وہ اندرونِ ذات میلکم لِٹل سے میلکم ایکس تک کا وہ سفر اختیار کرتے ہیں کہ جس کے بعد ابتدائی طور پر امریکہ اور پھر پوری دنیا میں اُن کو سیاہ فام حقوق کی ایک غیر روایتی آواز اور ایک انقلابی رہنما کے طور پر جانا جانے لگتا ہے۔

اِس تبدیلی میں جس شخصیت نے مرکزی کردار ادا کیا وہ تھے نیشن آف اسلام نامی مذہبی و سیاسی تنظیم کے اُس وقت کے روحِ رواں الاِیجا (علیجا) محمد۔ سیاسی اعتبار سے نیشن کو ایک سفید فام مخالف اور شدّت پسند تنظیم کے طور پر جانا جاتا تھا اور مذہبی حوالے سے وہ مرکزی اسلامی دھارے سے ہَٹ کر ایک اختراعی یا بنیادی اسلامی عقائد کے تناظر سے ایک گمراہ کُن نظریات کا حامل گروہ سمجھا جاتا تھا۔

1952 میں جیل سے نِکلنے کے بعد الایجا محمد نے میلکم کو اپنے زیرِ تربیت لِیا اور وہ نیشن آف اسلام کا ایک اہم رُکن بن گئے۔ میلکم کے لیے یہ شرفِ تلمّذ اتنا اہم تھا کہ وہ الایجا محمد کو نہ صرف ایک روحانی پیشوا مانتے تھے بلکہ میلکم کے لیے وہ ایک باپ کی سی حیثیت رکھتے تھے۔

نتیجتاً، نیشن کے تمام نظریات کو میلکم نے فکری و عملی طور پر من و عن اپنایا۔ رفتہ رفتہ وہ اپنے فطری جارحانہ لب و لہجہ، شعلہ بیانی، فصاحت اور متاثر کُن شخصیت کی وجہ سے نیشن کے صفِ اوّل کے رہنماؤں میں شامل ہونے لگے۔

میلکم کی زندگی کا یہ وہ تیسرا دور تھا جہاں وہ ایک طرف سیاہ فام شہریوں کے لیے مسیحا و انقلابی رہنما بَن کر اُبھر رہے تھے تو دُوسری جانب امریکہ کے مقتدِر حلقوں میں سفید فام برتری کے خلاف شدّت پسندی کی حدوں کو چھوتے بیانات کی وجہ سے ہَلچل پیدا کررہے تھے۔

“What I want to know is how the white man, with the blood of black people dripping off his fingers, can have the audacity to be asking black people why they hate him?” Malcolm X

میلکم ایکس اور فیڈل کاسترو

یہ دور تاریخی اعتبار سے امریکہ میں کافی اہمیت کا حامل ہے۔ سیاہ فام شہریوں پر ریاستی اور عوامی سطح پر ظلم و جبر، امتیازی سلوک، بے جا قتل اور قید و بند کے خلاف سِول رائٹس موومنٹ کا آغاز ہوچکا ہے۔ جنوب میں اِس موومنٹ کے مرکزی کردار، ڈاکٹر مارٹن لُوتھر کِنگ کی آواز پر لبّیک کہنے والوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور شُمال میں میلکم ایکس لوگوں میں بغاوت کی چنگاریوں کو ہَوا دے رہے ہیں۔ لہٰذا امریکہ کے طول و عرض میں سیاہ فام شہری اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔

سِول رائٹس موومنٹ میں دِیگر سیاہ فام رہنما بشمول باکسر محمد علی حصّہ لے رہے ہیں لیکن میلکم ایکس اور مارٹن لُوتھر کِنگ سب سے زیادہ نمایاں ہیں۔ گو کہ اِن دونوں رہنماؤں کا حتمی مقصد ایک تھا لیکن اِس مقصد کے حصول کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار میں اختلاف کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے سے تعاون پیدا کرنے میں ناکام رہے۔ مارٹن لُوتھر کِنگ مہاتما گاندھی کے عدم تشدّد کے نظریے کے پیروکار تھے اور اُن کے نزدیک اصل منزل تک سیاہ فام اور سفید فام شہریوں کے مابین ہم آہنگی کے ذریعے پہنچا جاسکتا تھا۔ میلکم کی نظر میں ایسا ہونا ناممکن تھا اور اُن کی نظر میں واحد حل مکمل علیحدگی اور خُون کے بدلے خُون تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *