گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف، جہان زمان و مکاں گلے ملتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر، گذشتہ روز یوں ہوا کہ جہان رنگ و بو کی یکسانیت اورمکروہات دنیا کی آلائشوں سے طبیعت کچھ اوبھ سی گئی تو ہم نے دل کو بہلانے اور روح کو سہلانے کے لئے اپنی مادر علمی گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں جانے کا قصد کیا۔ سکول کا پھاٹک عبور کرتے ہی بے اختیار زمانہ طالب علمی کی یاد دل و دماغ میں ہمکنے لگی اور ایک ایک کر کے تمام کلاس فیلوز اور اساتذہ کرام کے روشن چہرے خوشبو بن کر آسودگی و طمانیت کا احساس دینے لگے۔

خیال آیا کہ شاید ہم گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف میں ”اداس نسلوں“ کی آخری خوش قسمت کڑی تھے جنہوں نے سکول کے عروج، بہترین تعلیمی ماحول، نظم و ضبط، اپنے فضیلت مآب اساتذہ کرام کی شفقت، ان کے وقار اور ان کی مشفقانہ مار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور برداشت کیا۔ ”پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ“۔ اب تو سکول کی حالت اور استادوں کا رویہ اور ”مار نہیں پیار“ مارکہ برائلر شاگردوں کا برتاؤ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس قوم کے مستقبل میں بس ”ویرانی سی ویرانی ہے“ اور دور دور تک امید کا کوئی جگنو ہمیں جھلماتا نظر نہیں آتا۔

1995 ء میں موسم بہار کے غالباً یہی دن تھے۔ گاؤں کے چھپر سکول میں چہار جماعتیں پاس کر کے ہمیں شہر آئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ ایک صبح خلاف توقع ابا نے اپنے کمرے میں بلوا لیا۔ ابا کا روزانہ معمول یہ تھا کہ وہ علی الصبح نماز و تلاوت قرآن پاک کے بعد کچھ سمے اخبارات کے لئے خبریں وغیرہ اور آنے والے خطوط کے جواب لکھتے، ان کو خاکی لفافوں میں بند کر کے ان پر ڈاک کی ٹکٹیں چسپاں کرتے اور پتے لکھ کر اس دوران ہمیں چوک سے رکشہ بلوانے کے لئے آواز دیتے۔ صبح دس بجے گھر سے جانے کے بعد ان کی واپسی دوپہر کو بارہ سے ایک بجے کے دوران ہوتی۔ یہ دو سے تین گھنٹے گھر کے مکینوں کی ناک میں دم کرنے، اماں کو دق کرنے اور گھر سے باہر نکل کر شرارتیں کرنے کے لئے ہمارے لئے نعمت مترقبہ ثابت ہوتے تھے۔

خلاف معمول اُس دن ابا کا ہمیں اپنے کمرے میں بلانا ہمارے لئے یوں بھی اچنبھے کی بات تھی کہ ان کے کمرے میں بازیابی ان کی اجازت اور موڈ سے مشروط تھی۔ لکھائی پڑھائی کے دوران تو ان کو ہم چھوٹے بچوں کی مداخلت سخت ناگوار گزرتی اور ڈانٹ کر بھگا دیتے۔ سو ہم اپنے دل ودماغ میں اندیشہ ہائے دور دراز مرقوم کر کے کانپتی لڑکھڑاتی ٹانگوں کے ساتھ پیروں ننگے ان کے حضور جا کھڑے ہوئے۔ اپنی رعب دار آواز میں گویا ہوئے : اپناحلیہ ٹھیک کر کے فوراً واپس آؤ۔

لیجیے صاحب۔ بغیر استری کیے کپڑے پہن اور سوفٹی چپل پیروں میں ڈال ہم پھر ان کے حضور جا گزیں ہوئے۔ ہم پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈال کر انہوں نے سر پر جناح کیپ رکھی، اپنی ڈائری اٹھائی۔ کمرے سے باہر نکل کر ہمیں دروازہ بھیڑ کر اسے تالا لگانے کو کہا۔ اس کام سے فراغت کے بعد ہم ان کے پیچھے پیچھے چل دیے کہ منزل مقصود کا صرف انہیں ہی علم تھا۔ شمس کالونی سے خیر پور ڈاہا روڈ، الشمس چوک سے عباسیہ روڈ، پھر بائیں سمت ہسپتال روڈ۔ بازار کے بیچوں بیچ وہ آگے اور ہم ان کے پیچھے گورنمنٹ ہائی سکول جا وارد ہوئے۔ چھوٹی چھوٹی چہار دیواری اور گیٹ سے بے نیاز سکول کے سرسبز و شاداب گراؤنڈ میں براجمان خاکی وردی میں ملبوس طلبہ کی مختلف جماعتیں اساتذہ کا آموختہ دہرانے میں مصروف تھیں۔ یہ ہمارے لئے نیا اور حیران کن منظر تھا۔

ابا سکول کی دیوہیکل مرکزی بلڈنگ کو عبور کر کے اب اس کے عقب میں آ گئے تھے جہاں آم کے کثیر درخت بہار کی تازگی و ہریالی کی ردا اوڑھے جھوم رہے تھے۔ اسی جگہ درختوں میں گھرے ایک الگ تھلگ کمرے میں بچوں کی اونچی آواز میں پڑھنے کی آواز آ رہی تھی۔ جونہی ہم کمرے میں داخل ہوئے، ہمیں دیکھ کر پوری کلاس کو سانپ سونگھ گیا۔ کرسی پر براجمان نوجوان استاد ٹاٹ پر بیٹھے بچوں کو پھلانگتے ہوئے ہماری اور آیا، ابا جی کو گرم جوشی سے سلام کیا، ہمارے سر پر ہاتھ پھیرا۔ ابا نے ان سے کچھ باتیں کیں اور مجھے ان کے حوالے کر کے رخصت ہوئے۔ وہ گورنمنٹ ہائی سکول میں ہمارا پہلا دن تھا۔ طلبہ سے کھچاکھچ بھرے کمرہ جماعت میں پہلے دن ہمیں سب سے آخر میں جوتیوں کے پاس بیٹھنے کی جگہ نصیب ہوئی۔ کلاس تھی پنجم بی اور انچارج تھے ماسٹر محمد افضل جوئیہ صاحب۔

گورنمنٹ ہائی سکول میں جماعت پنجم سے دہم تک پانچ سال گھڑیوں کی صورت پر لگا کر اڑ گئے۔ ان پانچ برسوں کی بازآفرینی کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ ہیڈ ماسٹر چوہدری محمد حنیف انجم صاحب، محمد شریف اوچوی صاحب، مشتاق حسین گشکوری صاحب، سید حسن جہانیاں ساغر صاحب، مختیار سیال صاحب، منور نعیم صاحب، رمضان نعیم صاحب، محمود حسن صاحب، محمد یعقوب صاحب، محمد افضل جوئیہ صاحب، محمد اسحاق جوئیہ صاحب، عبدالخالق مستوئی صاحب، ڈرائینگ ماسٹر غلام محمد صاحب، خلیل ڈی ایم صاحب، غلام اکبر صاحب، محمود اکبر اعوان صاحب، ایوب سعیدی صاحب، پی ای ٹی محمد اصغر صاحب، پی ای ٹی رشید صاحب، ایاز صاحب، خورشید احمد بھٹہ صاحب، عبدالستار سعیدی صاحب جیسے باکمال اور شاندار اساتذہ کرام کے آگے زانوئے تلمذ طے کرنے کی سعادت پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ اساتذہ کرام کی اس فہرست میں شامل کئی گنج ہائے گراں مایہ خاک میں پنہاں ہو گئے اور کئی عزت مآب عہد گم گشتہ کی دل ستاں رفاقتوں اور جاں ستاں یادوں کی دائم آباد قندیل اپنی بوڑھی آنکھوں میں جلائے ہمارے درمیان موجود ہیں۔

اس دن اتنے عرصے بعد سکول میں آکر ہمارے نوسٹیلجیا کی بے قراری کو شانتی سی مل گئی۔ چہل قدمی کرتے کرتے ہم اپنی پانچویں کلاس کے کمرے کے قریب جا پہنچے جسے امتداد زمانہ نے سٹور روم بنا دیا تھا۔ اب وہاں ویرانی ہی ویرانی رقص کناں تھی۔ ابھی ہم وہاں ٹھہر کر کھوئے ہوؤں کی جستجو کر ہی رہے تھے کہ اچانک ہمیں اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا مہربان لمس محسوس ہوا۔ مڑ کر دیکھا تو ہمارے ایک استاد صاحب نظر آئے۔ لاغر چہرے اور بالوں پر اتر آنے والی سفیدی ان کی کہولت کا پتہ دے رہی تھی۔

کافی دیر ان کی قربت میں اپنے بچپن اور لڑکپن کی خوشبو کو محسوس کرتے رہے۔ باتوں ہی باتوں میں فرمانے لگے کہ اس مادر علمی کا تم پر قرض ہے۔ اکثر و بیشتر تمہاری تحریریں نظر سے گزرتی ہیں۔ کبھی فرصت ملے تو اپنے اس سکول کے مسائل پر قلم اٹھا لینا۔ انہوں نے یہ کہہ کر ہمیں چونکا دیا کہ سکول کی بلڈنگ کسی وقت بھی زمین بوس ہو سکتی ہے۔ اس وقت تو ہم ان سے اپنے سکول کے مسائل پر قلم اٹھانے کا وعدہ کر کے چلتے بنے۔ بعد ازاں سکول کی تاریخی حیثیت اور دیگر معلومات کے سلسلے میں ہمیں سکول کے کئی سابقہ مدرسین سے ملنے کا موقع ملا اور ان سے ملنے کے بعد ہمیں سکول کے حوالے سے جو معلومات حاصل ہوئیں اسے ہم بلاکم وکاست اپنے اس اظہاریہ میں بیان کیے دیتے ہیں۔

اوچ شریف اور گردونواح کے 45 سے زائد مواضعات کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنے والا گورنمنٹ ہائی سکول، رقبے اور انفراسٹریکچر کے لحاظ سے جس کا شمار اوچ شریف کی عظیم تعلیمی درس گاہ میں ہوتا ہے۔ اس کی کہانی کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ 1905 ء میں انگریز سرکار کی جانب سے اوچ شریف کے موجودہ محلہ سوڈھگان میں گورنمنٹ پرائمری سکول تعمیر کیا گیا تھا جس کا مقصد علاقے کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرنا تھا۔

وائسرائے ہند لارڈ ویلنگڈن کے دور میں 1932 ء میں سکول کو مڈل جبکہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے پہلے مسلمان اور علم دوست گورنر سرعبدالرب نشتر کے ایک خصوصی حکم نامے کے تحت 1949 ء میں اسے ہائی سکول کا درجہ دے کر موجودہ جگہ منتقل کر دیا گیا۔ اس تعلیمی ادارے کے لئے سابق رکن ڈسٹرکٹ بورڈ بہاول پور و مغربی پاکستان اسمبلی، سجادہ نشین درگاہ قادریہ عالیہ مخدوم سید حامد محمد شمس الدین گیلانی نے اپنی زیر ملکیت 72 کنال 3 مرلہ ذاتی اراضی وقف کی اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے ابتدائی طور پر فنڈز بھی فراہم کرائے۔

ہائی سکول کا درجہ ملنے کے بعد برصغیر کی عظیم تعلیمی درسگاہ علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل، معروف استاد اور ماہر تعلیم عبدالرحمٰن نظامی اس ادارے کے پہلے ہیڈماسٹر مقرر ہوئے، جبکہ مختلف ادوار میں دیوان سید مرید احمد بخاری، عاشق حسین، محمد اسماعیل خان، محمد اسلم تاتاری، مشتاق احمد سیال اور محمد حنیف انجم جیسی قد آور علمی شخصیات اس تعلیمی ادارے کی سربراہ رہیں اور اس کے تعلیمی معیاری کی بلندی اور تعمیرو ترقی کے لئے کام کیا۔

گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف کی موجودہ بلڈنگ کا افتتاح نواب آف بہاول پورسر صادق محمد خان عباسی پنجم نے 1954 ء میں کیا اور بعدازاں اس اسکول کو ریاست بہاول پور کے وزیراعلیٰ مخدوم زادہ سید حسن محمود کی سرپرستی بھی حاصل رہی، لیکن وقت کی بے رحمی کے ہاتھوں اب یہ مادر علمی حسرتوں کا مرقع بن چکی ہے۔ اب اس کے سرسبز وشاداب گراؤنڈ کا سٹیڈیم کے نام پر جہاں ستیاناس کر دیا گیا، وہاں اس کی بلند وبالا چہاردیواری اور اس پر نصب خاردار تاریں اس کے کسی فوجی چھاؤنی ہونے کا گمان پیش کرتی ہیں۔

گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف کی مرکزی عمارت کو جہاں فن تعمیر کا نادر نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے وہاں اس کی پائیداری کا یہ عالم تھا کہ 1973 ء میں آنے والے بدترین سیلاب کا ٹھاٹھیں مارتا پانی اس پر ہلکی سی آنچ بھی نہ ڈال سکا۔ 1990 ء کی دہائی میں حکومت پنجاب کی طرف سے اس تعلیمی ادارے کو اپ گریڈ کرتے ہوئے ہائیر سکینڈری بنانے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم بعض شخصیات کی آپس کی چپقلش اور انا کی وجہ سے حکومتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہو سکا اور چنی گوٹھ کا ہائی سکول ہائیر سکینڈری کے طور پر اپ گریڈ ہو گیا۔ 65280 مربع فٹ رقبے پر محیط اس عظیم تعلیمی درسگاہ میں فی الوقت سات 11 سو سے زائد طلباء زیرِ تعلیم ہیں جنہیں درسگاہ میں کلاس رومز کی کمی کے باعث مسائل کا سامنا ہے۔

محکمہ بلڈنگ کی جانب سے ایک سال قبل سکول کا سروے کیا گیا تھا جس کے بعد پوری بلڈنگ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر خالی کرنے کے تحریری احکامات دیے گئے، تاہم کلاس رومز کی کمی اور متبادل عمارت نہ ہونے کے باعث اسی شکستہ حال بلڈنگ میں تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں جس سے کسی وقت بھی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو سکتا ہے۔ جغرافیائی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے حامل اوچ شریف کے سب سے بڑے سکول کے درودیواراپنی شکستہ حدت و حرارت کی رمق کی وجہ سے ابھی تک شمع آرزو جلا کر مہر بلب، گوش بر آواز اور چشم براہ ہیں کہ شاید کوئی سیاسی مسیحا ان کی شکستگی، بدحالی اور پسماندگی کا نوحہ سن کر توجہ دینا ضروری سمجھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *