نادر صاحب، معاشی بحران اور جنگل اگاؤ مہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگلے روز ایک نادر دوست سے چند ماہ کے وقفے کے بعد ملنے گیا تو کہنے لگے معیشت کی بدحالی، مہنگائی اور غربت کا رونا رونے والے ناسمجھ اور جاہل ہیں۔ جانتے نہیں کہ عمران خان جو کام کر رہے ہیں ان سے معیشت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سیٹ ہو جائے گی اور کوئی غریب نہیں رہے گا۔ میرے ان دوست کا نام نادر نہیں۔ بلکہ ڈیڑھ برس قبل میرے دوستوں میں ان جیسے دوست بڑی تعداد میں شامل تھے۔ معلوم نہیں سارے کہاں چلے گئے۔ چند ایک ادھر رہ گئے جو نادر ہو گئے، انہی میں یہ بھی شامل ہیں۔

عرض کی کہ عمران خان اور حکومت کی ”معاشی حکمت عملی“ کے بارے میں آپ کی خوش گمانی اور خوش بیانی میں وہی جوش و جذبہ ہے جو نو مسلموں کے رویئے میں ہوتا ہے۔ میں ٹھہرا ایک تشکیک زدہ انسان لہذا باڑ کی دوسری طرف کا گھانس آپ کو اگرچہ ہرا ہرا نظر آ رہا ہے لیکن مجھے تو سرے سے گھانس نظر ہی نہیں آ رہا۔ تاہم پھر بھی بات کرنے کی خاطر مان لیتے ہیں کہ ایسا ہی ہو گا جیسا آپ اور بقول آپ کے وزیراعظم سوچ رہے ہیں۔ لیکن کروڑوں غریبوں کے ساتھ ”خاک ہو جائیں گے تم کو خبر ہونے تک“ والا معاملہ نہ ہو جائے لہذا جب تک معیشت سیٹ نہیں ہو جاتی تب تک ریلیف تو دی جا سکتی ہے۔ اس میں کیا امر مانع ہے؟

اس گفتگو کے دوران نادر ایک عالمانہ بے نیازی کی کیفیت میں نیم دراز بیٹھے تھے، فوراً سے پہلے اس جاہلانہ سوال کا جواب دینے کے لیے تڑپ کر سیدھے بیٹھ گئے۔ تاہم اس سے پہلے کہ وہ مزید اقتصادیات پڑھاتے میں نے بات جاری رکھتے ہوئے مزید گزارش کی:

عمران خان اور ان کی ٹیم حکومت میں آنے سے پہلے سابقہ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے۔ یہ مہنگائی کی وجہ حکومت کی کرپشن کو قرار دیتے تھے۔ یہ کہتے تھے مہنگی بجلی حکومت کی بدعنوانی کی وجہ سے ہے۔ بتایا کرتے کہ پٹرول ڈیزل پر فی لیٹر دو چار نہیں بیسیوں روپے عوام سے بٹورے جا رہے ہیں۔ حکومت کی نا اہلی ہے کہ صحت و تعلیم کی سہولیات کم ہیں یا ناپید ہیں۔ کہتے تھے قومیں موٹرویز اور میٹروز سے نہیں بنتیں۔ فرمایا کرتے کہ راولپنڈی میٹرو بہت مہنگی بنائی گئی اور اس کی وجہ کمیشن اور کرپشن کو قرار دیتے۔ حکومت میں آ کر پہلے لوگوں کو روزگار دینے اور پھر ہزاروں ارب روپے ٹیکس اکٹھا کر کے معیشت سنوارنے کا خواب دکھاتے تھے۔

اب تک نادر بہت بے چین ہو چکے تھے اور تھوڑے تھوڑے غصے میں بھی لگتے تھے۔ انہوں نے میری جہالت کا اندھیرا دور کرنے کے لیے منہ کھولا لیکن میں نے بات ختم کرنے کی اجازت مانگ کر اجازت ملنے سے پہلے ہی اپنی جاہلانہ تقریر جاری رکھتے ہوئے عرض کیا:

آپ مجھے ضرور سمجھائیے گا کہ آپ کے پاس سمجھنے کو ہی آیا ہوں لیکن صرف ڈیڑھ برس قبل تک خان صاحب مذکورہ بالا باتیں برسوں سے دہراتے چلے آ رہے تھے۔ اب یہ ڈیڑھ برس سے حکومت میں ہیں تو صورت حال یہ ہے کہ مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔ بجلی اور گیس کی قیمتوں سے صارفین بلبلا اٹھے ہیں۔ عالمی منڈی میں سستا ہونے کے باوجود پٹرول ڈیزل مہنگے ترین ریٹ پر بیچے جا رہے ہیں۔ صحت کی متعدد مفت سہولیات ختم کی گئی ہیں۔

کوئی نیا ہسپتال نہیں بنا، ادویات بہت مہنگی ہو گئی ہیں۔ یونیورسٹیاں فنڈز نہ ملنے کے رونے رو رہی ہیں اور اساتذہ اور عملے کی تنخواہیں دینے سے قاصر ہیں۔ ہسپتال اور یونیورسٹیاں تو بنے نہیں لیکن میٹرو پشاور میں شروع کر دی جو تکمیل پر شاید ایشیا کا مہنگا ترین میٹرو پراجیکٹ بن جائے۔ لاگت کے علاوہ اس میں منصوبہ بندی کے نقائص اور انتظامی اہلیت پر اٹھنے والے سوالات اپنی جگہ پر ہیں۔ روزگار دینا تو دور کی بات ملین کے حساب سے لوگ روزگار سے محروم ہو چکے کہ بند ہوتے کاروبار ملازمین کو نوکریوں سے نکال رہے ہیں۔ اپنے قیام سے آج تک ہر سہ ماہی میں حکومت ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اب آپ فرمائیے کہ کس بنیاد پر معیشت کی بہتری کی امید اس حکومت سے لگائی جائے کہ کوئی ایک کام ایسا نہیں ہو رہا جو سمت کے درست ہونے کا پتہ دیتا ہو۔

بات ختم ہونے پر نادر مسکرائے۔ میری گفتگو کے دوران ان کے انداز سے جھلکتی بیزاری ختم ہوتے دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی اور ساتھ حیرت بھی۔ انہوں نے یہ کہہ کر کہ مزید حیرت میں مبتلا کر دیا کہ مجھے تمہاری باتوں سے اتفاق ہے۔ نادر صاحب سیدھے ہو کر بیٹھے۔ ہاتھ گھٹنوں پر رکھے اور تھوڑا آگے کو جھک کر سرگوشی کرنے کے سے انداز میں بولے :

ریلیف ان مسائل کا حل نہیں۔ معیشت اسی مشکل رستے پر چل کر ہی ٹھیک ہو گی۔ سابقہ حکومتوں کی طرح خان صاحب نے بھی شروع میں یہی غلطی کی کہ گراؤنڈ تیار کیے بغیر میچ کھیلنا شروع ہو گئے۔ ایسے اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ فوری نتائج کے چکر میں نظر انداز کیے گئے درکار لوازمات دوبارہ مہیا کرنے پڑ جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے خان صاحب نے بہت جلد یہ حقیقت جان لی ہے۔ یہ کہہ کر نادر صاحب چپ ہو گئے اور مجھے دیکھنے لگے۔

اپنی طویل اور بزعم خود بڑی مدلل لیکن دراصل جاہلانہ گفتگو کے جواب میں نادر صاحب کا مختصر اور مسکت جواب سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔ یاد کرنے کی کوشش کی کہ خان صاحب نے ڈیڑھ برس میں ایسا کون سا کام کیا جس کے لیے درکار انفراسٹرکچر پہلے موجود نہیں تھا اور جو بعد از خرابی بسیار انہیں بنانا پڑا۔ ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا اور میں فوراً نادر صاحب سے متفق ہو گیا۔ واقعی درکار انفراسٹرکچر بنائے بغیر چھٹکارا نہیں۔

وزیراعظم نے اسی روز ہی جنگل اگانے کی بات کی تھی۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے قوانین اگرچہ چند ہفتے قبل بنا لیے گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *