مردہ بچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کیا وجہ ہے کہ گرمیوں کے اس خوبصورت موسم میں بھی اس مردہ بچے کی یادیں بار بار میرے ذہن کی سطح پر ابھرتی چلی آ رہی ہیں۔ شاید اس وجہ سے کہ اس واقعے تک میں نے کبھی موسمِ گرما میں اتنے سوگوار حالات کا سامنا پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔

یہ واقعہ ان دنوں ظہور پذیر ہوا جب میں کینیڈا کے صوبے مینی ٹوبا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک استانی کی غیر موجودگی میں اسکول میں پڑھانے آئی تھی۔ پہلی استانی نجانے بیمار تھی یا کام سے دل شکستہ ہو کر آرام کر رہی تھی۔

سکول کے پرنسپل نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا تھا اور کہا تھا ’دیکھو میں تمہیں کوئی بڑی خوش خبری نہیں سنا رہا۔ ایک چھوٹے سے سکول میں صرف جون کے مہینے کے لیے استانی کی ضرورت ہے۔ یہ ایک نادر موقع ہے اگر تم اسے قبول کرنا چاہو۔ بعد میں جب کسی مستقل ملازمت کی درخواست دو گی تو یہ ایک مہینہ تجربے کے طور پر کام آ سکے گا۔ میری فقط اتنی پیشکش ہے‘ ۔

اس طرح مجھے اس چھوٹے سے گاؤں میں جون کے مہینے کی ملازمت مل گئی تھی۔ گاؤں کیا تھا ریت پر بکھرے ہوئے کچھ گھر اور کچھ جھونپڑے اور ان کے ارد گرد چند درخت۔ ’ایک مہینہ‘ میں نے دل میں سوچا ’کیا ایک مہینہ بچوں کے جذباتی طور پر قریب ہونے کے لیے کافی ہوگا؟ ‘ ۔

’کیا یہ مختصر تجربہ کار آمد بھی ثابت ہوگا یا نہیں؟ ‘

جب جون کے پہلے دن میں کمرہِ جماعت میں داخل ہوئی تو محسوس ہوا کہ بچوں کے ذہن میں بھی یہ سوال ابھر رہا تھا ’کیا یہ استانی یہاں اتنا عرصہ رہے گی کہ ہم اس سے کچھ سیکھ سکیں اور اس کے قریب ہو سکیں؟ ‘

بچوں کے چہرے اترے ہوئے تھے ’کیا وہ دل شکستہ تھے؟ کیا وہ غمگین تھے؟ مجھے اپنے تجربے کی کمی کا احساس ہونے لگا۔ عملی زندگی میں یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ ایک لحاظ سے میں خود بھی بچی تھی۔

جب نو بجے تو کمرہِ جماعت تندور کی طرح دہکنے لگا۔ کینیڈا کے مینی ٹوبا کے صوبے میں بعض اوقات جون کے اوائل میں لو چلنا شروع ہو جاتی ہے اور ریت دہک اٹھتی ہے۔

مجھے ابھی اتنا سلیقہ نہیں آیا تھا کہ بچوں سے کیا بات چیت کروں۔ چنانچہ میں نے حاضری لینا شروع کر دی۔ شروع کے چند نام فرانسیسی تھے جو آج تک میرے ذہن پر کندہ ہیں۔ نہ جانے کیونکر۔ میڈولین بیروبے۔ جورفٹ برسٹ۔ امیلین ڈیومان سسلی لیپن۔

جب بچوں نے اٹھ کر بڑے ادب سے ’حاضر میموزیل‘ کہا اور میں نے ان کے سیاہ بالوں اور چھوٹی آنکھوں کو دیکھا تو مجھے اندازہ ہوا کہ ان کی رگوں میں فرانسیسی خون دوڑ رہا ہے۔

بچے خوبصورت اور مودب تھے لیکن جو چیز مجھے پریشان کر رہی تھی وہ تھی ان کی خاموشی اور مجھ سے جذباتی فاصلہ۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ مجھ سے کوسوں دور ہیں۔ ’کیا بچے اس طرح ہوتے ہیں؟ ‘ میں نے خودکلامی کی۔

’پنجروں میں بند‘ جہاں انسان انہیں چھو تک نہ سکے ’۔

آخر کار میں نے یولاندی چاتراند کا نام پکارا

کوئی جواب نہ آیا۔ کمرے کی حدت بڑھ رہی تھی۔ میں نے ماتھے سے پسینہ پونچھا اور نام دوبارہ پکارا۔ پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔

سب کے چہروں پر عجب بے حسی کا عالم تھا۔

چند لمحوں کے بعد کمرے کے پچھلے حصے سے ’جہاں سے مکھیوں کے بھنبھنانے کی آواز آ رہئی تھی‘ کسی نے دھیمے لہجے میں کہا

’ وہ مر چکی ہے میموزیل۔ وہ کل رات مر گئی‘

اس بچے کی آواز میں سرد لہجہ لرز رہا تھا۔ جب سب بچوں نے مجھے عالمَ حیرانگی میں دیکھا تو اپنی گردن ہلائی جیسے کہہ رہے ہوں

’ یہ ٹھیک کہتا ہے‘ ۔

’آہ! ‘ میرے منہ سے نکلا۔ نجانتے ہوئے کہ مجھے کیا کہنا چاہیے۔

’ اسے تیار کر کے رکھ دیا گیا ہے‘ ایک سیاہ آنکھوں والے لڑکے نے کہا ’

وہ کل اسے دفن کر دیں گے ’۔

’آہ‘ میرے منہ سے دوبارہ نکلا۔

ایسے لگ رہا تھا جیسے مجھے خبر سنانے کے بعد ان کے سر سے بوجھ اتر گیا ہو۔ وہ آہستہ آہستہ باتیں کرنے لگے۔ کمرے کے درمیان میں بیٹھے ہوئے ایک بچے نے کہا ’آخری دو مہینوں میں اس کی حالت ابتر ہو گئی تھی۔ ‘

میں اور بچے کافی دیر تک ایک دوسرے کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ جس کیفیت کو میں بے حسی سمجھ رہی تھی وہ دراصل غم اور سوگ تھا۔ موسم کی حدت اس پر مستزاد تھی۔

’ جب کہ یولاندی کو۔ تیار کر کے رکھ دیا گیا ہے‘ میں نے کہنا شروع کیا۔

’ اور وہ آپ سب کی ہم جماعت تھی۔ اور وہ یہاں ہوتی تو میری طالبہ ہوتی۔ تو کیوں نہ ہم سکول کے بعد اسے دیکھنے چلیں۔ ‘

ان چھوٹے اور سنجیدہ چہروں پر لمحہ بھر کے لیے مسکراہٹ پھیل گئی۔ اگرچہ اس مسکراہٹ میں بھی غم کا عنصر غالب تھا لیکن پھر بھی وہ مسکراہٹ تو تھی۔ ’اگر ہم سب اس بات پر متفق ہیں تو ہم سہہ پہر کو اکٹھے چلیں گے۔ ‘

اگرچہ شروع میں موسم کی گرمی کے ساتھ ساتھ نا امیدی کے جذبات بھی بڑھتے چلے جا رہے تھے لیکن اس گفتگو کے بعد بچوں میں نمایاں فرق آیا۔ انہوں نے ساری توجہ میری طرف مبزول کر دی اور سارا دن بڑے انہماک سے کام کرتے رہے۔

چاربج کر پانچ منٹ پر وہ سب بچے سکول کے دروازے کے پاس بڑی خاموشی سے میرا انتظار کر رہے تھے۔ بعض بچوں نے بڑھ کر میری رہنمائی کی۔ باقی میرے قریب قریب چلنے لگے۔ بعض بچے محبت سے میری انگلیاں اور میرے کپڑے پکڑنے لگے انہوں نے بڑے خلوص سے مجھے گھیرا ہوا تھا۔ ہم تھوڑی دیر میں ریت پر چلتے ہوئے اور درٖختوں میں سے گزرتے ہوئے گاؤں سے باہر آ گئے۔

ہم لکڑی کے کیبن کے پاس آئے جو باقی آبادی سے الگ تھلگ درختوں کے جھنڈ میں بنایا گیا تھا۔ دروازہ کھلا تھا اس لیے ہم بچی کی لاش کو دور سے دیکھ سکتے تھے۔ کسی نے دو کرسیوں کو کمر سے کمر ملا کر ان پر تختے رکھ دیے تھے جن پر لاش کو رکھا گیا تھا۔ اس کمرے میں اور کچھ نہیں تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے گھر کے باقی سامان کو دوسرے کمرے میں یکجا کر دیا گیا تھا۔ جہاں بستر پر بہت سی چیزیں پڑی نظر آ رہی تھیں۔ گھر میں اور کرسیاں نہیں تھیں۔ شاید وہاں صرف وہی دو کرسیاں تھیں جن کو تختوں کا سہارا دینے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

بیچارے والدین نے وہ سب کچھ کیا تھا جو وہ کر سکتے تھے۔ گھر کا ایک کمرہ اس کے لیے وقف کر دیا تھا اس پر سفید چادر بھی ڈال دی تھی۔ شاید کسی مجبوری کی بنا پر وہ کچھ عرصے کے لیے گھر سے چلے گئے تھے۔ ہو سکتا ہے کفن خریدنے گئے ہوں۔

ایسے حالات میں وہ مردہ بچی گھر میں مکھیوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی تھی۔ مکھیوں کو شاید موت کی خوشبو آ گئی تھی۔ میں نے ایک نیلی مکھی کو اس کی پیشانی کی طرف بڑھتے دیکھا تو ہاتھ ہلا کر اسے بھگا دیا۔ میں ہاتھ ہلاتی رہی تا کہ اور مکھیاں اس پر آ کر نہ بیٹھیں۔

اس لڑکی کا چہرہ معصوم لیکن سنجیدہ اور مرجھایا ہوا تھا۔ کلی کھلنے سے پہلے ہی نوچ لی گئی تھی۔ چاروں طرف کھڑے بچوں کے چہرے بھی سنجیدہ تھے جیسے بڑوں کے سارے غم ان کے نازک کندھوں پر آن گرے ہوں۔ وہ بمشکل دس بارہ برس کی ہوگی۔ میں نے سوچا اگر وہ زندہ ہوتی تو آج میری طالبہ ہوتی وہ شاید مجھ سے کچھ سیکھتی اور عین ممکن تھا ہمارا تعلق ساری عمر جاری رہتا۔

میں نے اس کی لاش کی طرف دیکھا تو سوچا کہ ’ساری عمر‘ کا اس موقع پر کہنا کتنا غیر مناسب اور بے معنی تھا۔ میں غور کرنے لگی کہ ہم ہر روز کتنے ہی الفاظ بغیر سوچے سمجھے استعمال کرتے رہتے ہیں۔

اس مردہ بچے کے تاثرات سے لگ رہا تھا جیسے اسے کئی چھوٹی چھوٹی خواہشات کے ادھورا رہ جانے کا افسوس تھا۔ میں وہاں کھڑی ہاتھ ہلاتی رہی تا کہ مکھیاں لاش پہ نہ بیٹھیں۔ بچے مجھے بڑے انہماک سے دیکھ رہے تھے۔ اب وہ اس بات کے متوقع تھے کہ میں ہر قدم پر ان کی رہنمائی کروں وہ اس بات سے شاید بخوبی واقف نہ تھے کہ اس جگہ میں بھی بالکل اجنبی تھی۔

میں نے ان کی سوالیہ نگاہوں کو دیکھ کر کہا ’کیا تمہاراخیال ہے کہ یولاندی یہ پسند کرے گی کہ کوئی شخص اس کے پاس رہے جب تک کہ اسے دفن نہیں کیا جاتا؟

بچوں کے چہرے کھل اٹھے اور کہنے لگا ’ہم چار پانچ کی ٹولی میں دو دو گھنٹے اس کے پاس رہیں گے۔ جب تک کہ دفنانے کا وقت نہیں آ جاتا‘

ان میں سے ایک بولا ’ہمیں خیال رکھنا ہے کہ مکھیاں اس پر نہ بیٹھنے پائیں‘ ۔

وہ نہ صرف جسمانی طور پر میرے قریب تھے بلکہ ذہنی اور جذباتی طور پر بھی قریب آ گئے تھے۔

سورج کی حدت آہستہ آہستہ کم ہونے لگی ’یولاندی کس قسم کی لڑکی تھی؟ ‘ میں نے آہستگی سے پوچھا۔

پہلے تو بچے حیرانگی سے مجھے دیکھنے لگے پھر ان میں سے ایک بولا

’ یولاندی ہوشیار لڑکی تھی‘ ۔ باقی بچوں نے اثبات میں سر ہلایا۔

’کیا وہ سکول باقاعدگی سے آتی تھی؟ ‘

’نہیں وہ کافی چھٹیاں کرتی تھی‘ ایک بولی

’ہمارے پچھلے استاد نے کہا تھا کہ اگر وہ باقاعدگی سے آتی تو زیادہ نمبر لیتی‘

’ اس سال تمہارے کتنے اساتذہ تھے؟ ‘

’ آپ تیسری ہیں۔ شاید اساتذہ کا یہاں دل نہیں لگتا۔ ‘

’ یولاندی کس طرح مری؟ ‘

’ وہ ٹی بی سے مری ہے‘ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔

اب وہ آہستہ آہستہ اس کے بارے میں باتیں کرنے لگے تھے۔ اور وہ دروازے جو کافی عرصے سے بند تھے آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔ وہ مجھے اس کی زندگی کے چنیدہ چنیدہ واقعات بتا رہے تھے۔ ایک دن وہ سکول سے گھر جا رہی تھی ’فروری کا مہینہ تھا‘ ’نہیں مارچ کا‘ دوسرے نے ٹوکا۔ ’اور راستے میں اس کی کتاب کھو گئی۔ اس کے بعد وہ ہفتوں اس کتاب کی خاطر روتی رہی۔ ‘

’ کتاب کھو جانے کی وجہ سے اسے باقی طلبہ سے کتاب عاریتاٌ لینی پڑتی تھی‘ اور میں نے کئی بچوں کے چہروں پر ناگواری کے تاثرات دیکھے جیسے وہ اسے اپنی کتاب دینا نہیں چاہتے تھے۔

’ ایک دفعہ گرجے کی تقریب کے لیے اس کے پاس نیا جوڑا نہیں تھا وہ روئی اس قدر روئی کہ ماں نے مجبور ہو کر گھر کے پردوں سے اس کا جوڑا بنایا۔ ‘

’ ان کے گھر میں صرف ایک ہی پردہ تھا‘ ایک بچہ بولا۔

’ کیا یولاندی اس جوڑے میں خوبصورت لگ رہی تھی؟ ‘

سب بچے مسکرا دیے۔ جیسے ان کے ذہن مین اس کی تصویر گھوم گئی ہو۔

میں چند لمحوں کے لیے لاش کا چہرہ دیکھنے لگی۔ وہ بچی جسے کتابوں سے محبت تھی جسے خوبصورت کپڑے مرغوب تھے آج خاموشی سے لیٹی تھی۔

میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو مجھے ایک جگہ بہت سے جنگلی گلاب اگے ہوئے دکھائی دیے۔ مینی ٹوبا میں بعض مقامات پر جنگلی گلاب گرمیوں میں کثیر مقدار میں اگ آتے ہیں۔ میرے دل کو پھول دیکھ کر عجیب سی خوشی ہوئی۔

’ آؤ یولاندی کے لیے کچھ گلاب لے آئیں‘

بچوں کے چہروں پر ایک دفعہ پھر غمگین مسکراہٹ پھیل گئی۔

بچوں نے پھول جمع کرنے شروع کر دیے۔ ان کی بے چینی کافی حد تک کم ہو گئی تھی۔ ان میں آہستہ آہستہ مقابلہ ہونے لگا کہ کون زیادہ اور سرخ رنگ کے گلاب جمع کرتا ہے۔ بعض دفعہ ان میں سے ایک بچہ مجھے دکھاتا

’دیکھیں میں نے کتنا خوبصورت گلاب چنا ہے‘

واپس آ کر ہم نے گلاب کی پتیاں لاش پر بکھیر دیں۔ اس کے چہرے کی زردی میں کمی کا احساس ہونے لگا۔

بچوں نے اس کے گرد دائرہ بنایا اور کوئی بولا

’ وہ اب تک جنت میں پہنچ چکی ہوگی‘

’ وہ اب خوش ہوگی‘ دوسرا بولا۔

میں ان کی باتیں سنتی رہی اور تسلی دیتی رہی۔ میں انہیں اس بات کا احساس دلا رہی تھی کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ زندہ ہیں۔

میں آج سوچ رہی ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ گرمیوں کے اس خوبصورت موسم میں بھی اس مردہ بچی کی یادیں بار بار میرے ذہن کی سطح پر ابھرتی چلی آ رہی ہیں۔

شاید اس وجہ سے کہ میں فضا میں جنگلی گلابوں کی خوشبو سونگھ رہی ہوں وہ خوشبو جس کا میں نے اس ماہ جون سے استعمال کرنا ترک کر دیا تھا جب میں ایک چھوٹے سے غریب گاؤں میں پڑھانے گئی تھی۔ یا زندگی کا ایک سبق سیکھنے۔ کچھ تجربہ حاصل کرنے۔

(نوٹ : کینیڈین لکھاری گبرائیل روئے 1909۔ 1983 کے افسانے کا ترجمہ)

۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 305 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *