”خدارا دلہن کو بخش دو“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج بہت دن بعد قلم اُٹھایا ہے اور تب ہی اُٹھاتی ہوں جب کوئی بات دل پر بے حد گراں گزرتی ہے۔ پوچھنا بس اتنا ہے کہ ہم اخلاقی طور پر اس قدر پستی کی طرف کیوں چل پڑے ہیں؟ ہم ایک دوسرے سے جینے کا حق کیوں صلب کر رہے ہیں؟ ہم کسی پر بھی کبھی بھی کسی بھی قسم کی کیچڑ اُچھال سکتے ہیں بغیر یہ سوچے اور سمجھے کہ اس کا اُس انسان کی زندگی پر کیا اثر ہو گا۔ ہم ایک چیز سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے اُس کو آگے فارورڈ کر دیتے ہیں۔

آج سوشل میڈیا پر متعدد اکاؤنٹس سے ایک دلہن کی تصویر شیئر کی جا رہی ہے جس کا شادی کا جوڑاغالباً مخصوص پاکستانی انداز سے کُچھ مُختلف ہے۔

جوڑا نئے انداز کا ہے اور کُچھ مغربی عروسی ملبوسات سے متاثر ہو کر بنوایا گیا ہے۔ اس لباس میں ٹیل ہوتی ہے یعنی دلہن کا لباس بہت ہی وسیع و عریض کپڑے سے بنایا جاتا ہے کہ جب دلہن چلے تو اُس کا لباس زمین پر گھسٹتا ہوا دکھائی دے جیسے کسی ملکہ کا لباس ہو۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ ہم کسی کی شادی میں جاتے ہیں، وہاں اپنے فون سے تصویر لیتے ہیں اور سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں۔ اُس کے بعد کسی وبا کی طرح اُس کو مرچ مصالے لگا کر آگے فارورڈ کرتے چلے جاتے ہیں بغیر یہ سوچے کہ جس خاتون یا مرد کی ویڈیو ہے یا تصویر ہے اُس کی زندگی پر اس حرکت کا کیا اثر پڑے گا۔ جس دلہن کی تصویر کا میں ذکر کر ہی ہوں اُس کے بارے میں کسی نے کہا ”پی ایس ایل اسی پر کروا دیتے“، کسی نے کہا ”سہاگ رات کا کمبل“، ”کسی نے سوال پوچھا کہ یہ کیسا جوڑا ہے۔

اب اس طرح کا لباس تو پریانکا چوپڑا نے بھی اپنی شادی پر پہنا تھا۔ اُس وقت تو سب واری صدقے ہوئے جا رہے تھے۔ اس بے چاری پاکستانی دلہن کا لباس تو صرف سٹیج پر ہی پھیلا ہوا تھا، پریانکا چوپڑا کا لباس ستر فٹ پر محیط تھا۔

یہ جو کُچھ بھی یہ تمام لوگ لکھ رہے ہیں یہ سائیبر بُلینگ کے زمرے میں آتا ہے کہ جب کسی انسان کوایک آدمی یا ایک سے زیادہ لوگ آن لائن مذاق کا نشانہ بنائیں۔ اس بُلینگ کا متاثرہ انسان کی نفسیات اور زندگی پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے متاثرہ فرد خودکشی تک کرنے کا مرتکب ہو جاتا ہے۔

اپنے کُچھ لمحوں کے لطف کے لیے خدارا کسی کی شادی کے دن کو تباہ نہ کیجیے۔ اُس بے چاری نے کتنے ارمانوں سے وہ جوڑا تیار کروایا ہو گا اور وہ اُس کو پہن کر کتنی خوش ہوئی ہو گی، لیکن جس طرح اُس کی تصویر کو وائرل کیا جا رہا ہے اُس سے یقیناً اُس کی شادی شدہ زندگی پر وقتی طور پر بہت برا اثر پڑے گا۔ شادی کا دن ہر کسی کے لیے اہم ہوتا ہے اور اگر کوئی اُس کا تمسخر اُڑائے تو یہ بہت ہی دُکھ کی بات ہے۔ میں متعلقہ اداروں سے گزارش کرتی ہوں کہ اُس تصویر کو شیئر ہونے سے روکا جائے بلکہ جو لوگ شیئر کر چکے ہیں اُن کی ٹویٹس اور پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا جائے تا کہ وہ دلہن اپنی شادی شدہ زندگی کا آغاز خوشی سے کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *