” بلوچستان میں لائبریریز کی ضرورت“


میں نے اکثر سیاسی راہنماؤں کو جلسوں میں تقاریر کرتے ہوئے عظیم مفکرین کے اقوال، نظریوں اور افکار کو دہراتے ہوئے اور ان کا حوالہ دیتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ہر دوسرا سیاسی و سماجی کارکن خود کو کسی مفکر کا مرید یا فالوور بتاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بھی عظیم لوگوں کے تعلیمی دور کو محنت، مشقت، پڑھنے اور لکھنے کے عمل سے لبریز دکھایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں گھروں میں بچوں کے سامنے خاندان کے کسی پڑھاکو اور اعلی عہدے پر فائز شخص کو بطور قابل تقلید مثال پیش کیا جاتا ہے۔ یعنی معاشرے میں انہی اشخاص کو قابل تقلید بنا کر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے زندگی کی بیشتر بہاریں کتب بینی کی نذر کی ہوتی ہیں۔ جنہوں نے پڑھنے، لکھنے یعنی کتب بینی کو زندگی کے باقی کاموں پر ترجیح دی ہوتی ہے۔

تصویر کا ایک رخ دیکھنے کا شرف حاصل کرنے کے بعد آپ کو دوسرا رخ بھی دکھاتے ہیں۔ اول تو یہ بتاتے چلیں کہ پہلے پیراگراف میں کی گئی باتیں محض کھوکھلی باتیں ہیں جن کا علم و عمل سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ جو سیاسی راہنما اقتدار میں آتے ہیں۔ وہی کتاب بینی کے فروغ میں دلچسپی نہیں دکھاتے۔ تعلیمی اداروں میں کتب بینی کے بہ جائے رٹہ لگانے کی ترغیب دی جاتی ہے تو وہیں گھروں میں بچوں کو کتاب پڑھنے کی طرف راغب کرنے کی بہ جائے موبائل فون، کمپیوٹر گیمز اور ٹی وی دکھائی جاتی ہے۔ اب ایسے ماحول میں تھوڑی کوئی سقراط، افلاطوں اور ارسطو نکلے گا۔ ہرگز نہیں۔

بلوچستان کی پچھلی حکومتوں نے جس بے دردی سے کتب بینی کا بیڑا غرق کیا۔ موجودہ حکومت بھی ہر حوالے سے کتب بینی کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کے درپے ہے۔ اول تو ملک کے سب بڑے صوبے میں ایک بھی بڑی لائبریری نہیں ہے۔ محکمہ بلدیات کی لائبریریز تو کب کی غیر فعال ہوگئی ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں میں قائم لائبریریز نوجوانوں کی ضرورت بالکل بھی پورا نہیں کرتیں۔ علاؤہ ازیں صوبے میں نئی لائبریریز کے قیام پر بالکل بھی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ جس کے باعث صوبہ بلوچستان میں ستر سال سے نہ کوئی بڑا سائنسدان پیدا ہوا ہے۔ نہ کوئی سیاسی مفکر اور زندگی کے کسی اور میدان میں اپنا اور صوبے کا نام روشن کرنے والا کوئی اور۔

الغرض! دنیا کے غریب ترین اور پسماندہ صوبے کو کھڈے لائن سے نکالنے کے لئے موجودہ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ صوبہ بھر میں پہلے سے قائم شدہ لائبریریز کو فعال کرے۔ موجودہ لائبریریز کی ضروریات کو پورا کیا جائے۔ علاؤہ ازیں موجودہ صوبائی اسمبلی کے ہر رکن کو چاہیے کہ وہ اپنے مخصوص فنڈز میں سے اپنے اپنے شہروں میں کم از کم دو لائبریریز کا قیام عمل میں لائے۔ کتب بینی کو فروغ دے کر ہی صوبہ ترقی و خوشحالی اور موجودہ دور کے تقاضوں اور مندرجات کو طے کر سکتا ہے وگرنہ ہمارا صوبہ، اس کے عوام اور بالخصوص ہمارے نوجوان منشیات، پسماندگی، جہالت اور غریبی کے دلدل میں مزید دھنس جائیں گے۔

Facebook Comments HS