کشمیر ”فریڈم سپرنگ“ کے رنگ مظفر آباد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے قبضے کے خلاف کشمیر میں گزشتہ تیس سال سے بالخصوص آزادی کی بہار ( فریڈم سپرنگ) جاری ہے۔ اس ’فریڈم سپرنگ‘ میں گرمی، خزاں اور سرد موسم بھی آتے رہے لیکن کشمیری نوجوانوں کی مزاحمتی جدوجہد اور قربانیوں کی ’فریڈم سپرنگ‘ جاری و ساری ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنے خون سے کشمیرکی آزادی کی اس بہار کو رنگین کیا ہے۔ انڈین فورسز کے تشدد، گرفتاریوں، قید و بند، ظلم وجبر کے تمام ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیر کی ’فریڈم سپرنگ‘ کا موسم نہیں بدلا۔

نام نہاد الحاق کے نام پرانڈیا کامقبوضہ کشمیر پر پہلے بھی قبضہ تھا اور خود انڈیا نے اس نام نہاد الحاق کی شرائط کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اب انڈیا کی مودی حکومت خوش ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو انڈیا میں مدغم کر دیا گیا ہے لیکن اس اقدام سے انڈیا کو دولاکھ سے زائد مزید فوجی مقبوضہ کشمیر میں متعین کرنا پڑے ہیں۔ کشمیر کو مدغم کرنے کے بعد کی غیر معمولی صورتحال کے باوجود مودی کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ختم کر دیا گیا ہے لیکن کشمیر کے چناروں میں سلگتی آگ آزادی مزاحمتی تحریک کے زندہ اور جاوید ہونے کی حقیقت بیان کر رہی ہے۔

نہتے کشمیریوں کے خلاف انڈین حکومت کے بدترین جبر و تشدد کی صورتحال عالمی سطح پہ بیان ہو رہی ہے اور اس کی مذمت کی جارہی ہے۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی ہدایت پر مظفر آباد کے جلال آباد پارک کے ایک کشادہ حصے میں ٹیولپ کے پھولوں کا ایک خوبصورت باغ تیار کیاگیا ہے جس میں مختلف رنگوں کے ٹیولپ کے کھلے پھول سرینگر کے ٹیولپ گارڈن کی یاد دلاتے ہیں۔ سرینگر کے زبر ون پہاڑ کے سائے میں اور ڈل جھیل کے سامنے 30 ہیکٹر پر مشتمل ٹیولپ گارڈن تقریبا بارہ تیرہ سال پہلے، اس وقت کے وزیر اعلی غلام بنی آزادکی ہدایت پر قائم کیا گیا تھا۔

اس ٹیولپ گارڈن کی تشکیل میں ’فلوری کلچر‘ ڈیپارٹمنٹ کے افسر جاوید شاہ نے کلیدی کردار ادا کیا۔ سرینگر کے ٹیولپ گارڈن میں ٹیولپ کی 48 اقسام کے پندرہ لاکھ پودے لگے ہوئے ہیں۔ سرینگر کا یہ باغ ایشیا میں ٹیولپ کا سب سے بڑا باغ ہے۔ اس کا افتتاح 2007 میں ہوا۔ ٹیولپ کے اس وسیع احاطے میں فوارے بھی نصب کیے گئے ہیں۔

سرینگر ٹیولپ گارڈن کے تخلیق کار جاوید شاہ کچھ عرصہ قبل پاکستان اور آزاد کشمیر کے دورے پر آئے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کی خواہش پرجاوید شاہ نے ٹیولپ کے باغ قائم کرنے کے حوالے سے آزاد کشمیر کے چند مقامات کا دورہ کیا تھا۔ 22 فروری 2020 کو وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے مظفر آباد کے جلال آباد پارک میں ٹیولپ گارڈن کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر جاوید شاہ بھی موجود تھے۔ افتتاح کے موقع پر سوشل میڈیا پہ شائع اس ٹیولپ گارڈن کی تصویریں دنیا بھر میں دلچسپی سے دیکھی جا رہی ہیں اور آزاد کشمیر میں اس پہلے ٹیولپ گارڈن میں دلچسپی لی جا رہی ہے۔

ٹیولپ گارڈن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی، سفارتی مدد کے بیان سے اب کام نہیں چلے گا، جو حکومت بھی آتی ہے، حکومت کانام بدل جاتا ہے، ترجمان کا نام بدل جاتا ہے لیکن جملہ یہی ہوتا ہے کہ اخلاقی، سیاسی، سفارتی مدد جاری رہے گی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ میں ذمہ داران سے کہتا ہوں کہ انہیں کیا ہو گیا ہے، امریکہ آپ کو نہیں چھوڑے گا، آپ چادر لے کر خوف سے لیٹے ہوئے ہیں کہ دشمن مجھے نہیں دیکھ رہا، یہ صرف فوج کی نہیں، قوم کی جنگ ہو گی، آپ کیوں ڈرتے ہیں؟ آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟ دشمن کیا کرلے گاآپ کے ساتھ، باہر نکلیں۔

وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ میں گزارش کرنا چاہتا ہوں جن کی طرف میرا اشارہ ہے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے، اگر آپ نے ان کی مدد نہ کی تواللہ آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گا، کھل کر سامنے مدد کریں کوئی خوف نہیں ہے، ایران کا امریکہ نے بگاڑ لیا جو ہندوستان آپ کا بگاڑ لے گا، امریکہ نے کیوبا کا کیا بگاڑ لیا؟ لیکن بات یہ ہے کہ کھڑے ہونے کی بات ہے، کیوں آپ جنگ سے ڈرتے ہیں، بار بار کہتے ہیں کہ جنگ نہیں کرنا چاہتے، کیوں نہیں کرنا چاہتے جنگ آپ؟

کیا ہو گیا ہے آپ کو؟ آپ نامرد ہیں؟ کیوں نہیں کرنا چاہتے؟ اگر کل اس نے کی تو آپ کیا کریں گے؟ چوڑیاں رکھیں گے اس کے آگے؟ جب تک یہ ریاست قائم ہے، ریاست آزاد جموں وکشمیر، کشمیر کے مسئلے پر کوئی سودے بازی نہیں کر سکتا، ادھر سے ہو یا ادھر سے ہو، نہ ادھر سے نہ ادھر سے کوئی بھی نہیں کر سکتا، نہ ادھر سے کوئی کرے گا نہ ادھر سے کسی کو کرنے دیں گے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آج کل اسلام آباد، لاہور، کراچی میں شام کوایلیٹ کلاس بیٹھتی ہے، شراب کی بوتل کھول کر کہتے ہیں کہ چھوڑو اس کو بس ہو گیا، تمہارے باپ کا سر، ہو گیا ہے جو ہو گیا ہے، تمہاری بیٹی، بیوی، بہن، ماں کے ساتھ اس طرح سلوک کرے جو انڈیا کرتا ہے تو تم پھر بھی یہی بوتلیں پئیو گے؟ پتہ نہیں کہ لوگوں کی غیرت کو کیا ہو گیاہے، یہ جو نام نہاد دانشور رات کو آپس میں بیٹھ کر ڈرائینگ روم میں باتیں کرتے ہیں، اسلام آباد، لاہو ر، کراچی میں، لعنت ہو ان کو۔ ہمیں اپنی افواج پر یقین ہے کہ وہ کشمیریوں کو مایوس نہیں کریں گی، ہمیں ایلیٹ کلاس سے نہیں بلکہ پاکستان کے عام آدمی سے یہ توقع ہے کہ جس طرح 72 سال سے وہ ہمارے ساتھ کھڑا ہے اسی طرح کھڑا رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *