سوکھی گھاس اور دودھ کی نہریں


ریاست کا کردار ایک ماں کی طرح ہوتا ہے جو ہمہ وقت اپنی اولاد کے لئے فکرمند ہوتی ہے۔ گھرمیں ماں کی مانند ریاست بھی اپنے بیٹے بیٹیوں پر چند پابندیاں بھی عائد کرتی ہے، جن کامقصدسازگار ماحول، اندرونی طور پر امن و امان کاقیام، بدامنی، افراتفری اور بغاوت کا خاتمہ اورطاقتور کے مقابلے میں کمزوروں اور لاچاروں کو تخفظ فراہم کرنا ہے۔ بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لئے فوج کا محکمہ جبکہ اندرونی خطرات سے بچنے کے لئے پولیس اور اس کے دیگر مددگار محکموں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ انصاف کی فراہمی کے لئے عدالتی نظام ہے۔ ریاست اپنے تمام امور کو سر انجام دینے کے لئے شہریوں سے ٹیکس کی مد میں رقم اکٹھی کرتی ہے، جس کی مدد سے مختلف اداروں کو چلایا جاتا ہے۔ عوامی مفاد کے لئے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن کے ذریعے شہریوں کی زندگیاں آسان ہوسکے۔

ٹیکس کا نظام اُتنا ہی قدیم ہے، جتناکہ بادشاہی نظام لیکن اِنسانی تاریخ میں لازمی ٹیکس کا باقاعدہ نظام ہمیں صرف پہلی اسلامی ریاست مدینہ کے قیام کے بعد مِلتا ہے۔ ٹیکس کے بدلے اقلیتوں کو حکومت کی جانب سے جان و مال کی حفاظت کے علاوہ چند بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی ممکن بنائی جاتی ہے لیکن اگر اس کے باوجود ایسا ممکن نہ ہو تو تمام ذمہ داری ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ریاست پاکستان کے باسی ریکارڈ ٹیکس دینے کے باوجود تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

عام شہری کو خواہ خوشحال ہو یا غریب، اُسے اپنی جان و مال کا تحفظ درکار ہے، اپنے بچوں کے لئے مناسب تعلیم درکار ہے، صحت کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، صاف پانی اور بغیر ملاوٹ کے خوراک درکار ہے۔ اگر ریاستی ادارے اپنے ان فرائض کو پورا کرنے میں ناکام ہوں گے اورجان و مال کی حفاظت تو دور روزگار بھی میسر نہیں ہو گا تو لازمی ہے کہ شہری ہر جائز اور ناجائز طریقے سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ایک حالیہ ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کے معاشی حالات بہتر کرنا ہے۔ کم آمدنی والے اور غربا کے لیے صنعتوں کا پی ٹی آئی حکومت کی فروغ اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے ایسے اعلانات خوش آئند ہیں لیکن جو لوگ صنعتی شعبے میں جاری بحران کے باعث بے روزگار ہو چکے ہیں، ان کے لئے حکومت نے کیا پلاننگ کر رکھی ہے؟ ہر شعبے سے سینکڑوں افراد اپنا روزگار کھو چکے ہیں جبکہ بے یقینی کی صورتحال تاحال برقرارہے۔ صاحب اقتدار طبقہ مہنگائی اور بے روزگاری سے جڑے ان تما م حقائق کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کو دے رہا ہے۔ ان کے مطابق حکمران طبقہ بحران حکومت کو بلیک میل کرنے کے لئے ہے اورصنعتی اور دیگر شعبوں میں بے یقینی کی صورتحال پیدا کرنے میں کرپٹ عناصرملوث ہیں۔

میڈیا بحران شروع ہو ا تو مالکان کے کان پر تو جوں تک نہ رینگی مگر اس شعبے سے وابستہ ہزاروں افراد کی چولہے ناصرف ٹھنڈے ہوئے بلکہ درجنوں افراد روزگار چھن جانے کے بعد جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔ حکمران طبقے کی جانب سے اپنا کاروبار شروع کرنے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن 15 ہزار کمانے والا شخص اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے رقم کہاں سے حاصل کرے گا؟ کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص سے روزگار چھین لیا جائے جو گزشتہ کئی برسوں سے اس سے منسلک تھا، تو یہ ایسا ہی ہو گا کہ 10 سال ایک کام میں مہارت حاصل کرنے کے بعد کہا جائے یہ تمہارے لیے بہتر نہیں ہے، کوئی اور ہنر سیکھیں۔

آٹا، گیس بحران اور بڑھتی بے روزگاری کے بعد نیا مسئلہ پاکستان سمیت پنجاب بھر میں جرائم کی بڑھتی شرح ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں روزانہ کی بنیاد پر 150 سے 200 گاڑیاں، 500 سے 600 موٹر سائیکل اور 3 ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔ 2018 کے مقابلے میں 2019 میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 71 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں کرائم کی شرح میں 37 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جس سے محکمہ پولیس کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

گینگ ریپ کی وارداتوں میں ڈیرہ غازی خان 91 فیصد شرح کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ لاہور میں 70 فیصد، گوجرانوالہ میں 85 فیصد، راولپنڈی میں 18 فیصد اور سرگودھا میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ڈکیتی اور مزاحمت پر قتل کی وارداتوں میں گوجرانوالہ میں 34 فیصد، سرگودھا میں 16 فیصد، ملتان میں 29 فیصد، فیصل آباد میں 07 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق چوری کی وارداتوں میں لاہور ریجن سرفہرست ہے جبکہ سرگودھا ریجن میں 20 فیصد، فیصل آباد ریجن میں 10 فیصد، ساہیوال ریجن میں 7 اور ڈی جی خان ریجن میں 7 فیصد اضافہ ہو اہے۔

چند دن قبل سرگودھا میں محکمہ پولیس کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ بات دیکھنے کو ملی۔ شہری نے ڈاکوؤں سے مال و اسباب چھینے جانے کے بعدپولیس کو طلب کیا تو نفری میں ڈاکوؤں کا ایک ساتھی بھی شامل تھا۔ شہری نے شناخت کرنے کے بعد کافی شور مچایا تو اس اہلکار کے خلاف ادارے نے کارروائی کی حامی بھری۔ ایسے واقعات کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں، بلکہ یہ روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ایسا کیسے ممکن ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے اچانک سے جرائم کی شرح میں اضافہ ہو جائے۔ کیا حکومت کی تبدیلی سے محکمہ پولیس میں نئے افراد بھرتی کیے ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ منشیات فروشی، بھتہ خوری، ناجائز قبضوں اور دوسرے جرائم کے پیچھے پولیس یا ان کے زیر سرپرست افراد ملوث ہوتے ہیں۔

جرائم کی شرح میں اضافہ بے روزگاری کے علاوہ اس وقت بھی دیکھنے کو ملتا ہے جب معاشرے میں انصاف کا فقدان ہو۔ قتل کے مجرم ثبوتوں کی عدم دستیابی کے باعث باعزت بری ہو جائیں جبکہ مقتول کے لواحقین کو برسوں وکلاء کی بھاری فیسیز ادا کرنے کے باوجود صرف ناکامی دیکھنے کو ملے۔ مشہور ہے کہ اگر کوئی بھی کیس جیتنا چاہتے ہیں تو پولیس کی مدد سے سارے حقائق کو مسخ کر دیں، عدالت خود بخود آپ کے حق میں فیصلہ کرے گی۔

ریاست پاکستا ن عام شہری پر عائد تمام فرائض کو من عن پورا کروانا چاہتی ہے مگر اس کی جان اور مال کی کوئی گارنٹی نہیں ہے جبکہ ذریعہ معاش پر بھی تالے لگائے جا رہے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ گوالہ صبح شام دودھ دوہنا چاہے مگربدلے میں بیچاری گائے کو سوکھی گاس پر ہی قناحت کرنا پڑتی ہو۔ اگر گوالہ چاہتا ہے کہ اس کے برتن صبح شام دودھ سے بھرے رہیں تو گائے کوبھی سوکھی گاس کے بجائے سبز چارے کی عادت ڈالنا ہو گی، ورنہ زیادہ دیر تک ڈنڈے کا استعمال نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS