بلوچستان میں اقربا پروری کی حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صوبے میں گزشتہ 18 ماہ سے شفافیت کا راگ سننے کو ملتا ہے اس راگ کی حقیت اکثر خود حکومتی اقدامات اور دفتری حکم نامے بے نقاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اتوار کے دن صوبائی حکومت نے بند سول سکریٹریٹ کھول کرایک اعلی حکومتی بیوروکریٹ کے قریبی رشتہ دار جو کہ سکریڑی ہیں اور یوں گھمنڈ اور غرور کا شکار ہیں کہ بلوچستانی کہ عوامی منتخب نمائندوں سے بھی ملنا گوارا نہیں کرتے ہیں کے دوست اور ایک ایسے افسر جس کے خلاف موجودہ وزیراعلی بلوچستان خود تنزلی کا حکم دے چکے ہیں جس پر بطور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ محکمہ تعلیم میں 260 غیرقانونی بھرتیوں کا الزام ثابت ہوچکا ہے جس کے خلاف سکریڑی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو کارروائی کے لئے صوبائی حکومت خط لکھ چکی ہے کو معطل کرنے کے بجائے کرپشن کا انعام دیتے ہوئے اتوار کے روز ایڈیشنل سکریڑی صحت سے اسپیشل سکریڑی صحت کے گریڈ 20 کے پوسٹ پر فائز کردیا گیا ہے اتوار کو صوبے کے مفادات کے برعکس اپنوں کی محبت میں ہونے والے اس ہنگامی نوٹیفیکیشن کو جاری کرنے والوں کو شاید بھی معلوم نہیں ہے کہ اس کرپشن کے الزام کے زد میں رہنے والے طاہر ظفر عباسی سے ڈی ایم جی سروس کے ایک سینئر افسر ولی بڑیچ بھی محکمہ صحت میں بطور ایڈیشنل سکریڑی کام کررہے ہیں جو اب اس کے ماتحت ہوگئے ہیں بلوچستان کے باسی یہ بات بہتر جانتے ہیں کہ جام کمال یوں تو بطور وزیراعلی بلوچستان گزشتہ اٹھارہ ماہ سے یہی دعوے کرتے ہوئے نظرآرہے ہیں کہ نہ غلط کام کیا ہے نہ غلط کام کرنے دوں گا اگر یہ ارڈر غلط کام نہیں ہے تو کیا ہے کیا یہ سوال درست نہیں ہوگا کہ جام نے اس افیسر کے خلاف کارروائی کا حکم دے کر غلط کیا تھا یا یہ آرڈر غلط کیا؟

ایک کرپٹ افسر کو محکمہ صحت جیسے اہم ترین محکمے میں کس طرح اہم ترین عہدے پر تعینات کیا ہے جس کو معطل کرنا تھا وہ اسپیشل سکریڑی بن جائے تو کیا یہ بات وزیراعلی کے شفافیت کے بیانیہ کو مشکوک نہیں بناتی ہے بلوچستان کے حکومتی معاملات کو جس طرح پسند اور ناپسندید کی بنیاد پر چلایا جارہا یہ پریشان کن ہے اس سے یاد آتا ہے کہ بچپن میں بعض درختوں پر ایک پیلی سی زرد رنگ کی بیل نما ایک بوٹی چمٹی ہوئی نظر آتی تھی اس کے پتے نہیں ہوتے ہیں لیکن جس درخت کے ساتھ چمٹی ہوتی تھی تو ہمیں پتا چل جاتا تھا کہ اب اس درخت کے ہرہے بھرے رہنے کے دن گنے جا چکے ہیں اور اب جلد ہی اس درخت نے سوکھ جانا ہے یہ آکاس بیل اس کی زندگی لے کر ہی چھوڑے گی آکاش بیل اپنی خوراک میزبان درخت سے حاصل کرتی ہے اور جب وہ درخت سوکھ جاتا تھا تو پھر یہ درخت سے گر پڑتی تھی اور کسی دوسرے درخت کے انتظار میں ہوتی تھی۔

بچپن میں چونکہ بچے شرارتی ہوتے ہیں انہیں غالبا درخت میں زندگی کا احساس نہیں ہوتا اسی لیے چند شرارتی بچے اس بیل کا کچھ حصہ ایک صحت مند درخت پر پھینک دیتے تھے یوں اس درخت کی بربادی یا زندگی سے خاتمے کی جانب سفر شروع ہو جاتا۔ میں سوچنے لگا کہ کہیں بلوچستان کے درخت سبھی کئی آکاس بیلیں تو چمٹی ہوئی نہیں ہیں جس سے یہ ہرا بھرا بلوچستان سوکھتا ہی جارہا ہے جس درخت کے ساتھ آکاس بیل چمٹی ہو اسے آپ جتنا پانی دیں جتنی مرضی کھاد دیں اس نے خشک اور مردہ ہونا ہی ہے جب تک کے آکاس بیل کو اس سے جدا نہ کر لیا جائے۔

اسی طرح بلوچستان میں جتنے بھی ریسورسز ہوں یہ سرسبز اور خوشحال نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس سے چمٹی ہوئی آکاس بیلوں کو اتار کر نا پھینکا جائے۔ بلوچستان کو چمٹی ہوئی آکاس بیلیں مختلف اقسام کی ہیں۔ جن میں سب سے خطرناک قسم تو یقینا وہ ہے جو بظاہر اس پر حکمران ہیں جن کی وجہ سے اربوں روپے کے ریسورسز کے باوجود آپ کوئٹہ سے رکھنی سفر کریں یا کوئٹہ سے بیلہ یا جیکب آباد تک جائیں آپ کو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئے گی بلکہ پہلے سے زیادہ غربت اور ویرانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

عام لوگ ایک کلاس فور کی نوکری حاصل کرنے کے لئے اپنے گھر کی تمام مال و متاع کے علاوہ سود پر قرض بھی لینے کو تیار ہوتے ہیں لیکن نوکری پھر بھی نہیں ملتی۔ جب حکمران طبقہ نوکری پیدا کرنے کے ذرائع کی بجائے چندٹھیکیداروں یا مخصوص لوگوں کو نوازنے کے لیے اسکیمات رکھیں تو وہاں پھر ایسا ہی ہوگا۔ جام کمال کا ٹوئٹر اکاونٹ دیکھنے کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے اگلے بجٹ سے پہلے بلوچستان سنگاپور اور ہانگ کانگ کو پیچھے چھوڑ دیگا۔ اس شکوک و شبہات سے بھرے ہوئے آرڈر کرنے والے وزیراعلی بلوچستان کی ڈکشنری میں پتہ نہیں ہے اصلاحات کے کی معنی ہیں؟ اور یہ آرڈر کس مجبوری کے تحت کیا گیا ہے اور اتنی محنت سے شاطر افیسران کی لفاظی کو اپنے ٹویٹ میں بیان کرنے کی بجائے صرف سادہ الفاظ میں یہ بتا دیں کہ

1۔ ان 18 ماہ میں اتنی سرکاری ملازمتیں میرٹ پر دی گئیں اور پراسس اتنا شفاف تھا کہ کہیں سے کوئی شکایت نہیں آئی۔

2۔ صنعت کے میدان میں ایسے حالات یا ایسی پالیسیاں بنائی ہیں جس کی وجہ سے پرایوئٹ سیکٹر میں اتنی نوکریاں پیدا ہوئیں۔ بوستان سپیشل انڈسٹریل زون کا آپ نے ذکر کیا ہے اگر تکلیف نہ ہو تو سرکاری ہیلی کاپٹر میں اس کا چکر لگا لیجیے۔ سوائے کتبے کے کچھ نہیں ملے گا۔ سب انکروچ ہو چکاہے۔

3۔ صحت سہولیات کی دستیابی اب اس لیول کی ہے ک ہم ایک بھی مریض کراچی یا سی ایم ایچ ریفر نہیں کر رہے یا پہلے اتنے مریض ریفر ہوتے تھے اب 18 ماہ میں ان کی تعداد صفر ہو گئی ہے۔

4۔ علم کی روشنی تو اتنی پھیل چکی ہے کہ پہلے میٹرک، ایف اے / ایف ایس سی اور بی اے / بی ایس سی کا رزلٹ اتنے فیصد تھا اور ہمارے 18 ماہ میں اتنے فیصد بڑھا ہے۔ یا بچوں کے سکول جانے کی تعداد پہلے اتنی تھی اب ہم نے اتنی بڑھائی ہے۔ ڈراپ آوٹ اتنا کم ہوا ہے۔

5۔ پہلے اتنے دیہات بجلی کی سہولت رکھتے تھے ہم نے ان 18 ماہ میں اتنا اضافہ کیا ہے۔

6۔ پہلے اتنے فیصد لوگوں کو صاف پانی کی سہولیات تھیں اور اتنے شہر یا گاؤں میں صاف پانی کی سہولت تھی ہم نے ان 18 ماہ میں اتنے مزید گاؤں یا شہروں کو یہ سہولت دی ہے۔

7۔ خود احتسابی اتنی سخت کی ہے جس کی وجہ سے بدعنوان افسروں سے ان 18 ماہ میں اتنے غریب عوام کے پیسے ریکور کیے ہیں اور اتنے بدعنوان افسروں کو نکالا ہے۔

8۔ سوشل ویلفیئر میں ان 18 ماہ کے دوران اتنے یتیموں، بیواوں، معذوروں کو گزارا الاونس دیاہے اور ہم نے غریب مریضوں کے مختص شدہ فنڈ سے لگثرری گاڑیاں بالکل نہیں خریدی ہیں۔

اگر یہ موازنہ نہیں کر سکتے تو اس لفاظی سے شاطر افیسران آپ کو تو بیوقوف بنا سکتے ہیں ہمیں نہیں۔ اگر موازنہ کرنا ہے تو دہلی کے وزیراعلی کیجریوال کی طرح بیان کریں۔ نہ کہ اسلام آباد اور لاہور کی ٹوئٹر کے اپنے فالوز کو مطمئن کرنے کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کرکے پیش کیاجائے۔ وزیراعلی کے لئے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ رشتہ داری نوٹیفیکیشن واپس لیتے ہیں کہ نہیں اور ان کا اپنی حکومت پر کتنا کنٹرول ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *