قلندر تو ہار جیت سے بے نیاز مست فقیر ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پانچواں برس ہے کہ بعض لوگ مسلسل لاہوری قلندروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ وہ میچ کیوں نہیں جیتتے۔ ان ناقدین کو قلندروں کی روایات کا ہی علم نہیں ہے۔ انہیں کیا پتہ کہ ایک قلندر کی نگاہ میں فتح کیا ہوتی ہے اور شکست کا پیمانہ کیا ہے؟ قلندر بالکل ملنگ ہوتے ہیں۔ انہیں ہار جیت کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اپنی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ نہ کسی کا فائدہ کرتے ہیں اور نہ نقصان۔ وہ تو سب کا بھلا چاہتے ہیں۔ اب ایک میچ میں دوسری ٹیم کا نقصان کرنے کی بجائے اس کا بھلا چاہا جائے تو میچ جیتنے کا تو سوال ہی نہیں، ہارا ہی جائے گا۔ اسی وجہ سے لاہور قلندر ہمیشہ ہارتے ہیں۔

آئیے ہم سب سے پہلے تو دیکھتے ہیں کہ قلندر ہوتا کون ہے۔ لغت کے مطابق قلندر کے مندرجہ ذیل مطالب ہوتے ہیں :

1۔ (تصّوف) وہ شخص جو روحانی ترقی یہاں تک کر گیا ہو کہ اپنے وجود اور علائقِ دنیوی سے بے خبر اور لا تعلق ہو کر ہمہ تن خدا کی ذات کی طرف متوجہ رہتا ہو اور تکلیفات رسمی کی قیود سے چھٹکارا پا گیا ہو، عشقِ حقیقی میں مست فقیر۔

2۔ دین و دنیا سے آزاد آدمی، رند، لا اُبالی۔
3۔ بے نوا، تہی دست آدمی۔
4۔ وہ فقیر جو سر اور ڈاڑھی منڈاتا ہے اور بیوی بچّوں کو چھوڑ کر جابجا پھرتا ہے، جوگی۔
5۔ ریچھ اور بندر نچانے والا، مداری، تماشا دکھانے والا۔

آپ غور کریں تو لاہوری قلندروں میں تقریباً تمام مندرجہ بالا خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ وہ اپنے وجود اور علائق دنیوی سے بے خبر ہیں، انہیں کچھ علم نہیں ہوتا کہ سٹیڈیم میں کیا ہو رہا ہے اور میچ کی کیا صورت حال ہے۔ وہ نہایت لا ابالی پن سے میچ کھیلتے ہیں۔ میچ کا نتیجہ نکلتا ہے تو دکھائی دیتا ہے کہ ان سے بڑھ کر بے نوا اور تہی دست کوئی دوسرا نہیں۔ انہوں نے داڑھی تو خود منڈوائی ہے اور سر مخالف ٹیم مونڈ دیتی ہے۔ اور ان کے کچھ مداح میچ کا نتیجہ نکلنے پر ریچھ کی طرح غضبناک انداز میں ناچتے ہیں تو کچھ بندر کی طرح۔

علم الاسما کے ماہرین ہمیں صدیوں سے بتاتے آ رہے ہیں کہ نام کا انسان کی شخصیت پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ جب ان کا نام ہی قلندر رکھ چھوڑا ہے تو یہ یہی سب کچھ کریں گے۔ اس لئے انہیں بے قصور جاننا چاہیے۔ انہیں دوڑا دوڑا کر اور ٹریننگ کر کے ہلکان کرنے کی بجائے ان کا نام بدلا جائے تو پھر ہی ان کی قسمت بدلے گی۔

اب یہاں ہمارے ذہن میں دو نام ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ان کی جنم بھومی کی رعایت سے ان کا نام رکھ دیا جائے۔ لاہوری بادشاہ کا نام تو کپل دیو لے اڑے، لیکن سرزمینِ ماجھا سے تعلق ہونے کی وجہ سے انہیں لاہوری ماجھے کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ماجھے کی مقدس سرزمین دریائے بیاس کے کناروں سے شروع ہوتی ہے اور جہلم کے کنارے تک جا پہنچتی ہے۔ درمیان میں لاہور، امرتسر اور گوجرانوالہ جیسے عظیم شہر اس کا مان بڑھاتے ہیں۔ ٹیم کا نام لاہوری ماجھا رکھیں اور پھر دیکھیں کیسے کوئی دوسری ٹیم ان کے آگے ٹک پاتی ہے۔ لاہور کے ماجھے گامے تو رستم ہند اور رستم زماں سے کم کے تمغے پر اکتفا ہی نہیں کرتے۔ اس نام کی تاثیر انہیں چیمپئین بنا دے گی۔

اگر صوفیت سے لگاؤ کی وجہ سے قلندر کا نام تبدیل کرنے میں کچھ تامل ہے تو پھر صوفی طریق میں بھی میچ کے نقطہ نظر سے قلندر سے بہتر نام موجود ہے۔ صوفیت میں مجذوب نام کے درویشوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ صوفیت میں یہ اصطلاح کثرت سے دیکھنے میں آتی ہے اور اس سے مراد ایک ایسی شخصیت کی ہوتی ہے کہ جو کسی راہ میں اس قدر غرق ہو چکی ہو کہ جہاں اس کے بعد شعور کی کیفیات باقی نا رہی ہوں۔ مجذوب کا کلمہ عربی زبان کے لفظ، جذب سے بنا ہے اور اسی وجہ سے اس کے لغوی معنی غرق ہوجانے، جذب ہوجانے والے کے ہی آتے ہیں۔

لاہور قلندر کا نام لاہور مجذوب رکھ دیا جائے گا تو یہ میچ کی راہ میں جذب ہو کر کھیلیں گے۔ اپنی ذات فنا کر دیں گے۔ ان کی نگاہ میں میچ کے سوا کچھ نا ہو گا۔ قلندروں کے برخلاف، مجذوب جلالی بھی ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں دق کرے تو وہ کہیں کا نہیں رہتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی کسی بات کو اللہ کے دربار سے رد نہیں کیا جاتا۔ حالت جذب میں یہ مقابل کو بددعا بھی دیتے ہیں اور ڈنڈا بھی رسید کر دیتے ہیں جو کھانا باعث برکت ہوتا ہے۔

آپ درباروں وغیرہ پر جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ بے شمار لوگ اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ کوئی مجذوب انہیں خوب زد و کوب کرے تاکہ ان کی دنیا سنور جائے۔ ٹیم کا نام لاہور مجذوب رکھ دیا جائے تو مقابل ٹیموں کی بھرپور خواہش ہو گی کہ وہ لاہور مجذوب کے ہاتھوں اپنی پٹائی کروائیں اور لاہور مجذوب بھی ان کے ارمانوں کی تسکین کریں گے۔ ہر پی ایس ایل فائنل لاہور مجذوب ہی جیتیں گے۔ آپ یہ نام آزما کر دیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1248 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *