قلندرز جان بوجھ کر ہارتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل پی ایس ایل کا جوش ہے اور پہلی بار سارے میچز پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ عمران۔ خان کہا کرتے تھے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں مقابلہ بازی کا رحجان اور پروفیشنل ازم اسی صورت میں فروغ پا سکتا ہے کہ اداروں کی بجائے شہروں کے مقابلے ہوں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ اپنے شہریوں کی ٹیموں کو سپورٹ کر رہے ہیں اور بڑے جذباتی ہیں۔ کچھ میرے جیسے کرکٹ شائق ہیں جو کرکٹ کو کھیل سمجھ کر دیکھتے ہیں اور کھیل کو جذباتی وابستگی سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

لاہور قلندرز کی ہار ہر بہت افسوس کا اظہار کیا گیا اور اسے کسی نحوست سے بھی تعبیر کیا گیا۔ لاہور قلندرز کی پے در پے شکست کی بڑی وجہ ان کی کھیل سے کمٹمنٹ ہے یعنی سارا سال وہ پورے ملک سے ٹیلنٹ ڈھونڈتے ہیں اور علاقائی کرکٹ کو فروغ دینے میں مصروف رہتے ہیں۔ میں عاقب جاوید اور عاطف رانا صاحب کو ذاتی حیثیت میں جانتا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ ان کا مقصد کاروباری مقاصد کے ساتھ ساتھ پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔

اسی لئے قلندرز کا ٹیم کامبی نیشن ذرا دیر میں بنتا ہے اور اس وقت تک ٹورنا منٹ ختم ہو جاتا ہے۔ میں لاہور قلندرز کے حامیوں کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ قلندرز کی ہار کو کسی اور سطح پر دیکھیں تو ہار نظر نہیں آئے گی۔ جیت ہی جیت ہے۔ کھیل کا میدان سجانا اور لہو گرم رکھنے کا عزم لاہور قلندرز کی جیت ہے۔ محض ہار جیت تو کارخانہ طفلی ہے۔ بہرحال کسی نے قلندرز کی ہار کو جیو کی نحوست سے تعبیر کیا تو کسی نے قلندرز نام پر ہی سوال اٹھا دیا۔ کسی نے بد دعا کہا تو کسی نے جادو ٹونے کا شاخسانہ کہا۔

ٹورنامنٹ تو ابھی شروع ہوا ہے اور بہت سے رنگ بدلے گا۔ قلندرز بھی معرکہ مار سکتے ہیں لیکن کسی کو ہرا کر جیتنا قلندر کی شان نہیں ہے۔ اہنی جیت دوسرے کی جھولی میں ڈال کر اس کی حقیر سی انا کو تسکین ضرور ہہنچائی جا سکتی ہے۔ قلندر کوئی ذات یا ٹائٹل نہیں بلکہ صفات کا مجموعہ ہے اور تصوفانہ مزاج کے حامل لوگ قلندری کو بے نیازی سے تعبیر کرتے ہیں لیکن ایلف شفق کا فورٹی رولز آف لوو پڑھیں تو قلندر کے متنوع رنگ جھلکتے نظر آ تے ہیں۔

جمال، جلال، بے نیازی، خرد مندی، خیال افروزی، اعلیٰ ظرفی وغیرہ۔ شان قلندری ہار یا جیت سے نہیں بانٹنے اور اپنا حصہ بغیر کس غرض کے دوسرے کو دینے سے مربوط ہے۔ میں کوئی اخلاقی درس دینے کا ہر گز متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ آپ کو بور کرنا چاہتا ہوں۔ ہم سب پر تو ویسے بھی پرلے درجے کے لبرلز کی بھرمار ہے وہ فوراً رجعت پسند ہونے کا فتویٰ صادر کر دیں گے لہذا میں اپنے نکتہ تک ہی محدود رہنا چاہتا ہوں۔ میری نظر میں کارل مارکس بھی ایک قلندر تھا جو دنیا کو نیا رنگ روپ دینا چاہتا تھا تاکہ یہ خوبصورت بنے۔

خون جگر پلاتا رہا اور حسین دنیا کے خواب دیکھتا رہا۔ یہاں روایتی سوال تو یہ اٹھے گا کہ قلندر تو اپنی ذات میں گم، اپنے محبوب کے سامنے سربزانو رہتا ہے اسے انسانی بھوک اور بیگانگی سے کیا علاقہ۔ قلندر اور مارکس کا خواب ایک ہے اور وہ ہے بیگانگی کا حل ڈھونڈنا۔ بیگانگی کو تسخیر کرنا۔ سچ اور کھرے تعلق کو نبھانا۔ فریڈرک اینگلز اور مارکس بالکل شمس تبریز اور مولانا روم کی طرح بیگانگی کا حل ڈھونڈ رہے تھے۔ تں رے بھی بھیجے گئے، مطعون بھی ہوئے، معتوب بھی ٹھہرے لیکن ان کے خواب زندگی سے بھی بڑے تھے۔ ہار جیت سے آگے منزل ہے۔ میں نے قلندرز سے متعلق اپنا خیال اس نظم میں پرونے کی کوشش کی ہے۔ امید ہے پسند آئے گی۔

قلندر کبھی نہیں ہارتا
وہ ہارنے جیتنے کے لئے تو کھیلتا ہی نہیں
وہ تو مر مٹنے کے لئے کھیلتا ہے
میدان سجانے کے لئے کھیلتا ہے
رنگ جمانے کے لئے کھیلتا ہے

جیت کا جشن تو وہ منائیں جنہیں دوسروں کو پچھاڑنا ہو
ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارنا ہو
نازک موقع تاڑنا ہو
قلندر کی کیا پوچھتے ہو
وہ تو جوش میں دہکتا ہے

ہوش میں بہکتا ہے
آ ہوں سے الاؤ جلاتا ہے
دل کے گھاؤ چھپاتا ہے
دائرے میں گھومتا جاتا ہے
یزداں نے کھیل رچایا ہے
اور قلندر نے راز پایا ہے

دم سے ہے دنیا
دم لگانے سے رنگ
دم بھرنے سے آہ
دم دکھانے سے راہ
دم کا ہی بھروسا نہیں
اور دم سے ہی دریا
دم بگڑے تو دیوانہ ہے
دم بپھرے تو تماشا

دم آ نکھ سے اترے تو شفا ہے
دل سے نکلے تو دعا
دم آس میں ڈھل جائے تو امرت ہے
یاس میں گھل جائے تو فنا
دم شمشیر سے باہر ہے تو قہر
قابو ہے تو قبا
جیتے تو جفا ہے ہارے تو وفا
جیت کر ہار جائے تو جزا
قلندر کی ہار میں پنہاں ہے ادا

نفی کی نفی میں موجود ہے موجزن
امکاں کے گماں میں گم وجود کی کن مکن
قلندر کی ہار میں پوشیدہ ہے قرار
جیت سے بڑھ کر ہے جستجو
بوسے سے بڑھ کر ہے پیار
انعام سے بڑھ کر ہے آرزو
برگ سے بڑھ کر بہار

قلندر کی ہار میں رچی ہے مستی
کیف و کرم کی مسلسل تڑپ
ضبط کے عہد کا امتحاں
انا کے دیوتا کی جوان موت
گرم لہو کی بے سود پکار
میں میں کا بلکتا رجز

قلندر کی ہار میں گندھا ہے تیاگ
بانٹنے رہنے والا بھاگوان
کھو دینے کا اندھا شوق
خود سپردگی کا جولان
دکھ کے پرائے طوق
جنوں میں جلنے کا اعلان
قلندر کی ہار کو مت لو آسان
ہار جیت سے پرے اس کی شان

گرمئی نشاط ہوس ہے بہ پے
جذبہ اختیار شوق تو بہ تو
فصل گل کا نغمہ لے بہ لے
لہو کی لالہ کاری کو بہ کو
شورش بربط و نے جا بہ جا
ہزار خواب ہائے خنک کاخ و کو
سوز و ساز و صدف کف بہ کف
صد جلوہ و جمال رو بہ رو

نظم کا یو ٹیوب لنک
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply