صحراؤں کے دیس میں کوہ نوردی ( آخری حصہ )

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اج دن چڑیا ترے رنگ ورگا

صبح کی شدید دھند کے بعد اب صاف، شفاف دھوپ بہت بھلی لگی رہی تھی۔ مرد و خواتین، بچے اور کچھ بوڑھے، ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے اور یوں ہم نے بھی اوپر جانے والوں کے ساتھ قدم ملا لیے۔ کچھ جوڑے ایسے بھی ملے جو صبح سے تین سے چار مرتبہ ان سیڑھیوں کے ذریعے پہاڑ کی چوٹی پر جا کر واپس آ چکے تھے۔ ان کی ہمت کی داد دینا پڑی۔ ایک چھوٹا بچہ اپنے والد کی انگلی پکڑے، سیڑھیوں کو گنتا اوپر چلا جا رہا تھا۔

میں نے پوچھا تو کہنے لگا کہ پانچ سو سیڑھیاں ہو چکی ہیں حالانکہ ابھی مشکل سے دو سو کے لگ بھگ سیڑھیوں تک ہی بات پہنچی تھی۔ میں نے اسے شاباش دی اور سمجھایا کہ بیٹا اسی طرح لمبی لمبی چھوڑو گے تو تم بھی ایک دن اپنے ملک کے وزیراعظم بن جاؤ گے۔ اپنی بات پر خود ہی ہنستا، بچے اور اس کے والد کو حیرانی میں چھوڑ کر میں آگے بڑھ گیا۔

جوں جوں سیڑھیاں اوپر کو اٹھتی گئی دور دور تک پھیلے پہاڑوں پر نظر پھیلتی گئی اور کچھ دیر میں ہم پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے مالٹے کھا رہے تھے۔ دور ایک پہاڑ کے دامن میں ایستادہ خیمے نظر آئے اور یہی وہ جگہ تھی جو پہاڑوں کے درمیان سے گزرتی اُس کچی سڑک کے ذریعے سے جانے والوں کی منزل تھی۔ ہم نے اوپر سے نظر آتے ایک ٹریک کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا اس ٹریک پر چلتے ہوئے دور پہاڑوں کے گرد ایک لوپ بناتے ہوئے اُس خیموں والی جگہ تک پہنچا جائے۔

ہم سیڑھیوں سے تھوڑا پیچھے کی طرف آتے نیچے اترے اور پھر وہاں سے بائیں طرف جاتے ایک ٹریک پر مڑ گئے۔ ہمارے ایک ساتھی سہیل کی ہمت جواب دینے لگی تھی اس لیے اس نے اس ٹریک پر جانے سے انکار کر دیا تو پھر باہمی صلاح سے یہ طے پایا کہ میں اور انیب اسی مجوزہ راستے پر آگے بڑھتے ہوئے مقررہ جگہ پر پہنچیں جبکہ سہیل گاڑی کے ساتھ کچے راستے سے ہوتا ہوا اُس خیموں والی جگہ پر پہنچ جائے۔ یوں دونوں پارٹیاں خوشی خوشی اپنے راستے پر چل پڑیں۔

ان پہاڑوں پر ہائیکنگ ہمارے پہاڑوں سے تھوڑی اس لیے مختلف ہے کہ یہ خشک اور گنجے پہاڑ ہیں۔ ان کے راستے زیادہ تر پتھریلے ہوتے ہیں اس لیے ان پر چلنے کے لیے آپ کو مناسب ہائیکنگ بوٹوں کے ساتھ ہی آنا چاہیے۔ ایک عام ٹرینر یا دوڑنے والے جوتے ان پہاڑوں کے لیے کچھ مناسب نہیں ہیں۔ ٹریک اتنا آسان نہ ہونے کے باوجود یہاں پر بہت سے لوگ موجود تھے اور زیادہ تر اس ٹریک پر جا رہے تھے جس پر ہم رواں تھے۔ سورج کی حدت بھی اب بڑھتی چلی جا رہی تھی جو کہ پہاڑوں میں ہوتا ہے اور ہم ہر تھوڑی دیر بعد پانی حلق سے اتارتے آگے بڑھتے گئے۔

پتھروں سے اٹی اس وادی میں اگر ہم کچھ دیر سستانے کا سوچتے بھی تو جگہ نہیں تھی کہ اتنے میں ہمیں دور سے ایک کٹیا سی نظر آئی۔ تھوڑا قریب ہوئے تو سلیقے سے بنا ایک جھونپڑا نظر آیا جو کہ لوگوں سے بھرا تھا جو تھوڑی دیر دم لینے کو رکے تھے۔ شہتیروں کی مدد سے اس جھونپڑے پر سائبان کیا گیا تھا۔ مختلف ٹولیاں اس جھونپڑے میں رکتی اور آگے کا لائحہ عمل طے کرتیں کیونکہ یہاں سے مختلف اطراف میں جاتے دو سے تین راستے بنتے نظر آتے تھے۔ ہم نے بھی کچھ پل دَم لیا اور دائیں طرف جانے والا ایک راستہ، جس کے بارے میں سب کا گمان تھا کہ یہی راستہ ہمیں پہاڑ کی پرلی طرف لے جائے گا، پر چلنا شروع کیا۔

اس بے آب و گیاہ اور پتھریلی وادی میں نظر آیا وہ واحد درخت بہت ہی بھلا لگ رہا تھا جو ایک چھوٹی سی پہاڑی کی چوٹی پر نجانے کیسے وجود میں آیا تھا اور اب ان پتھروں کے درمیان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس اکلوتے درخت کے قریب سے گزرے تو ہلکی سی ہوا کا جھونکا آیا اور فیض صاحب کی یاد دلا گیا… جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم

اور اس ٹھنڈی ہوا کے جھونکے میں ایک عجب سکون تھا جس نے ایک لمحے کے لیے پاؤں میں جیسے بیڑیاں ڈال دی ہوں اور میں وہی ساکت ہو گیا۔ میں اس ہوا کے جھونکے کو پوری طرح اپنے بدن پر محسوس کرنا چاہتا تھا۔ ویسے تو اس لمحے ہم پہاڑوں سے گھری اس وادی میں تھے لیکن چونکہ یہ دھرتی صحراؤں کی دھرتی ہے شاید اس لیے اس کے پہاڑوں میں سے گزرنے والی ہوا بھی ریت کے ٹیلوں پر چلنے والی ہوا کی طرح شفاف اور کٹیلی ہوتی ہے۔

یہاں پر پایا جانے والا درخت اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ شاید اس وادی میں زندگی کے کچھ آثار موجود ہیں کہ اتنے میں دو بکریاں دور سے زمین پر منہ مارتی نظر آئیں۔ قریب جانے پر پتہ چلا کہ وہاں پر نہ صرف کچھ سبزہ اگا ہوا تھا بلکہ ایک طرف پانی کا ایک چشمہ بھی تھا۔ پانی کا چشمہ ایک تنگ سی گھاٹی میں تھا جس کے اوپر جھکے ہوئے پہاڑوں نے چشمے کو اپنی چھاؤں میں لیا ہوا تھا۔ ہم سے آگے جانے والے کوہ نوردوں کی ٹولی اپنے جوتے اتارے چشمے کے پانی کے کنارے چھاؤں میں بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہم وہاں رکنے کی بجائے آگے بڑھ گئے۔

اب گھڑی کی سوئیاں تین بجانے کو تھی جب ہم ایک پہاڑی سے دوسری طرف اترے اور سامنے ہماری منزل ہمیں نظر آئی۔ یوں تقریباً تین گھنٹے ہم نے اس وادی کے پہاڑوں کی خاک چھانی۔ سہیل پہلے ہی یہاں پہنچ چکا تھا ہم نے وہاں پانی کے کنارے بیٹھ کر مزید مالٹے کھائے۔ ایک خان صاحب پاکستانی سٹائل کی پرانی ہنڈا موٹر سائیکل پر آتے نظر آئے جو وہاں پر کیمپنگ کے انتظامات کرنے والی کمپنی کے ملازم تھے۔ میں نے ان کو مالٹا پارٹی میں شمولیت کی دعوت بطور رشوت دی کیونکہ میں ان کی موٹر سائیکل چلانا چاہتا تھا۔ انہوں نے خوشی سے اجازت دی اور تاکید کی کہ پنکچر ہونے سے بچانا ہے۔ یوں میں نے تین گھنٹے کی کوہ نوردی کے بعد موٹر سائیکل گردی کی۔ خان صاحب کو ان کی موٹر سائیکل بخیریت لوٹانے کے بعد اُن سے رخصت لی اور اگلی مرتبہ ان کے کیمپ میں رات بسر کرنے کا بھی پروگرام طے کیا۔

وادئی شوکہ کے پہاڑوں میں چند اچھے گھنٹے گزارنے کے بعد ہم جلد ہی دوبارہ اس سڑک پر تھے جس سڑک کے دونوں اطراف سرخ ریت اڑتی پھرتی ہے اور سرخ ریت کے ٹیلے آپ کا پیچھا کرتے دور تک چلے آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *