کاشانہ ہوم کی یتیم بچیاں غیر محفوظ ہیں: افشاں لطیف


افشاں لطیف سمجھتی ہیں کہ ہم سوشل میڈیا پر لکھنے والے مرد اس کی مدد کرسکیں گے۔ عورتیں کیوں نہیں کھڑی ہوتیں مفت میں، کہاں وومن رائٹس و فیمینزم کے علمبردار ہیں؟

بی بی ہم تو کچھ نہیں کرسکتے، سوائے دو بول لکھنے اس پر آنسو والی یا دل والی ایموجی ڈالنے کے اور ہر بار آپ سے وہی سانحہ سننے کے۔

لیکن اس بار وہ نیا سانحہ لے کر آئی وہ یتیم بچیوں کی عزتوں کی حفاظت کا کہہ رہی تھی لیکن ایک یتیم بچی اقراء کائنات کو قتل کردیا گیا مگر ریاست کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگی کسی سماجی جمہوری، سوشلسٹ، اسلامی رہنما کو فکر نہیں ہوئی۔ وہ اقرا بغیر پوسٹ مارٹم دفنائی جا رہی تھی بھلا ہو ان کا کہ پوسٹ مارٹم کرانے پر یہ خاتون میت کو عین تدفین پر سے چھین لائی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی، اقراء کئی دن بھوکی پیاسی رہی ڈاکٹر نے کہا لاہور جیسے شہر میں ایسا قتل کرنا ناقابلِ یقین لگ رہا ہے۔

خواتین کا دن منانے کے حوالے سے اسلامی و غیر اسلامی تہوار منانے پر بحث ہو رہی ہے لیکن دونوں طبقات کو خواتین کے حقوق کیا ہیں کم از کم مجھے تو یہی اندازہ ہوسکا ہے کہ ایک طبقہ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے بلاشبہ بغیر معاشی و نظریاتی سپورٹ کے ممکن کچھ نہیں، دوسرا طبقہ اسی کام کو غیراسلامی قرار دینے کی کوشش میں ہے لیکن ان دونوں طبقات کی اس لڑائی میں مظلوم خواتین کے لیے کوئی فکر مند نہیں ہے۔

افشاں لطیف کو بتایا کہ سیاسی جماعتوں اور سماجی جماعتوں و صحافیوں سے رابطہ کریں وہ جب تک ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے ہم کچھ نہیں کرسکتے۔

وہ کیا کرتی اس کی بات بھی درست تھی ’میڈیا اس وقت دروازے پر پہرہ دیے کھڑا تھا جب ایشو وائرل ہوا، جب بریکنگ نیوز بن گئی تھی، سیاسی جماعتوں کی طرف سے بھی رابطہ کیا گیا مگر کسی سماجی تنظیم نے کوئی رابطہ نہیں لیا، لیکن جیسے ہی بات پرانی ہوئی میڈیا کے ایک دو صحافیوں نے پروگرام کیے پھر کسی کو بتایا بھی تو ان کے لیے خبر اب اہم نہیں رہی ”

تو اب کیا کریں؟ آپ کا مطالبہ کیا ہے؟

”میرے ساتھ کاشانہ میں رہنے والی بچیوں کی زندگی کو خطرہ ہے وہ غیر محفوظ ہیں۔

عام لوگ میرا ساتھ دیں، چیف جسٹس، وزیراعظم اور آرمی چیف کوئی تو نوٹس لے، ایک شفاف تحقیقات کرائی جائے، جے آئی ٹی بنائی جائے وہ چاہے جو فیصلہ کرے مجھے قبول ہے، اس طرح یتیم بچیوں کا عزت کے ساتھ خون تو نہ بہایا جائے اور کچھ نہیں انسان تو ہیں ’

چھوڑیں بی بی یتیم بچیاں ہیں دفع کریں۔ آپ بھی اپنی نوکری بحال کروائیں، اپنے بچوں کا خیال رکھیں اپنے گھر کو سنبھالیں۔ ۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کاپی کسی کو ضرورت ہو تو رابطہ کر سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS