پنجاب اور نجی تعلیمی ادارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تعلیمی حلقوں کے لئے یہ یقینا ایک اہم خبر ہے کہ حکومت پنجاب نے نجی یونیوسٹیوں کے مطالبات، اصولی طور پر تسلیم کرتے ہوئے ایک عمل درآمد کمیٹی قائم کر دی ہے جسے ”ہائیر ایجوکیشن ریفارمز“ کا نام دیا گیا ہے۔ آٹھ ارکان پر مشتمل کمیٹی میں چار ارکان نجی جامعات کی نمائندگی کریں گے، جبکہ چار ارکان ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن پنجاب سے لئے جائیں گے۔ یہ کمیٹی ہائیر ایجوکیشن کے صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں اور پرائیویٹ یونیورسٹیز ایسوسی ایشن کے چیر مین ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمن کے مابین کامیاب مذاکرات کے بعد وجود میں آئی۔

گذشتہ کچھ عرصہ سے پاکستان کی عمومی صورتحال ہی کے تناظر میں تعلیم کا شعبہ بھی گو ناگوں مشکلات کا شکار ہو گیا ہے جن کا میں نے گذشتہ کالم میں تفصیل سے ذکر کیا تھا۔ سب سے اہم مسئلہ تو تعلیمی بجٹ میں زبردست کٹوتی کا ہے جس نے پورے ایجوکیشن سیکٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے سب سے سنگین نتائج تو سرکاری اداروں پر ہی مرتب ہوئے ہیں لیکن نجی سیکٹر کے لئے بھی کئی مسائل پیدا کر دیے گئے۔ اگرچہ ان مسائل کی نوعیت ذرا مختلف تھی۔ نجی جامعات ان مسائل کے حوالے سے متعلقہ حکومتی عہدیداروں حتیٰ کہ وزیر اعظم اور صدر مملکت کو متوجہ کرتی رہیں، لیکن مثبت نتائج سامنے نہ آئے۔

اسی ماہ کی 13 تاریخ کو پنجاب کی نجی جامعات نے خود کو آ ل پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پنجاب (APSUP) کے نام سے ایک تنظیم کے پلیٹ فارم پر منظم کیا۔ انہوں نے پنجاب حکومت کے سامنے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کرتے ہوئے بعض انتہائی اہم اور سنجیدہ مسائل کی طرف توجہ دلائی مثلا یہ کہ اعلیٰ تعلیم کو اولیں ترجیح بنایا جائے۔ نئے ڈیپارٹمنٹس قائم کرنے اور نئے کیمپس کھولنے کے لئے سرخ فیتے کا کردار ختم کر کے ون ونڈو آپریشن کی سہولت دی جائے۔

ریسرچ دشمن پالیسیوں کا خاتمہ کیا جائے۔ مستحق طلبہ کو کسی بھی یونیورسٹی میں داخلہ لینے کا حق دیا جائے۔ نجی جامعات کی قومی خدمات کا اعتراف کیا جائے اور نجی جامعات کو اپنے چارٹر کے مطابق آزادی سے کام کرنے دیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی صورتحال پہلے ہی کس قدر افسوس ناک ہے۔ ایران میں 52 فی صد نوجوانوں کی رسائی اعلیٰ تعلیم کے اداروں تک ہے۔ بھارت میں یہ شرح 25 فیصد، سری لنکا میں 17 فی صد، بنگلہ دیش میں 13 فیصد اور پاکستان میں صرف 9 فیصد ہے۔

تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں یہ شرح مزید کم ہو کر صرف 7 فیصد رہ گئی ہے۔ نجی جامعات کی تنظیم نے اپنی آواز اٹھائی اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان مطالبا ت پر توجہ نہ دی گئی تو جامعات کو تالے لگا دیے جائیں گے۔ تب پنجاب حکومت حرکت میں آئی، جس کے نتیجے میں مذاکرات کی میز سجی اور معاملات حل کرنے کے لئے ایک آٹھ رکنی ہائیر ایجوکیشن ریفارمز کمیٹی وجود میں آئی۔ یہ کمیٹی کتنی کارآمد ثابت ہوتی ہے اور اس کی کارکردگی سے نجی جامعات کس قدر مطمین ہوتی ہیں، یہ سب کچھ دیکھنے میں کچھ وقت لگے گا۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا پرائیویٹ تعلیمی ادارے ہر قسم کے نقائص سے پاک ہیں اور وہ سو فیصد قواعد و ضوابط کے اندر رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں؟ شاید یہ کہنا آسان نہیں۔ بد انتظامی یا چارٹر کی خلاف ورزی جیسی شکایات بھی مکمل طور پر بے بنیاد نہیں۔ جس طرح سرکاری اداروں میں مختلف النوع خرابیاں موجود ہیں اسی طرح نجی سیکٹر ادارے بھی ان سے مبریٰ نہیں۔ لیکن یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ پرائیویٹ سیکٹر، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں نہایت اہم اور قابل قدر کردار ادا کر رہا ہے۔

1990 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو نے دو اہم فیصلے کیے تھے جن کے شعبہ تعلیم اور صنعت و حرفت پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ انہوں نے تمام تعلیمی اداروں اور بڑے صنعتی یونٹس کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔ تعلیم کے شعبے میں فوری طور پر تو مثبت اثرات پڑے۔ اساتذہ کو سرکاری تنخواہوں اور پنشن وغیرہ کی سہولیات مل گئیں۔ طلبہ کی بھاری فیسیں ختم ہو گئیں لیکن دوسری طرف تعلیم کا دائرہ سکڑ گیا۔ پرائیویٹ ادارے کھلنا بند ہوگئے۔ سرکاری اداروں کا بوجھ بڑھ گیا۔ رفتہ رفتہ تعلیمی معیار پست ہونے لگا۔ ایسے ہی منفی اثرات صنعت کے شعبے پر بھی پڑے اور بعض اقتصادی ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ پاکستان کی صنعت آج بھی نیشنلائزیشن کے اثرات سے نہیں نکل سکی اور سرمایہ کار کا اعتماد پوری طرح بحال نہیں ہوا۔

صدرضیا الحق کے دور میں ایک بار پھر پرائیویٹ تعلیمی ادارے کھلنا شروع ہوئے۔ گزشتہ دو اڑھائی دہائیوں میں اس عمل میں بہت تیزی آئی۔ خصوصا ہائیر ایجوکیشن کے شعبے میں پرائیویٹ سیکٹر میں معیاری جامعات کھلیں۔ ان جامعات میں اچھے اساتذہ کو اچھی تنخواہوں پر لیا گیا۔ اچھے معیار کے کیمپس وجود میں آئے۔ تعلیمی سہولیات بہتر ہوئیں۔ بلا شبہ ا ن جامعات میں وہی طلبہ و طالبات جا سکتے تھے جو بھاری فیسیں ادا کر سکیں۔ چونکہ نجی شعبے میں قائم ہونے والے اداروں خاص طور پر جامعات میں ایک طرح کی مسابقت کی فضا قائم ہو گئی اس لئے ہر ادارہ زیادہ سے زیادہ طلباء کو ترغیب دینے کے لئے اپنی سہولیات کو بہتر بنانے لگا۔

سرکاری سیکٹر کی جامعات کو اس طرح کا کوئی مقابلہ درپیش نہ تھا۔ لہذا وہ اپنی مخصوص دھیمی چال چلتی رہیں۔ چونکہ پبلک سیکٹر اداروں میں اساتذہ اور تمام ملازمین کو تحفظ حاصل ہوتا ہے، ان کی کارکردگی کا کوئی خاص پیمانہ بھی نہیں، جزا اور سزا کا بھی کوئی نظام نہیں اس لئے قدرتی طور پر وہاں اپنی پوری صلاحیتیں اور توانائیاں استعمال کرنے کا کلچر نہیں پایا جاتاہے۔ جس طرح سرکاری شعبے میں چلنے والے پی۔ آئی۔ اے، واپڈا، ریلوے اور سٹیل ملز جیسے ادارے بے حسی کی کہانی بیان کرتے اور قوم کے اربوں روپے کھا رہے ہیں اسی طرح بیشتر سرکاری تعلیمی ادارے بھی سرکار کی مخصوص پالیسیوں کی وجہ سے کوئی بہت اچھے نتائج سامنے نہیں لا رہے۔

سرخ فیتہ وہاں بھی پوری طرح بروئے کار ہے۔ آئے دن ہم ایسی خبریں پڑھتے ہیں کہ فلاں فلاں جامعات باقاعدہ وائس چانسلرز سے خالی ہیں۔ اسی طرح بجٹ میں کٹوتی کا براہ راست اثر بھی سرکاری اداروں پر ہی پڑا ہے۔ کیونکہ نجی جامعات بڑی حد تک خود کفیل ہوتی ہیں اور اپنا خسارہ فیسوں میں اضافے سے پر کر لیتی ہیں۔ جی۔ ڈی۔ پی کے 2.4 فیصد بجٹ میں بھی 20 فیصد کٹوتی نے صورتحال کو بے حد افسوسناک بنا دیا ہے۔ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ اس بجٹ کا 89 فیصد اخراجات جاریہ یعنی تنخواہوں وغیرہ کی مد میں چلا جاتا ہے۔

باقی ترقیاتی یا نیم ترقیاتی مقاصد کے لئے صرف 11 فیصد بجٹ بچتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے اثرات تعلیم کے معیار پر بھی پڑتے ہیں۔ اور لوگ بہتر تعلیم کی تلاش میں نسبتا بہتر اور معیاری نجی جامعات کا رخ کرتے ہیں۔ دو سال پہلے کے اعداد و شمار کے مطابق 31 فیصد کے لگ بھگ طلبہ و طالبات پرائیویٹ اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس تعداد میں یقینا اضافہ ہو رہا ہے۔

عام طور پرکہا جاتا ہے کہ تعلیم کو انڈسٹری بنا لیا گیا ہے۔ بظاہر یہ نعرہ بر کشش سا لگتا ہے جس کے معنی یہ لئے جاتے ہیں کہ تعلیم کو نفع بخش کاروبار نہیں بنانا چاہیے۔ عملی زندگی میں ایسا مشکل ہے۔ اربوں کی سرمایہ کاری کرنے والا صرف خیرات یا کار خیر کے جذبے سے ایسا نہیں کر سکتا۔ اگر حکومت کے پاس پیسہ نہیں اور پرائیویٹ سیکٹر تعلیم میں سرمایہ کاری نہیں کرئے گا تو ہمارے بچے کہاں جائیں گے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریگولیٹری ادارے نجی جامعات کی کارکردگی پر ضرورنظر رکھیں، لیکن ٹریفک چالان کرنے والے کانسٹیبل کا نہیں، ایک سہولت کار کا کردار اداکریں۔ بیوروکریسی عام طور پر مشکلات پیدا کرنے، رکاوٹیں ڈالنے اور معاملات کو مہینوں سالوں تک لٹکائے رکھنے میں لطف محسوس کرتی اور اسے اپنا اختیار منوانے کے لئے ہتھیار خیال کرتی ہے۔ یہ طرز عمل یقینا پرائیویٹ سیکٹر کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

توقع رکھنی چاہیے کہ پنجاب میں قائم کی گئی ہائیر ایجوکیشن ریفارمز کمیٹی اس ضمن میں موثر کردار ادا کرئے گی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم، کو مکمل طور پر صوبوں کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ پنجاب سب سے بڑا صوبہ ہے۔ سب سے زیادہ نجی جامعات بھی پنجاب میں ہیں۔ کیا پنجاب دوسرے صوبوں کے لئے ایک نمونہ عمل بن سکتا ہے؟ مثبت نتائج کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ نجی سیکٹر کو حریف یا غیر نہ سمجھا جائے بلکہ فروغ تعلیم میں ان کے کے کردار کو اہمیت دی جائے۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *