عورت مارچ پر قدغنیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ خبر سنی کہ ایک پٹیشن کو سنتے ہوئے، لاہور ہائی کورٹ نے 8 مارچ کو روایتی طور پر منعقد کیے جانے والے عورت مارچ کوروک دیا گیا ہے، تو مجھے بالکل بھی تعجب نہیں ہوا۔ پچھلی عورت مارچ کے بارے میں پاکستان میں رائے عامہ نے ہمارے درمیان نظریاتی خلیج کو واضح کردیا تھا۔ لہٰذایہ بات یقینی تھی کہ اس دفعہ مارچ کو ناکام بنانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔ عمومی رائے یہی ہے کہ مارچ میں لگائے گئے نعرے اور پلے کارڈز پرلکھے گئے الفاظ جیسے ”میرا جسم میری مرضی“ پڑھ کر یہاں کی خواتین، مرد، بچے بزرگ ”اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوجائیں گے“، ایک قیامت پھوٹ پڑے گی، ہماری نوجوان نسلیں جنسی بے راہ روی کا شکار ہوجائیں گی اور بیویاں اپنے شوہروں کو میرا جسم میری مرضی کہہ کر دور رہنے کا کہیں گی۔ پوری قوم اوراسٹیبلشمنٹ کو احسان کے غائب ہونے کا غم لگے نہ لگے، لیکن عورت مارچ نے ”عزت کے رکھوالوں“ کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

یقیناً تاریخی واقعات ایسے لمحات ہوتے ہیں جب آپ کو مختلف سماجی پرتوں کا بیانیہ سننے کو ملتا ہے، جیسا کہ پاکستان میں ہوتا آرہا ہے کہ جمہوری روایات کی کمی، تعلیم اور بنیادی ڈھانچوں کی عدم موجودگی، جبکہ رجعت پسنداور پرتشدد عناصر اکثریت تک اپنا بیانیہ پہنچانے میں کامیاب رہے، جس کی وجہ سے عوامی رجحان حق آزادی رائے، خواتین کے حقوق اور دیگر جمہوری عوامل کے خلاف رہا ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق کے علمبردار اور جمہوری قافلوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ممکنہ حد تک ان کی حوصلہ شکنی بھی کی جاتی ہے۔

حالیہ سال کے شروعات میں ایک رجعت پسندانہ ڈرامے کی پزیرائی سے حساب لگایا سکتا ہے کہ عوام خواتین کو کس نقطہ نظر سے دیکھتی ہے۔ یاد رہے کہ اس ڈرامے کے لکھاری کی وجہ شہرت خواتین دشمن مواد لکھنا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ یہ رجحانات اور بیانات ذرائع ابلاغ کے متواتر اور وسیع پیمانے پرپروپیگنڈہ کا نتیجہ ہیں۔ مثال کے طور پر عورت مارچ یا اس جیسی دیگر سرگرمیاں کبھی بھی مین سٹریم میڈیا پر پہنچنے نہیں دی جاتیں اور اگر پہنچ بھی جائیں تو انہیں ایک منفی رنگ میں ڈھال دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں عمومی طور پرکسی خاتون کو آزاد، طاقتور پوزیشن اور پر اعتماد برداشت نہیں کیا جاتا۔ آج بھی چاہے فاطمہ جناح، بی بی یا عاصمہ جہانگیر ہو ں اکثریت کے بیانیے میں اور ہمارے طاقتور ہلکوں میں ان جیسی خواتین کا وجود ”سماج کے توازن“ کے لئے ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے گئے، کسی کی تصویریں جہازوں سے پھینکی گئیں، بانی پاکستان کی بہن کو غدار گردانہ گیا اور عاصمہ صاحبہ کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈوں سے تو سب ہی واقف ہیں۔

ہمارے یہاں ایک بیانیہ دیا گیا ہے کہ جو بھی لوگ، گروہ، سماجی پرتیں، مجوزہ رسوم و رواج سے انحراف کریں، یا سماجی مسائل پر روشنی ڈالیں تو وہ یا تو کسی گھناؤنی سازش کا حصہ ہیں، یا پھر ان کو کوئی بیرونی طاقت ایسا کرنے پر اکسا رہی ہے۔ یہی وہ عینک ہے جس کو لگا کر ہر پسے ہوئے طبقے یا تشدد کا شکار گروہ کو دیکھا جاتا ہے، اب چاہے وہ اقلیتی گروہ ہو یا پھر کوئی سیاسی۔ یہ بیانیہ عورت مارچ کے خلاف دائر درخواست میں بھی اٹھایا گیا ہے، اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عورت مارچ کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے اور اس میں بیرونی قوتوں کے لئے کام کرنے والے افراد کا ہاتھ شامل ہے۔

عورت مارچ اور مجموعی سماجی حقوق پر کام کرنے والے کچھ حضرات کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں، یقین مانیے وہ ا ن سرگرمیوں کے ساتھ اسکولوں میں نوکریاں یا پھر ٹیوشن پڑھا کر گزارا کرتے ہیں اور آپ یا میرے جیسے عام شہری ہی ہیں، جن کے پاس کوئی ایسی طاقتیں نہیں جو خلائی مخلوق کے پاس پائی جاتی ہیں۔

اب اگر ہم بات کریں انتشار پھیلانے کی، تو انتشار تو پاکستان میں ابھی بھی کثر ت سے موجودہے۔ اب تک کتنے ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں بچے جنسی تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنے ہیں، کتنے ایسے دل دہلانے والے واقعات سامنے آئے ہیں جن سے ہمارے سماج کے اندر موجود تشدد، انتشار اور صنفی امتیازکی حقیقت کا اندازہ واضح لگایا جاسکتا ہے۔ کتنی ایسی خواتین ہمارے ارد گرد موجود ہیں جو ایسی خاموش اذیت کا شکار ہیں جس میں سماج ان کو پھینک کر ایسے بھول جاتا ہے جیسے قصائی مرغی کو ذبح کرکے ڈرم میں ڈال کر۔

اکثر دفاتر میں خواتین کو ہراسگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ خواتین کو ہراسگی کے قوانین اور اپنے آئینی حقوق کا علم ہی نہیں اور نہ انہیں معاشرے نے اتنی سکت د ی کہ ہ وہ کھل کر اس چیز کا مقابلہ کرسکیں، کیونکہ سماجی رویہ ایسے واقعات کو قالین کے نیچے چھپانے اور عورت کو ہی قصور وار ٹھہرانے کا رہا ہے۔

اس سماج میں ”میرے جسم پر میری مرضی ہے“ کیونکہ میں مرد ہوں۔ لیکن، جب ایک عورت یہی بات کہے کہ میرا جسم ہے میری مرضی ہے، تو کچھ افراد کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں۔ یعنی کہ عورت کا جسم کسی اور کی مرضی پر چلے گا؟ کیا وہ پرانے وقتوں کے غلاموں کی طرح جناب کے آرڈر کی مرہون منت رہے گی؟ ہم نے اپنی نسلوں کو خاموش رہنے کا درس دے کر برباد کردیا ہے، ہمارے یہاں 2020 میں عورت کے ساتھ باہمی تعاون اور برابری کے ساتھ چلنے کو ایک بیگانہ تصور سمجھا جاتا ہے!

یہ حالات تسلسل کے ساتھ اب نہیں چل سکتے، ہماری ا ب تک کی نسلوں کو تو کافی حد تک برباد کردیا گیا ہے، اب آنے والی نسلوں کو اس قابل چھوڑیں کے وہ اپنی شخصیت، اذہان اور اجسام کو اپنی ملکیت سمجھیں نہ کہ کسی دوسرے کی غلام تاکہ آزادانہ طور پر وہ انفرادی اور اجتماعی ترقی کا باعث بن سکیں اور ہم بھی ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہوسکیں۔

ریاست کے عورت مارچ کو روکنے کے اس فیصلے پر تمام جمہوری قوتوں کو یکجہ ہونا چاہیے اور انسانی حقوق پر لگنے والی قدغن کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے اور عورت مارچ کو بھرپور طریقے سے منانا چاہیے۔ اس موقع پرسائرہ بانو کا شعر یاد آرہا ہے :

وہ سوچ ہی کیا جو پابند سلاسل ہے
وہ جسم ہی کیا جو حرف زنداں رہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *