تاریخ کے عظیم ولنز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دُنیا کو قائم ہوئے ہزاروں برس بیت چکے ہیں۔ اس دوران عالم پر ایسے کئی انسان بھی مسلط رہے، جنہیں تاریخ میں بُرے افراد یا ولنز کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ دُنیا کے قیام سے لے کر موجودہ دور تک بے شمار ولن انٹری دے چکے ہیں اور اپنی فسادی طبع کے باعث امن عالم کو تہہ و بالا کرنے میں اُن کا کلیدی کردار رہا ہے۔ پُرانے زمانوں میں تو قوموں کے مابین لڑائیاں اور جنگیں فتح و شکست کے مقدر بن جانے تک جاری رہتی تھیں۔

فرعون کی سفّاکیت کو بھلا کون بھول سکے گا۔ ہلاکو، چنگیز خان کے نام آج معلوم تاریخ میں بے رحم لوگوں کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں، جن کے ہاتھ بے شمار انسانوں کے خون سے رنگے تھے۔ نہ جانے کیسے کیسے درندہ صفت کردار تھے۔ دور بدلتے رہے، وقت گزرتا رہا لیکن دُنیا میں ولنز کی آمد کا سلسلہ نہ تھما، وہ تباہی و بربادی کے ساتھ اپنی حشر سامانیاں بپا کرتے رہے، دُنیا کو شکست و ریخت میں مبتلا کرنے کے ساتھ آگ و خون میں نہلانے ایسی قبیح رسم بھی ان ناہنجاروں نے بخوبی ادا کی۔ کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ انسانیت پر وہ وہ ظلم ڈھائے کہ بیان کرتے ہوئے روح کانپ جاتی ہے۔

ویسے ان تمام سفّاک کرداروں کا انجام کبھی اچھا نہ ہوا اور نشان عبرت بنتے رہے۔ جرمنی کے ہٹلر کو گذشتہ صدی کے سفّاک ترین کردار کے طور پر دُنیا یاد کرتی ہے۔ امریکی صدر ہیری ٹرومین بھی اچھی شہرت نہیں رکھتے کہ ان کے دور میں، ان کے ہی احکامات پر جاپان کے شہروں ہیروشیما، ناگاساکی پر ایٹم بم برسائے گئے اور لاکھوں اموات ہوئیں بلکہ اس کے تابکاری کے مضر اثرات 75 برس بعد آج بھی موجود ہیں اور اب بھی اسی کے زیراثر وہاں معذور بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ دُنیا میں پہلی بار ایٹمی بم برسانے والا اور لاکھوں انسانوں کی موت کا ذمے دار ملک آج خود کو مہذب ترین قرار دینے میں سب سے آگے نظر آتا ہے۔

گو دُنیا ترقی کرچکی، خود کو مہذب گردانتی ہے، انسانیت اور انسانی حقوق کے راگ الاپتے نہیں تھکتی۔ امن عالم کے حوالے سے خوبصورت بیانیوں کا اجرا بھی ہوتا رہتا ہے، جن میں دُنیا میں محبت کے پھول برسانے اور امن کے پتّے نچھاور کرنے کی باتیں بھی انتہائی خوبصورت پیرایوں میں بیاں کی جاتی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود آج بھی دُنیا میں بڑے بڑے سفّاک ولنز یعنی بعض ملکوں کے حکمرانوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتے ہیں، جن کا خاص نشانہ مسلم ممالک اور مسلمان ہیں۔

زیادہ دُور جانے کی ضرورت نہیں، محض 19 سال قبل امریکی صدر جارج بُش جونیئر کے دور میں نائن الیون کے مبینہ واقعے کو جواز بناکر امریکا نے کئی ممالک پر چڑھائی کی، خصوصاً افغانستان، عراق اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اُن معاشروں کو تباہی و بربادی کے راستے پر گامزن کردیا۔ انہوں نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ بعض مسلم ممالک کو پتھر کے دور میں دھکیل دیا۔ وہ ریاستیں اس تباہی کا خمیازہ اب تک بھگت رہی ہیں اور نہ جانے اُنہیں سنبھلنے کے لیے اور کتنا عرصہ درکار ہوگا۔

عراق، افغانستان، فلسطین، برما اور کشمیر میں مسلمانوں پر کیا کیا ظلم نہیں ڈھائے جارہے کہ تاریخ کے سفّاک ترین کردار بھی اس پر شرمسار ہوجائیں۔ کشمیر اور فلسطین میں تو بھارت اور اسرائیل نے پچھلے ستر برسوں سے زائد عرصے سے ظلم کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں۔ ان مقامات پر مسلمان بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اگست 2019 سے تاریخ کی بدترین نا انصافی اور کرفیو کو جھیل رہے ہیں، لیکن دُنیا سب جاننے کے باوجود ان کے لیے کچھ نہ کرسکی ہے۔ انسانی حقوق کے چیمپئنز کو بھی سب پتا ہے، بس کچھ کرنا نہیں چاہتے۔ اقوام متحدہ ایسا ادارہ کشمیر سے متعلق اپنے ہاں منظور شدہ قرارداد پر 72 برسوں میں عمل درآمد نہیں کراسکا۔ کیا یہ اس عالمی ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور اُن کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی موجودہ دور میں سفّاکیت اور درندگی میں سب پر بازی لے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بے گناہ فلسطینی مسلمانوں کی زندگیاں نیتن یاہو نے عذاب بنارکھی ہیں۔ مودی جب سے بھارت میں برسراقتدار آئے ہیں، ظلم و ستم کی ڈھیروں بدترین نظیریں قائم کرچکے ہیں، جو کبھی ماضی میں بھارتی حکمرانوں یا حکومتوں کا وتیرہ نہیں رہیں۔ مودی کی آنکھوں میں مسلمان بُری طرح کھٹکتے ہیں جبھی تو اپنے ہی مسلم شہریوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا ہوا ہے، دوسری اقلیتیں بھی کسی نہ کسی طرح ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں اور ہندو انتہاپسندوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ جب مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو اُنہوں نے کتنے ہی بے گناہ مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ ان کی وزارت عظمیٰ میں بھارت میں انارکی کی فضا تشویش ناک حد تک بڑھی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کی تمام تر سیاست کا مرکز و محور مسلمان اور پاکستان مخالفت پر مبنی ہے۔

مودی کی آنکھوں میں وطن عزیز بُری طرح کھٹکتا ہے اور وہ آئے روز اس کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں، یاوہ گوئیاں اور زہر افشانیوں کے لامتناہی سلسلے مودی سے منسوب ہیں۔ امن دشمن اور شدّت پسند سوچ کے حامل مودی کا بہ حیثیت وزیراعظم دوسرا دور چل رہا ہے۔ اس دوران ایک بار بھی اُنہوں نے پاک بھارت کے درمیان دوستی اور دونوں ملکوں کے ڈیڑھ ارب عوام کی بہتری، ترقی اور خوش حالی کے متعلق نہیں سوچا اور نہ اس حوالے سے کوئی کوشش کی، بلکہ اُلٹا کشیدگی، چپقلش بڑھانے پر اُن کا زور رہا۔

پاکستان کی امن کوششوں کو وہ کمزوری سمجھتے رہے لیکن 27 فروری 2019 کو وطن عزیز نے اُن کی تمام تر خوش فہمی اُس وقت دُور کردی، جب سرحدی خلاف ورزی کرنے اور حملہ آور ہونے والے دو بھارتی طیارے مار گرائے گئے، ایک طیارے کے پائلٹ بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کو گرفتار کیا اور امن کی خاطر اُس کو رہا بھی کیا، لیکن مودی ایسے سفّاک لوگ امن و محبت کی زبان کبھی نہیں سمجھ سکتے۔ مودی تو اتنے ہٹ دھرم ہیں کہ اُنہوں نے کرکٹ ایسے کھیل تک کو نہ بخشا اور جب سے وہ برسراقتدار آئے ہیں، بھارتی ٹیم نے پاکستان سے کوئی ہوم سیریز کھیلی اور نہ پاکستان کا دورہ کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ پاک بھارت کرکٹ مقابلوں کو دُنیا بھر میں سب سے زیادہ دلچسپی سے دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ کم از کم کھیلوں کو تو سیاست سے دُور رکھنا چاہیے۔ دُنیا کو ان ولنز کی نہیں، انسانیت کا احترام، اس سے محبت، دوستی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پاسداری کرنے والے حکمرانوں کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *