قائدِ انقلاب عمران خان اور حاسدینِ انقلاب


\"zeffer05\"اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی، کہ تحریک انصاف کے بانی اور تا حیات سربراہ جناب عمران خان ایک انقلابی رہ نما ہیں۔ اُن کے انقلابی ہونے میں تو کسی کو کلام نہیں، لیکن شاید عمران خان سے حسد کرنے والے (یقینا مسلم لیگ نون ہی کے کارکن) \”تا حیات\” پر معترض ہوں۔ معترضین سے کہنا ہے، کہ آپ اسے پیش گوئی سمجھ لیجیے، کہ جب تک یہ عظیم انقلابی رہ نما بقید حیات ہیں، یہی پارٹی کے کرتا دھرتا رہیں گے۔ (بہ راہ مہربانی، \’\’دھرتا\’\’ کو \”دھرنا\” نہ پڑھا جائے) جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، جمہوریت ایک ایسا نظام ہے، جس میں بندوں کو گنا جاتا ہے، تولا نہیں جاتا؛ اور اگر بندے گنتی میں کم نکلیں، تو دھاندلی دھاندلی کا کھیل کھیلا جا سکتا ہے۔ اس سے کہیں بہ تر تو مارشل لا ہوتا ہے، جس میں بندوں کو نہیں، ڈنڈوں کو گنا جاتا ہے۔ ڈنڈا دیکھ کر کون کہے یہ دھاندلی ہے۔ سو مارشل لا کی حمایت بالکل بھی دھاندلی نہیں ہے۔ بس یہی وہ راز ہے، جسے قائد انقلاب جناب عمران خان پوری طرح پا گئے ہیں۔ لہذا انھوں نے اب کے انقلاب کی ٹھان لی ہے۔

انقلابی کارکنان میں سے ایک خطہ پوٹھوار کے عظیم فرزند، راول پنڈی کے سپوت کامریڈ شیخ رشید ہیں جنھیں نون لیگ نے چپڑاسی بننے کے بھی لائق نہیں چھوڑا۔ عمران خان صاحب نے انھیں اپنے پہلو بہ پہلو جگہ دے کر یہ بتا دیا، کہ کامریڈ شیخ رشید انھیں ایک چپڑاسی سے بڑھ کر ہیں۔ اسی طرح کامریڈ شجاعت حسین، کامریڈ پرویز الہی، کامریڈ خورشید محمود قصوری سے لے کر کامریڈ طاہر القادری تک، سبھی عمران خان کے شانہ بہ شانہ انقلاب کے لیے سرگرم ہیں۔ کامریڈ شیخ رشید کو بچپن ہی سے انقلاب سے محبت رہی ہے۔ اس لیے جب جب وطن عزیز میں انقلاب آیا، شیخ رشید بسرو چشم اس کا حصہ بنے۔ یہ ساری عمر انقلاب دشمن نواب زادہ نصر اللہ پہ برحق تنقید کرتے آئے، کہ ان کی پارٹی \”تانگا پارٹی\” ہے؛ تانگا پارٹی سے مراد، ایسی جماعت ہے، جس کے سب عہدے دار ایک تانگے میں پورے آ جاتے ہوں، \"imran-khan-fall\"قدرت کی شان دیکھیے، کامریڈ شیخ رشید کی جماعت کو تانگا پارٹی بھی نہیں کہا جا سکتا، اس لیے کہ اب راول پنڈی شہر میں تانگے نہیں رہے؛ اس کی جگہ چنگ جی جیسی انقلابی سواری نے لے لی ہے۔ کامریڈ شیخ رشید، قائد انقلاب عمران خان کے انقلاب کی طرف بڑھنے والے ہر قدم، ان کے ہم قدم ہیں۔ کہیں کہیں تو چار قدم آگے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کامریڈ شیخ رشید نے کل پرسوں موٹر سائیکل پہ سواری کر کے ثابت کر دیا، کہ وہ پاکستانی انقلاب کے چے (یا چی) گویرا ہیں۔ ایک چنگ چی پارٹی کے سربراہ کو اتنی اہمیت دینا، قائدِ انقلاب کے تدبر کی اس سے بڑھ کر کیا مثال دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح قافلہ انقلاب کے شرکا کامریڈ طاہر القادری، اور کامریڈ شجاعت حسین، پرویز الہی کی ماضی میں انقلاب کی راہ میں کی گئی جدوجہد سے کون واقف نہ ہوگا۔

قائد انقلاب جان چکے ہیں، کہ یہ سسٹم ناکارہ ہوچکا ہے، گل سڑ چکا ہے۔ یہاں غریب، غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے، اور امیر، امیر سے جہاں گیر ترین بنتا جا رہا ہے۔ یہ قائد انقلاب ہی کی شبانہ روز محنت ہے، کہ کامریڈ علیم خان، کامریڈ جازی خان، اور کامریڈ جہاں گیر ترین خان جیسے قوم کا درد رکھنے والوں کو ایک پلیٹ میں اکٹھا کیا۔ آپ دیکھیے گا، اقتدار میں آتے ہی قائد انقلاب ان سب کی دولت کو قوم میں برابر تقسیم کر دیں گے۔ اور تو اور؛ قائد انقلاب بنی گالا کی کٹیا کو ڈسپینسری کا درجہ دے دیں گے، اور زمان پارک والے گھر میں لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ یہ سب تبھی ممکن ہے، جب اقتدار حاصل ہو جائے۔ موجودہ سرکار ابھی انھیں ان نیک کاموں سے روکے ہوئے ہے۔ قائد انقلاب قتدار میں آتے ہی، ملک بھر میں شوکت خانم اسپتال کا جال بچھا دیں گے۔ آپ نے دیکھا ہی ہوگا، کہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے اقتدار کے باوجود، کامریڈ نے شوکت خانم اسپتال بنانے کے لیے، قوم سے چندے کی اپیل کی۔ حال آں کہ انھوں نے کبھی کسی سرکاری اسپتال بنانے کے لیے بھی قوم سے چندہ نہیں مانگا، کیوں کہ وہ سرکاری اسپتال ہیں، اور شوکت خانم ٹرسٹ کی ملکیت ہے؛ سرکار پر اور \"imran2\"سرکار کا ٹرسٹ تو نہیں کیا جاسکتا ناں؛ سرکار آج ہے، کل نہ رہے۔ یہ قائد انقلاب کی حکمت کی ایک بڑی نشانیوں میں سے ہے۔ تس پہ مجھ جیسے کارکن یہ سمجھنے سے قاصر ہیں، کہ آخر پولِس والے اس انقلاب کو روکنا کیوں چاہتے ہیں! عمران خان اپنے لیے تو کچھ نہیں‌ مانگ رہے، ما سوائے وزیرِ اعظم کی ایک چھوٹی سی کرسی کے؛ کسی کا کیا جاتا ہے، اگر انھیں یہ کرسی دے دی جائے؟ اگر مہنگی ہے، تو وہ اپنے گھر سے لے آئیں گے۔ لوگو! اگر تم ایسا کرو گے، تو انقلاب کیسے آئے گا۔

قائد انقلاب قوم کی خدمت کے لیے تڑپے جا تے ہیں؛ اس فکر نے ان کی دن رات کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ ایسے میں وہ دوائیاں \’اسنف\’ کر کر کے اک ذرا سکون پاتے ہیں، اور نون لیگ کے سعد رفیق، طلال چودھری جیسے انقلاب دشمن ایسی ایسی زبان استعمال کرتے ہیں، کہ شرم سے شلواریں بھیگنے لگتی ہیں۔ قائد انقلاب کسی کے لیے ایسی زبان استعمال کرنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے، جیسے عابد شیر علی، رانا ثنا اللہ، یا زعیم قادری جیسے بورژوا سیاست دان کرتے ہیں۔ یہ کامریڈ عمران خان کا بڑا پن ہے، کہ وہ نون لیگ کے ایک کونسلر کے اعتراض کا بھی جواب دینے خود اسٹیج پر آ جاتے ہیں۔ حاسدین کہتے ہیں، انھیں کیمرے کے سامنے آنے کا شوق ہے۔ حیف! تواریخ کی کتابیں دیکھیے، ہر عظیم انقلابی پہ کیا کیا الزام نہ لگائے گئے۔

قائد انقلاب عورتوں کے حقوق کے بہت بڑے علم بردار ہیں۔ وہ تو عورت کو اتنی آزادی دیتے ہیں، کہ اکثر لوٹ کر نہیں آتیں۔ یہی وجہ ہے، کہ مسلم لیگ نون کے قائدین سہمے ہوئے ہیں، کہ یہاں عورت آزاد ہو گئی، تو اُن کا مستقبل کیا ہوگا۔ اسی خوف کی وجہ سے اسلام آباد انتظامیہ نون لیگ کے کہنے پر تحریک انصاف کی پر امن \"imran-khan-musharraf-fazal-ur-rehman\"حکومت ہٹاو انقلابی ریلی کی خواتین پر ڈنڈے برساتی رہی، گریبان سے پکڑا۔ ایسے میں کامریڈ عمران خان کا دل خون کے آنسو نہ روئے تو کیا کرے؟ سب سے پہلے میں انھیں اس واقعے کی تفصیل سے آگاہ کر دوں، جو اتنے گھامڑ ہیں، کہ نہیں جانتے، ایک فوجی کی دختر کے گریبان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔ فوج کی ملک کے لیے کیا کیا خدمات ہیں، اسے بیان کرتے صفحوں کے صفحے کالے کیے جائیں، تو کم پڑ جاتے ہیں۔ وہ معصوم فوجی کی بیٹی کامریڈ سماویہ محض ایک روڑا لیے، صرف ایک ظالم مرد کا سر پھاڑنا چاہتی تھیں۔ یہی وہ سویلین تھا، جس کی برسوں سے تلاش تھی۔ یہی وہ مرد تھا، جو عورت کی آزادی کا دشمن تھا۔ یہی وہ ظالم تھا، جس نے معصوم سماویہ کو پتھر نہ مارنے کی آزادی دینے سے روک رکھا تھا۔ حیف! ان عورتوں پہ جو مردوں کا ساتھ دیتی ہیں، اور ایسے موقع پر، جب ظالم مرد کا سر پھاڑا جا سکتا ہو، بیچ میں آ کر اپنی ہی ہم جنس کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیتی ہیں۔ یہ عورتیں نہیں ہوتیں، یہ نون لیگ کی پولِس والیا‌ں ہوتی ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہمارے اس معاشرے میں عورت بہت مظلوم ہے۔ عورت تو نام ہی مظلومیت کا ہے؛ بے چاری۔ ایسے میں جب کامریڈ سماویہ جو سفاک مرد پر صرف پتھر اچھال کر بے ضرر سا احتجاج کرنا چاہتی تھیں، انھیں اس احتجاج سے روکا گیا۔ یہ کیسی جمہوریت ہیں، جہاں عورت کو اتنی آزادی نہیں، کہ وہ ظالم مرد کو پتھر مار سکے؟ پھر لوگ باتیں کرتے ہیں، کہ یہاں فوج کیوں آ جاتی ہے۔

قائد انقلاب کو یوٹرن یوٹرن کہ کر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ایسا وہ نابکار کرتے ہیں، جو \’انقلاب\’ کے معنی سے نا واقف ہیں۔ لغت دیکھیے، تو لفظ \”انقلاب\” کے \"imran-khan-4\"معنی یہ بتائے جاتے ہیں۔ \’\’ایک حالت کی جگہ اس کی متضاد حالت آنے کی صورت احوال، تغیر تبدل، الٹ پلٹ، تبدیلی، کایا پلٹ۔\’\’ اگر قائد انقلاب ایک ہی حالت میں رہیں، تو وہ انقلابی کہلانے کا حق کھو دیتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں ایک تغیر ہے، تبدل ہے، الٹ پلٹ ہے، کایا پلٹ ہے۔ یہی وصف ہیں، جو کسی انقلابی کی پہچان ہیں۔ ہر انقلابی کی طرح قائد انقلاب پر بھی جھوٹے مقدمے بنائے گئے، لیکن وہ اتنے دلیر ہیں، کہ عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے۔ جب وہ سسٹم ہی کو نہیں مانتے، تو عدالتیں بھی اسی سسٹم کا حصہ ہیں۔ ہاں یہ ہے کہ کچھ عدالتوں نے قائد انقلاب سے متاثر ہو کر ایسے فیصلے دیے، جو ان کے موقف کی تائید کرتے ہیں۔ بس وہی فیصلے انصاف پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس بار قائد انقلاب جمہور کی پوری قوت سے اقتدار کے ایوان ہلا دیں‌ گے۔ جمہوریت نے تو کچھ نہیں دیا، لیکن جمہور سے گزارش ہے، وہ قائد انقلاب کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے، دو نومبر (اسے \’\’دو نمبر\’\’ نہ پڑھا جائے) کو اسلام آباد پہنچیں۔ یہ جدوجہد وہ آپ کے لیے کر رہے ہیں، اپنے بچوں کے لیے نہیں۔ ان کے دل میں قوم کے بچوں کا ایسا درد ہے، کہ وہ مہینوں مہینوں اپنے بچوں سے ملنے انگلستان نہیں جا پاتے۔ افسوس! ہم نے کبھی کسی انقلابی کی قدر نہ کی۔ لوگو! اگر تم ایسا کرو گے، تو انقلاب کیسے آئے گا!

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran