ٹرمپ کی ’’خوش گفتاری‘‘ کے فریب میں نہ آئیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فساد اور قتلِ عام میں بہت فرق ہوتا ہے۔اتوار کے دن سے دلی کے شمال مشرقی علاقوں میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہندومسلم فساد نہیں،جنونی ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتلِ عام کی منظم تیاری اور ارادے کا اظہار ہے۔مودی سرکار اس کی راہ میں رکاوٹ بننے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔نام نہاد ’’سول سوسائٹی‘‘ بھی بے بس ہوچکی ہے۔ امید کی لو فقط چند صحافیوں نے جگائے رکھی۔ ان کی اکثریت ہندو نوجوانوں پر مشتمل تھی۔بلوائیوں نے ان میں سے چند کو گھیرے میں لے کر ان کے ’’ہندو‘‘ ہونے کی تصدیق چاہی۔ یہ ’’تصدیق‘‘ جس انداز میں ہوتی ہے اس کے تذکرے کی ضرورت نہیں۔

منٹو کے ’’سیاہ حاشیے‘‘ کا ’’مش ٹیک‘‘ ہوگئی یادکرلیجئے۔ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ’’فساد‘‘ کو ’’قتلِ عام‘‘ دکھانے والے ان صحافیوں کی جرأت کو سلام۔اتوار کے روز سے جاری واقعات کا ذکر کرتے ہوئے اکثر صحافیوں کو 1984میں ہوا سکھوں کا قتلِ عام یاد آرہا ہے۔ اتفاق سے اس سے چند ہی ہفتوں بعد مجھے زندگی میں پہلی بار بھارت جانے کا موقعہ ملا تھا۔اپنے قیام کے دوران میں گھنٹوں دلی کے ان محلوں میں گھومتا رہا جہاں سکھوں کا قتلِ عام ہوا۔

کئی برس گزرنے کے بعد بھی جب اس قتلِ عام کی داستانیں یاد کرتا ہوں تو دل کانپ جاتا ہے۔صحافتی تجزیہ کروں تویہ حقیقت بھی مگر ذہن میں رکھناپڑتی ہے کہ نظر بظاہر اس قتلِ عام کا سبب وہ اشتعال تھا جو ہندواکثریتی علاقوں میں اندراگاندھی کے اپنے سکھ باڈی گارڈز کے ہاتھوں قتل کے باعث پھیلا۔ دلی میں موجود کئی طاقت ور کانگریسی سیاست دانوں نے اشتعال کی آگ کو بھڑکایا۔پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ تین دنوں تک جاری رہے قتلِ عام کے بعد انتقام کی آگ کافی حد تک سرد ہوگئی۔

دلی کے شمال مشرقی علاقے کے مسلمانوں کے ساتھ اتوار کے دن سے جو کچھ ہورہا ہے اس کی ’’اشتعال انگیز وجہ ‘‘ میسر نہیں۔آج سے کئی ماہ قبل بھارتی پارلیمان میں شہریت کا قانون منظور ہوا۔ اس قانون کا واضح مقصد دلی اور دیگر بھارتی شہروں میں صدیوں سے آباد مسلمانوں کو ’’کاغذات‘‘ کے ذریعے خود کو اس ملک کا شہری ثابت کرنا تھا۔ مسلمانوں نے ’’کاغذات‘‘ کی ایسی طلبی کو اپنی توہین تصور کیا۔ قطعی پرامن احتجاج کے ذریعے بھارتی حکومت کو ’’کاغذات‘‘ طلب کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔

ہندو انتہاپسند مسلمانوں کے احتجاج سے شدید ناراض اس لئے ہوئے کیونکہ مظاہرین کی قیادت روایتی مسلم رہ نمائوں پر مشتمل نہیں تھی۔ اس احتجاج میں ’’مذہبی‘‘ رنگ بھی نمایاں نہ ہوا۔فیض احمد فیض کی ’’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ والی نظم کا ورد ہوتا رہا۔جینز پہنے مسلم خواتین قطعاََ گھریلو خواتین کے ہمراہ شاہین باغ میں دھرنا دئیے بھارتی آئین کے دیباچے کو بآوازِ بلند پڑھتی رہیں۔ ان کا بیانیہ ہر حوالے سے ’’سیکولر‘‘ تھا۔اسے ’’مسلم انتہاپسندی‘‘ سے جوڑنا ناممکن تھا۔

پڑھے لکھے اور جامعات کے طلباء پر مشتمل اجتماعات میں آئین کی سربلندی،بنیادی انسانی حقوق اور شہریوں کے اختیار پر اصرار ہوا۔ اس بیانیے نے بھارتی فلم اور ٹی وی انڈسٹری سے وابستہ کئی Celebritiesکو بھی احتجاج سے یک جہتی کے اظہار پر اُکسایا۔ان کی اکثریت پیدائشی ہندوئوں پر مشتمل تھی۔ہندو انتہا پسندوں کو زیادہ پریشانی اس لئے بھی لاحق ہوئی کیونکہ مظاہرین کی ’’ترجمانی‘‘ بتدریج 20 سے 30 سال کے درمیان والی عمر کی ان مسلمان بچیوں کے پاس چلی گئی جو بین الاقوامی میڈیا کے روبرو مؤثر انگریزی زبان بولتے ہوئے ’’آئینی حقوق‘‘ کی جدوجہد کا ہر اوّل دستہ نظر آنا شروع ہوگئیں۔ا

ن بچیوں نے بھارت ہی نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے نسل پرست میڈیا کی جانب سے کئی برسوں سے پھیلائے اس بیانیے کو پاش پاش کردیا کہ مسلمان عورتیں ’’برقعوں میں دبکی‘‘ نیم انسان ہوتی ہیں۔’’جدید‘‘ دور کی ریاستوں میں ’’شہری حقوق‘‘ وغیرہ سے قطعاََ غافل ہیں۔انکی زبانیں گنگ ہیں۔وہ اپنے جذبات کے اظہار کی ہمت وجرأت سے محروم ہیں۔مودی سرکار اور اس کے انتہا پسند جنونیوں کے لئے یہ ممکن ہی نہ رہا کہ وہ شہریت والے قانون کے خلاف ہوئے احتجاج کو کسی طرح ’’داعش‘‘ جیسی تنظیموں سے جوڑپائیں۔ اس میں سے ’’القاعدہ‘‘ ڈھونڈیں۔ اسے ’’جیش محمد‘‘ کا حصہ دکھائیں۔ ’’پاکستان کی سرپرستی‘‘ میں پھیلائی انتہاپسندی کا شاخسانہ ثابت کریں۔

مسلمان مظاہرین اور خاص کر مسلمان بچیوں نے اپنے احتجاج کو جو شناخت دی،متعصب انتہا پسندوں کے پاس اس کا مدلل توڑ موجود نہیں تھا۔پُرامن احتجاج اور اس کے جدید ریاستوں میں بسے شہریوں کے آئینی حقوق پر اصرار نے بلکہ انہیں بوکھلادیا۔دلائل سے محروم ہوئے جنونیوں نے بالآخر پرامن احتجاج کو ’’غداروں کو گولی مارو‘‘ والے نعروں کے ساتھ خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی۔احتجاجی ٹس سے مس نہ ہوئے۔ بالآخر مودی کی جماعت کے ایک قدآور سنگھی رہ نما کپیل مشرانے اتوار کے روز سے ہندوانتہاپسندوں کے غول اکٹھا کرکے انہیں مسلمانوں کے محلوں پر حملہ آور ہونے کو اُکسانا شروع کردیا۔

دلی پولیس نے بروقت مداخلت سے انکار کردیا۔کئی مواقع پر بلکہ یہ واضح ہوا کہ بلوائی پولیس کے Cover میں مسلمان محلوں پر حملہ آور ہونے کے لئے روانہ ہورہے ہیں۔پیر کے روز امریکی صدر ٹرمپ گجرات کے شہر احمد آباد پہنچ گیا۔وہاں اس نے بھارتیوں کے ایک ہجوم سے خطاب کیا۔بھارتی اور عالمی میڈیا کی توجہ ٹرمپ کے دورئہ بھارت پر مبذول ہوگئی۔دلی کے شمال مشرقی علاقوں میں جو ہورہا تھا وہ میڈیا کے ریڈار سے غائب ہوگیا۔بہت کچھ ہوجانے کے کئی گھنٹے بعد میڈیا ان علاقوں میں جاری واقعات پر توجہ دینے کو عین اسی دن مجبور ہوا جب ٹرمپ دلی پہنچا۔

ہمارے میڈیا میں ٹرمپ کی بہت تعریف ہورہی ہے۔ ہم اس کے تہہ دل سے شکرگزار نظر آرہے ہیں کیونکہ اس نے بھارت میں اپنے قیام کے دوران پاکستان کے خلاف بد کلامی نہ کی۔کشمیر کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیا اور اس کے حل کے لئے ’’ثالثی‘‘ کی پیش کش دہرائی۔ ہمارے وزیر اعظم کے ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف لئے اقدامات کی تعریف بھی کی۔امریکی صدر کے ’’شکرگزار‘‘ ہوتے ہوئے ہم سادہ لوح یہ حقیقت فراموش کئے بیٹھے ہیں کہ نریندرمودی کی طرح ڈونلڈٹرمپ بھی دل سے مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہے۔

اس کی پریس کانفرنس کے دوران شہریت والے قانون کے تناظر میں مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ سلوک کے ضمن میں سوال ہوا تو فوراََ اسے بھارت کی ’’مسیحی‘‘ برادری کے ساتھ ہوا سلوک بھی یاد آگیا۔بھارتی مسیحیوں کا ذکر اس نے امریکہ میں اپنی Evangelical Base کو مطمئن کرنے کے لئے کیا۔اس مسلک کے پیروکار بھی ایک خاص نوعیت کی انتہا پسندی کے حامل ہیں۔وہ اسرائیل کے کٹرحامی ہیں۔جارحانہ انداز میں تبلیغ کرتے ہیں۔بھارتی حکومت سے انہیں شکوہ ہے کہ اس کے ملک میں موجود اس ملک کے ’’تبلیغی مشنز‘‘ کو کام کرنے سے روکنے کے قوانین بنائے گئے ہیں۔

مودی حکومت ان قوانین کے اطلاق کو یقینی بنانے میں ہمہ وقت مصروف ہے۔مسلمانوں کے بجائے ’’مسیحی‘‘ اقلیت کی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی کہ بھارت میں مسلمان اطمینان سے پھل پھول رہے ہیں۔ ان کی آبادی 14کروڑ سے 20کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔بھارتی مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے اس نے بہت مکاری سے بلکہ ’’فکر کی کوئی بات نہیں‘‘ والا تاثر پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ہم سادہ لوح مگر اس کے باوجود ٹرمپ کے شکرگزار ہیں کیونکہ ہمارے گماں میں اس نے بھارت کی سرزمین پر کھڑے ہوکر پاکستان کی ’’تعریف‘‘ کی۔

ہمارے وزیر اعظم کو اپنا دوست کہا ہے۔کشمیر کو ایک سنگین مسئلہ ٹھہرایا اور اس کے حل کے لئے ثالثی کی پیش کش کو دہرایا۔ اس کی خوش گفتاری مگر ’’کھلونے دے کر بہلایا گیا ہوں‘‘ والا معاملہ ہے۔میرا جھکی ذہن اس حوالے سے خوش گمانی میں مبتلا ہونے کو ہرگز تیار نہیں ہے۔آپ سے بھی ہاتھ باندھ کر التجا کرنے کو مجبور ہوں کہ ٹرمپ کی ’’خوش گفتاری‘‘ کے فریب میں نہ آئیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ نومبر 2020 میں ٹرمپ کو صدارتی انتخاب لڑنا ہے۔

اپنی جیت یقینی بنانے کے لئے وہ افغانستان سے امریکی افواج کی ’’باعزت‘‘ واپسی کو بے چین ہے۔پاکستان کا اس ضمن میں کردار کلیدی ہے۔اس نے اپنا ہدف حاصل کرلیا تو وہ اور اس کا ملک پاکستان او افغانستان کے بارے میں ویسے ہی لاتعلق ہوجائیں گے جیسے 1990کی دہائی میں سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد نظر آئے تھے۔

پاکستان سے ٹرمپ کا ’’پیار‘‘قطعاََ وقتی ہے۔اس ’’پیار‘‘ کی طویل المدتی بنیاد موجود نہیں ہے۔بھارت میں اپنے قیام کے دوران وہ Shared Valuesکا تذکرہ کرتا رہا۔بھارت کے دفاعی نظام کو مضبوط تر بنانے کے لئے 3ارب ڈالر کی خطیر حد کو چھوتے معاہدوں کا بندوبست ہوا ہے۔بحر ہند میں بھارت کو چین کے مقابلے کی طاقت بنانے کے وعدے ہوئے ہیں۔کیمروں کے روبرو ہوئی خوش گفتاری کو ٹھنڈے دل سے نظرانداز کرتے ہوئے “Strategic”معاہدوں پر نگاہ رکھیں۔ یہ حقیقت فراموش نہ کریں کہ اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مودی اور ٹرمپ ایک ہی Page پر ہیں۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *