کیماڑی کے مظلوموں کا قاتل کون؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پچھلے دنوں کراچی کیماڑی کے قریب ایک بہت بڑا حادثہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں درجن بھر سے زائد لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔ اور ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ شدید بیمار ہوکر ہسپتالوں میں پڑے ہیں گویا قیامت صغریٰ ان سینکڑوں گھروں میں برپا ہوگئی ہے جو کہ ممکن ہے کہ دو کروڑ سے زائد آ بادی کے شہر کراچی میں بسنے والے لوگوں میں ایک معمولی تعداد ہو مگر آپ ہر اس شخص یا اس کے گھر والوں سے پوچھیے جو اس حادثے میں بیمار ہوا ئی ہے یا اپنی جانوں سے چلے گئے ہیں۔

پہلے دو دن تو اس حادثے کی نہ تو تحقیقات کی گئی ہے نہ ہی کسی نے اس پر کان دھرے بلکہ طرح طرح کی توجیہات پیش کی گئیں۔ میری اس تحریر اور تحقیق کا مقصد عوام کو صحیح حقائق سے آگاہ کرنا ہے اور ارباب اختیار کی آ نکھیں کھولنا ہے نہ کہ اس حادثے کے ذ مہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے اور تمام مجرمان کو کیفرے کردار تک پہنچایا جائے اور غفلت برتنے والوں کو قرار واقع سزا دی جاسکے ابھی تک کی تحقیق کے مطابق اس میں وفاقی محکمے صو بائی حکومت پرائیویٹ کمپنیاں اور باثر افراد سب ذ مہ دار ہیں۔

میں سمجھتا ہوں موجودہ PTI حکومت جو کہ 2018 کے انتخابات کے بعد سے کراچی کے مینڈیٹ کی بھی دعوے دار ہے۔ ان سب کے لئے یہ حادثہ ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے اور ٹیسٹ کیس ہے مگر بد قسمتی سے لگتا ہے کہ اس بار پھر نامعلوم اور باثر شخصیات اپنا کام دکھا جائیں گی اور معاملے کو چند کاغذی کارروائیوں اور کچھ گزارشات کے بعد سرد خانے میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں ہونے والے بہت سارے معاملات اور حادثات میں ہوتا چلا آیا ہے چا ہے کراچی میں بلدیہ فیکٹری کی ہلاکتیں ہوں یا ماڈل ٹاؤن میں قتل و غارت یا خانیوال میں پولیس گردی یا اس جسے اور بہت سے معاملات بدقسمتی سے پاکستان میں عوام کو ہمیشہ حقائق سے دور رکھا گیا ہے معاملات کو انصاف کے ترازو پر تولنے کی بجائے سرد خانوں میں ڈال دیا گیا ہے پیپلز پارٹی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری ہوں یا وزیراعظم عمران خان ان دونوں کے لئے ایک ایسا ٹیسٹ کیس ہے جس میں وہ ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوا سکتے ہیں اور اس طرح کے حادثات کو ہونے سے بچانے کے لیے موثر قانون سازی کی جاسکتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اہل اقتدار سندھ کے ہوں یا وفاق کے سب کو اپنے اپنے مفادات اور تحفظات عزیز ہوں تو عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے ایسے جرات مندانہ اور مفادات سے بالا تر اقدامات کون کرے گا۔

کراچی کیماڑی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں زہریلی گیس کے پھیلنے سے بہت سی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور سینکڑوں لوگ بیمار ہو کر ہسپتالوں میں داخل ہوئی ہے پہلے تو حکومت نے کہا کہ کچھ نہیں ہوا پھر کہا گیا کہ گیس لیک ہے جب گیس لیک ذمہ داروں کا تعین کیا گیا تو فوراً ایک نیا بیان سامنے آیا کہ گیس لیکیج نہیں بلکہ پورٹ قاسم لنگر انداز ہونے والے بحری جہازسے ہونے والے سویا بین کے ڈسٹ کے اخراج کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اور یہ کہ اس جہاز کو پورٹ قاسم سے ہٹا دیا گیا ہے اور یہ کہہ کر معاملے کو دبایا جانے لگا۔

جب میں نے تحقیق کی تو ایک سے بڑھ کر ایک انکشافات ہوتے چلے گئے سب سے پہلے بات کرتے ہیں سویا بین ڈسٹ تو سویا بین ڈسٹ Particlesجتنے مرضی باریک ہوں سائز کے اعتبار سے وہ کم از کم 0.5 Microسے لے کر 01.00 مائیکرون تک ہوتے ہیں اور یہ بڑے واضح دھول اور گرد کی شکل میں نظر آتے ہیں جب کے ان میں ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ وہاں کچھ نا محسوس سی گیس نے تباہی مچائی ہے۔

دوسری جانب جس لیب کی رپورٹ بار بار تذکرہ کیا جا رہا ہے اس لیب کا نام ہے Global Environmental Labاس لیب نے اپنی پہلی رپورٹ مرتب کی جس میں ہوا میں Carbon mono Oxideکی موجودگی اور AQI Air Quality Indexکی خطرناک حد تک خرابی کی نشاندہی کی ہے اور ثابت کیا کے وہاں ہوا میں مذکورہ علاقے کیماڑی اور اس کے ارد گرد 5 کلو میٹر کے حلقے میں خطرناک گیسیں موجود رہی ہیں۔ اس کی بنیاد GELکی وہ تحقیق ہے جو انہوں نے دو دن میں وہاں کی ہے جس میں 24 گھنٹے کے اندر اندر وہ AQIجو گیسوں کی موجودگی سے انڈیکس بہت بُرا تھا وہی بہت بہتر ہو گیا یعنی وہاں 24 گھنٹوں کے لیے کچھ ایسا ہوا ایسی زہریلی گیسوں کا اخراج ہوا جس نے ہوا کی کوالٹی AQIکو شدید متاثر کیا۔ اور ان چوبیس گھنٹوں میں جو کوئی بھی وہاں موجود تھا یا گزرا وہ بُری طرح متاثر ہوا۔ اور اس میں سے جو پہلے سے ہی سانس کی دشواری۔ دمہ یا کمزور اعصابی نظام کے حامل افراد تھے وہ اور بُری طرح متاثر ہوئے اور کچھ جا ن سے بھی چلے گئے۔

ایک عام فہم قاری کو بتاتا چلوں کے ہوا میں جن مرکبات اور گیسوں کی موجودگی کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہیں H 2 S 04 تو انسانی جان لینے کے لیے سائینا ئیڈذہر سے بھی خطرناک ہے۔ اس ساری گھمبیر صورتحال میں جب اسی لیب نے ایک اور رپورٹ تیار کرنی شروع کی تو سیکرٹری ماحولیات سندھ، چیف سیکرٹری سندھ سمیت دوسرے حکومتی عہدیداران نے اس لیب کو نہ صرف مزید رپورٹس کی تیاری سے روک دیا بلکہ کسی مزید تحقیق کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دے ڈالیں گویا عوام کو حقیقت صورتحال سے بے خبر رکھنے اور معاملے کو دبانے کے لئے تمام ذمہ داران خود میدان میں آگئے ہیں۔

آئیے آپ کو بتاتا چلوں کہ میری تحقیقات کے مطابق ہوا کیا ہے۔ سلسلہ کچھ یوں ہے کہ جب بھی کوئی مال بردار بحری جہاز کسی بندرگاہ پے لنگر انداز ہوتا ہے تو بیماریوں کی روک تھام کے لیے وہاں ہر جہاز کے لئے Fumigation یعنی ”بخارات اور دھوئیں سے ہوا کوصاف کرنے کا عمل“ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ اس کو سادہ عام الفاظ میں آپ ایک طرح سے دھونی دینا ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کا ایک وفاقی ادارہ ہے جس کا نام ہے Pakistan International Container Terminal (Pict) جس کا کام ہے کہ ہر لنگر انداز بحری جہاز کی قانونی دستاویزات، کسٹم کلیئرنگ، لوڈنگ ان لوڈنگ، ٹرانسپورٹیشن اور فیومیگیشن جیسے سب معاملات کی نگرانی کرتا ہے اور اس عمل کے لیے Pictصوبائی اور وفاقی حکومت کے مختلف محکموں کی معاونت سے سر انجام دیتا ہے مثلاً کسٹم اور ڈیوٹی Taxکے معاملات محکمہ کسٹم کے ذمہ ہے اسی طرح فیومیگیشن کے لیے صوبائی محکمہ جسے Plant Protection Department۔ P۔ P۔ Dکہتے ہیں کی ذمہ داری ہے اور یہ محکمہ اس عمل کے لیے مختلف رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے کسی کمپنی کے ذمہ لگاتا ہے۔ فلاں جہاز کی فیومیگیشن کی جائے فیومیگیشن چونکہ ایک مکمل سائنسی عمل ہے اور اس میں ہر طرح کی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ کسی طرح کا کوئی کیمیائی رد عمل نہ ہو اور کسی بھی انسانی جان یا جاندار کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔

اس سارے عمل کو انجام دینے کے لئے باقاعدہ بین الاقوامی سطح پر مروجہ طریقہ کار ہے اور ایک مکمل Standard Operating Procedures، (SOP ’s) ہیں جن پر عملدرآمد کرنا ہر ٹھیکیدار کے لئے لازمی ہوتا ہے۔ مگر اس سارے معاملے میں بھی وہی ہوا ہے جو کہ ہمیشہ سے پاکستان میں ہوتا چلاآیا ہے یعنی اس P۔ P۔ Dکے سرکاری محکمہ نے فیومیگیشن کے لیے ٹھیکہ اپنی منظور نظر کمپنی پروگرایسو فیومیگیشن کارپوریشن کو دیا Progressive Fumigation Corporation کراچی رپورٹ پر بہت سالوں سے براجمان فیومیگیشن کمپنی ہے جس کی ساکھ پہلے بھی غیر معیاری اور غلط اور غیر قانونی طریقوں سے فیومیگیشن کرنے میں بہت خراب ہے مگر چونکہ اس کے پیچھے با اثر شخصیات ہیں اس لیے یہ ٹھیکہ بھی ملی بھگت سے اسی کمپنی کو ملا ہے۔ اس سلسلہ میں جب میں نے تحقیق کی تو پتہ چلا کہ اس کمپنی نے پہلے بھی کئی بار غیر قانونی فیومیگیشن کے لئے بحری جہازوں کی کھلے سمندر میں فیومیگیشن کی ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حامد خان المشرقی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *