ہوشربا مہنگائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج سے تقریباً 35 سال پہلے کاریتاس غریب مسیحیوں کو چھوٹی سطح پر کاروبار کرنے کے لئے مرغیاں، بکریاں اور بھینسیں پالنے کا مشورہ دیا کرتے اور انہیں آسان اقساط پر قرضے دیا کرتے تھے۔ یہ سست رفتار کاروبار تولوگوں کی سمجھ میں نہ آیا مگر انہوں نے گیس کے میٹر لگوانے کے لئے کاریتاس سے قرضے ضرور حاصل کرلئے۔ آج اس دور کی ہوشربا مہنگائی نے غریبوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اور ہمارے وزیرِ اعظم لوگوں کو اپنے چولہے گرم رکھنے کے لئے انڈے، مرغیاں، بکریاں اور بھینسیں پالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

یہ مشورہ 35 سال پہلے کے کاریتاس کے مشورے سے ملتا جلتا ہے جو اْس وقت بھی عام لوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ تو آج کے اس ترقی یافتہ دور میں یہ مشورہ شیخ چلی کا خواب دکھائی دیتا ہے۔ جو آنکھ کھلنے پر حقیقت میں لوٹ آنے سے چکنا چور ہوجاتا ہے۔ ناتجربہ کار حکمران مختلف تجربات کررہے ہیں جس کی ایک کڑی لنگر خانہ کھولنا بھی ہے۔ جس پر بہت سے سوالیہ نشان ہیں۔ کیایہ اچھا نہ ہوتا کہ ایسے تجربات کرنے کی بجائے خردو نوش کی اشیاء اور گھریلو سامان کو سستا کیا جاتا، بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کیاجاتا۔روزگارمہیا کیے جاتے۔ ملکی صنعت و حرفت کے فروغ کے لئے کوششوں کو تیز کیاجاتا۔ بڑھتے ہوئے افراط زر کو روکا جاتا۔ اور مستقل بنیادوں پر غربت کے خاتمے کے لئے بنیادی اقدامات کو ترجیح دی جاتی۔

عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے ایک اور سبز باغ دکھایا جا رہا ہے کہ کندیاں کے جنگل میں پودے لگائے گئے ہیں اس لیے وہ جنگل آپ کو نوکریاں دے گا۔ جس ملک کی اکثریت غریب ہو اور لاکھوں نوجوان بیروزگار ہوں۔ وہاں یہ شغل چٹکی بھر خاک ہوا میں پھینکنے کے مترادف ہے۔

غربت ایک ایسا ناسور ہے جو جرائم اور گناہ کو جنم دیتاہے۔ جب کھانے کو کچھ نہ ملے توانسانی ذہن مفلوج ہوکر رہ جاتا ہے۔ اور اعصاب کام کر نا چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں نہ تو قانون کا احترام رہتا ہے نہ شرم و حیا۔ اسی لئے بعض اوقات انسان ساری حدیں پار کر جاتا ہے۔ خوشحالی لانے کے لئے صدیاں درکار ہوتی ہیں۔ مہنگائی اور غربت کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کوٹھہرانا ہر حکومت کا وتیرہ رہا ہے۔ میڈیا کو اصلی صورتحال سامنے لانے سے روکنا آزادیِ صحافت پر شبِ خون مارنے کے مترادف ہے۔

اب بھی وقت ہے کہ مزیدتاخیر کرنے کی بجائے معشیت کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں ا ورقوم کو اس مشکل کی گھڑی سے نکالا جائے۔ کیونکہ ہمارے لوگ نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں۔ نوجوان بے راہ روی کا شکار ہوکر طرح طرح کے نشوں میں گرفتار ہوتے جا رہے ہیں۔ اور انہیں نفسیاتی مریضوں کے ہاتھوں معصوم بچیوں کے ریپ کیسز میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے عمران خان نے احساس پروگرام کا آغاز کیا۔ جس سے ستر لاکھ مستحق خواتین مستفید ہو سکیں گی۔ اور چھوٹی سطح پرکاروبار کھولنے کے لئے قرضے لے سکیں گی۔ عمران خان کی حکومت نے 50 ہزار نئی پرچون کی دکانیں کھولنے اور یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاء کی قیمتوں میں کمی کرنے اور ماہ رمضان پیکیجز کا اعلان کیا ہے۔ بیشک ایسے اقدام سابق حکومتیں بھی اٹھاتی رہی ہیں۔ مگر ان پر کرپشن کے الزام بھی لگتے رہے۔ اس لئے کہ مستحق عوام کم فیض یاب ہوئے اور امرا کی جیبیں زیادہ بھرتی رہیں۔خدا کرے کہ اس بار ایسا نہ ہو۔

میں دبئی اور ترکی کے میں رہنے نوجوانوں کا خصوصی ذکر کروں گا۔ جنہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے گوجرانوالہ کے قریب شیخوپورہ اور کورٹ رادھا کشن میں خواتین کے لئے سلائی سکول کھولے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کو سکول یونیفارم مہیا کرتے ہیں۔ ان کا عزم ہے کہ خواتین دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کی بجائے گھروں میں بیٹھ کراپنے گھر کا خرچہ چلانے کے قابل بن سکیں۔ اسی طرح ہمارے ایک محترم دوست پاکستان میں رہنے والے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت چھوٹی سطح پر کاروبار شروع کرنے اور چین سسٹم کے ذریعے غریب لوگوں کو سستے داموں آٹا فراہم کرنے کی سکیم سے آگاہی دیتے ہیں۔جس میں ان کا اپنا سرمایہ بھی چھوٹے سے نفع کے ساتھ انہیں ملتا رہتا ہے اور انسانیت سے سرشارلوگ غریبوں کی مدد کرسکتے ہیں۔ پورے پاکستان میں ان کا مختلف لوگوں سے رابطہ ہے۔ جنہیں وہ انکم جنریٹ کرنے کی سکیموں سے آشنائی دیتے ہیں۔ خداکرے ان کی محنت اور جذبہ رنگ لائے اور غربت کم کرنے میں معاون ثابت ہو۔ ہماری دعا ہے کہ خدا دبئی اور ترکی میں مقیم ان نوجوانوں کوہمت و طاقت عطا فرمائے۔ اور مخیر حضرات کو بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ہماری حکومت سے یہ اپیل ہے کہ پاکستان میں بہت سی مسیحی کمیونٹی کی آبادیاں ہیں جن کی تعداد 40 ہزار کے لگ بھگ ہیں۔ وہ ہمیشہ حکومتی فلاحی سکیموں سے محروم رہی ہیں۔ گوجرانوالہ کے قریب فرانسیس آباد کے نام سے ایک مسیحی آبادی ہے۔ جہاں تقریباً 36 ہزار سے زائد لوگ آباد ہیں مگر وہ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ وہاں ڈاکخانہ، بینک اور گورنمنٹ کا کوئی سکول نہیں اور نہ ہی کوئی یوٹیلیٹی سٹور ہے۔ جس سے وہاں کے غریب مسیحی مستفیض ہو سکیں۔

وہیں شیخوپورہ، فیصل آباد کے نواحی علاقے ہیں جہاں حکومت کی کبھی نظر نہیں جاتی۔ حالانکہ گوجرانوالہ سے تین صوبائی رکن ا سمبلی رہے ہیں اور اب ایک صوبائی اسمبلی کی رکن بھی ہے۔ مگر انہوں نے بھی اپنے گردونواح کے غریب مسیحیوں کی فلاح و بہبود کے بار ے میں کبھی نہیں سوچا۔ اسی طرح لاہور میں بڑی مسیحی آبادی بہار کالونی اور یوحنا آبادہے اگرچہ وہاں یوٹیلٹی سٹور موجودہے مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سٹورمیں ضرورت کی اشیاء نا پید ہیں۔ اسی طرح کی بے شمار ایسی مثالیں ہیں۔ جہاں مسیحیوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ سوچنے کا مقام ہے کہ کیا یہ پاکستان کے شہری نہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments