اے سے ایپل، بی سے بال۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک چھوٹی سی بچی زور زور سے اپنا سبق دہرا رہی تھی اور ہم سوچ رہے تھے، اے سے ایپل وہ آموختہ ہے جو ہر کسی نے اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی ضرور یاد کیا ہوگا۔

اے (A) انگریزی حروف تہجی کا پہلا حرف، جس کا ذکر ہمارے معاشرے میں بہت کثرت سے کیا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کے لئے ہمہ وقت اے گریڈ کی تمنا ہے، شہریوں کو ہر چیز اے ون چاہیے، سیاسی فنکاروں کو زنداں میں بھی اے کلاس کی آرزو رہتی ہے۔

مگر صاحبان، کیا کہیے کہ ہم اس حرف اعلی سے بہت خوفزدہ رہتے ہیں۔ ہم نے لوگوں کے انبوه میں انسانی شخصیت کے روز نامچے پر “اے” کے ایسے ایسے مظاہر دیکھے ہیں کہ اب جہاں اے کا ذکر آئے، ہم کانپ اٹھتے ہیں۔

اے (A) زندگیوں میں زہر کیسے گھولتا ہے اور جینے کی تمنا رکھنے والوں کو موت کے دہانے پہ کیسے لا کھڑا کرتا ہے اس کا تعلق اے سے شروع ہونے والے پانچ رویوں سے ہے۔ انسانی شخصیت کے وہ گنجل جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ہر رشتہ قائم کرنے سے پہلے جانچ لیا جائے کہ آپ کا دوست، دلدار، کاروباری ساتھی، یا ہونے والا رفیق سفر ان خصوصیات کا حامل تو نہیں۔

چلیے ان پانچ سے آپ کو ملواتے ہیں!

پہلا لفظ Anger یا غصہ جو انسانی جذبات میں ایک حد تک نارمل سمجھا جاتا ہے۔ کوئی بھی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان دوسرے کے لئے تب غصہ محسوس کرتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ اس کی ذات کا وقار کسی بھی طرح سے مجروح ہوا ہے۔ غصے کا مناسب، شائستہ اور حدود میں مقید اظہار انسانی تعلقات کو بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن یہ جذبہ انتہائی منفی قرار پاتا ہے جب غصہ آتش فشاں بن کے سب کچھ جھلسا دے، سب بہا لے جائے اور بچی کھچی زندگی میں راکھ کے سوا کچھ بھی نہ ہو۔

اعداد و شمار گواہی دیتے ہیں کہ زیادہ تر قتل وغارت غصے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اشتعال انگیزی میں سرزد ہوتے ہیں۔ غصے میں کہے گئے الفاظ اور رویے ذہنی تشدد کی وہ قسم ہے جو نظر تو نہیں آتی لیکن شکار ہونے والوں کو زندگی بھر کے درد و تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ گھاؤ آسانی سے نہیں بھرا کرتے۔

اے سے شروع ہونے والادوسرا لفظ Abuse یا تشدد ایک ایسے جذبے کی نشاندہی کرتا ہے جس میں ایک فرد دوسرے کے لئے تکلیف دہ حد تک ضرر رساں بن جائے۔ تشدد کی اقسام میں جسمانی تشدد، ذہنی تشدد، جذباتی تشدد، نفسیاتی تشدد، مالی تشدد، جنسی تشدد اور پروفیشنل تشدد شامل ہیں۔ متشدد رویوں کے حامل طاقت کا سہارا لے کر کمزور پہ حاوی ہوا کرتے ہیں چاہے یہ طاقت اختیار کی ہو یا مذہب کی، اتفاقیہ ملی ہو یا محبت کی کارفرمائی ہو، علم منبع ہو یا جہالت سر پہ چڑھ کے بولتی ہو، طاقت کا نشہ تشدد کے شوقین کو بدمست کر دیا کرتا ہے۔

اے سے شروع ہونے والا تیسرا لفظ aggression یا جارحانہ پن، انسانی رویوں کا وہ مظہر ہے جو اکھڑپن اور بے قابو غصے کی بنیاد پہ بنا جاتا ہے۔ جارح الفاظ، جارح رویہ، جارح مزاج، جارح شخصیات سے ٹکراؤ بقا کی ایسی جنگ ہوا کرتی ہے جس میں بچنے والا بھی ریزہ ریزہ ہو جایا کرتا ہے۔

اے سے شروع ہونے والا چوتھا لفظ Addiction یا نشہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ منشیات کے عادی افراد کی دنیا ہی الگ ہوا کرتی ہے۔ افراد کے باہمی تعلقات کو نشہ کیسے گھن لگا کے بوسیدہ کرتا ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یاد رکھیے نشے سے مراد صرف نشیلی اشیا سے حاصل ہونے والا جنون نہیں۔ طاقت اور اختیار بھی نشے ہی کا کام کیا کرتے ہیں۔

اے سے شروع ہونے والا پانچوں شاہکار Ailment یا بیماری ہے اور اس میں وہ سب لوگ جو نفسیاتی یا ذہنی بیماریوں کا شکار ہوں، شامل کیے جاتے ہیں۔ مرگی، ڈپریشن، اینگزائٹی، شیزو فرینیا، بائی پولر مینٹل ڈس آرڈر ایک لمبی فہرست کے کچھ حصے ہیں۔

انسان حیاتیاتی کائنات کا ایک بنیادی ٹکڑا کورے کاغذ سا ذہن و دل لئے جنم لیتا ہے جس پہ مختلف معاشروں میں مروج بھیانک رسوم و روایات اپنے قواعد لکھتی ہیں۔ اور پھر یہ آزاد پرندہ ان ضوابط کو اعلی سمجھتے ہوۓ اپنے ہی تخیلات، سوچ اور اطوار کو ایسے تراشتا ہے کہ اے (A) کی سراپا تصویر بن جاتا ہے۔ اس کی ہر سانس نہ صرف اس کے لئے بلکہ ہر تعلق کے لئے زہر ہلاہل کا کام کرتی ہے۔

زندگی زندہ دلی سے بسر کرنی ہے تواے کی مداحی چھوڑیے اور بی (B ) کے معترف ہو جائیے جہاں برین (Brain) کی بیوٹی (Beauty) نہ صرف زندگی میں پھول کھلاتی ہے بلکہ سفر زیست بھی سہل کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *