ٹرمپ کا شوشہ گلے نہ پڑ جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ٹرمپ اپنا بھارتی دورہ مکمل کر کے واپس چلے گئے ہیں اور توقع کے عین مطابق معاملات چلے۔ عام تصور چاہے ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے حوالے سے کچھ بھی ہو۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہو گا کہ انہوں نے اپنے اس دورے کے ذریعے جنوبی ایشیاء کے دونوں اہم ممالک کو خوش کرنے کی بھی کامیاب کوشش کی ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دونوں ممالک سے معاملات کو اسی طرح طے رکھنے میں کامیاب ہو گئے کہ جس انتخابی نعرے پر وہ اقتدار میں آئے تھے اور اگلی مدت کے لیے دوبارہ وائٹ ہاؤس کے مکین بننا چاہتے ہیں۔

اپنے گزشتہ کالم میں اس کا ذکر کیا تھا کہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے صدر ٹرمپ کو تجویز کیا ہے کہ وہ سی پیک اور بی آر آئی کے حوالے سے کوئی گفتگو نہ کرے بھارت اس حوالے سے سر توڑ کوشش کر رہا تھا مگر انہوں نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے مشورہ کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت کی سر زمین پر کھڑے ہو کر ایسی کوئی بات کہنے سے اجتناب کیا کہ جن سے ان کے تعلقات چین کے حوالے سے کسی بدمزگی کا شکار ہو جاتے۔ بھارت میں کھڑے ہو کر ایسی گفتگو کا یہ بھی مطلب اخذ کیا جا سکتا تھا کہ امریکہ بھارت کو چین کے مقابل قوت کے طور پر دیکھ رہا ہے مگر ایسا تصور اس وقت امریکہ کے اپنے مفاد میں بھی نہیں تھا سو شاندار جلسے کے انعقاد کے باوجود اس حوالے سے مودی کو ٹھینگا دکھا دیا۔

لیکن جیسا کہ گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا وہ ایک دفاعی معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جبکہ خلائی رسد گاہ کے حوالے سے بھی معاملات آگے بڑھ گئے بیان کیا تھا کہ امریکہ بھارت سے کسی بڑے تجارتی معاہدے کے موڈ میں نہیں ہے اسی لیے انہوں نے اب 24 ارب ڈالر کی تجارتی خسارے کو نا قابل قبول قرار دیا ہے۔ اور یہ ٹرمپ کی وہ پالیسی ہے جس پر وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ جلسے میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کا اس طرح سے ذکر کرنا اس بات کا واضح طور پر غماز تھا کہ امریکہ بھارت کو یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ ہم نے ابھی تک خطے میں اپنے انڈے صرف ایک ہی نوکری میں نہیں رکھے ہوئے ہیں اور اگر معاملات ہماری پسند کے مطابق نہ چلائیں تو مزید کچھ انڈوں کی ٹوکریوں میں ردو بدل ہو سکتا ہے۔

یہ پیغام ٹرمپ نے کوئی ابھی ہی نہیں دیا بلکہ یکم فروری کے اپنے کالم میں راقم الحروف نے ذکر کیا تھا کہ امریکہ اپنے کاروباری معاملات کو بڑھانے کی غرض سے پاکستان میں لوگ پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ٹرمپ کا ابھی بھارت کا دورہ مکمل ہی ہوا ہے تو اسی وقت ان کا ایک اعلیٰ تجارتی وفد وزیر تجارت کی سربراہی میں پاکستان میں آ موجود ہوا ہے تا کہ بھارت کو پیغام سمجھنے میں کوئی غلطی نہ لگ سکے۔ پاکستان کے حوالے سے انہوں نے اپنی تقریر اور پھر امریکہ بھارت مشترکہ اعلامیہ میں بہت معنی خیز گفتگو کی کشمیر پر ثالثی کی بات کر کہ انہوں نے انڈیا میں کھڑے ہو کر پاکستان کے حوالے سے سب سے زیادہ اہم مسئلہ پر امریکی طاقت کا اظہار کیا۔

یہ سمجھنا درست نہیں ہو گا کہ جس طرح سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ کیونکہ ان کو ثالث تسلیم کرنے کے بعد وہی کچھ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جو فیصلہ کر دیں۔ کیا ہم اس انداز میں مسئلہ کشمیر میں کسی قسم کی مداخلت چاہتے ہیں؟ خیال رہے کہ جب ہم آزادی کے ابتدائی سالوں میں پانی کے مسئلے سے نبردآزما تھے تو اس وقت بھی ایک ثالثی کے ذریعے ہی وطن عزیز کے دریا بیچ ڈالے گئے تھے اور وہ ثالثی آج تک ہمارے گلے پڑی ہوئی ہے۔

کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ یہ ثالثی بھی ہمارے گلے پڑ جائے۔ اس لیے صرف اس بیان پر خوش ہونے سے زیادہ فکر مندی اور بہترین تیاریوں کی ضرورت ہے۔ اس بیان کے ساتھ ساتھ امریکہ اور بھارت کا مشترکہ اعلامیہ ایک ایسی کڑوی حقیقت ہے کہ جس پر غور ویسے نہیں کیا جا رہا کہ جیسے کرنا چاہیے۔ امریکہ نے اس اعلامیہ میں بھارت کو خوش اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کے تمام پینترے استعمال کیے ہیں۔ ایک طرف امریکہ افغان طالبان سے امن معاہدہ کرنے کی طرف جا رہا ہے مگر دوسری طرف وہ افغانستان میں بھارت کے کردار کا خیر مقدم کر رہا ہے۔

افغانستان میں بھارت کے کسی غیر معمولی کردار کے نتائج کیا ہوں گے اس کو سمجھنے کے لئے کسی پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں۔ پاکستان برسوں سے اس کو بھگت رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ میں پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ بھارت میں ہونے والے دو واقعات کے ہوالے سے بھی مطالبات شامل ہیں۔ پاکستان سے ٹھوس کارروائی کے مطالبے کے الفاظ ہی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ معاملات کو ابھی تک شک و شبہ سے دیکھ رہا ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی کیا پوزیشن ہے۔ یا وہ پاکستان کو خوف میں رکھنے کے لئے اور بھارت کو خوش کرنے کی عرض سے ایسا تاثر قائم رکھنا چاہتا ہے۔ یہ جو ایف اے ٹی ایف میں گرے وائٹ لسٹ کا کھیل بھی کھیلا جا رہا ہے وہ بھی در حقیقت اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اس کے علاوہ دو اور امور نہایت تشویشناک ہوئے۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کی حمایت کی توثیق کی کہ بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت ملنی چاہیے۔ اسی طرح امریکہ نے بھارت کی اس معاملے پر بھی حمایت کا کہا ہے کہ وہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں بھارت کی شمولیت کا حامی ہے خیال رہے کہ گرے وائٹ لسٹ کا مذاق افغانستان میں بھارتی کردار کا خیر مقدم سلامتی کونسل کی مستقل نشست پر حمایت اور نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں داخلے کی بات اس وقت کی گئی ہے کہ جب پاکستان افغانستان میں امریکہ جو چاہتا تھا اس کو من و عن کر رہا ہے۔ لیکن جواب میں ثالثی کا شوشہ کے جس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ان حالات میں پاکستان کو اپنی پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے کہ کہی اچھی ذاتی دوستی کے نشے میں ایسا نہ ہو جائے کہ بعد میں ہاتھ ملنے کی بھی گنجائش باقی نہ بچے کہ جیسے سندھ طاس معاہدے میں نہ بچی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *