قاسم علی شاہ: ٹیچر سے ٹرینر تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

استاد ایک کتاب کو ایک سو اسی 180 دنوں پڑھاتا ہے جبکہ وہی کتاب ایک ٹرینرایک سو اسی 180 منٹ سے بھی قلیل وقت میں پڑھا لیتا ہے۔ اور اسی وجہ سے آج کی دنیا ٹرینر کو ایکسپرٹ کہتی ہے۔ آنے والا دور جس انڈسٹریل ریولوشن 4.0 کا سامنا کرنے والا ہے اس میں ترقی کرنا بلکہ اپنے آپ کو وقت کے متوازی رکھ کر چلنے کے لئے ٹرینر یعنی ایکسپرٹس کی ہمیشہ ضرورت رہے گی۔ دور حاضر کے اس چیلنج سے نپٹنے کا بیڑہ محترم جناب قاسم علی شاہ صاحب نے اٹھایا۔

شاہ صاحب موجودہ وقت کے ایک نہ صرف عظیم استاد اور ماہر تعلیم ہیں بلکہ ان کی ذات میں اپنی قوم کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ اقبال کی خودی کا سبق لیے انہوں نے 2017 میں قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن کی بنیاد ”سوچ بدلے گی تو پاکستان بدلے گا“ کے عزم کے ساتھ رکھی اور پھر یکے بعد دیگرے تربیت کے اس سلسلے کو بہت محنت اور جانفشانی کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔

مختلف طرز کے ڈھیروں تربیتی پروگرام ایک تسلسل کے ساتھ قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن سے کروائے جارہے ہیں۔ فاؤنڈیشن میں انعقاد پذیر ہونے والے تمام کورسز اور تربیتی نشستوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان میں ایک با عمل اور مثبت سوچ کو پروان چڑھایا جائے جو کہ ذاتی اہداف کو پورا کرتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے کی صلاحیت حاصل کرے۔

اس سلسلے کی ایک بہت اہم کڑی ”ٹرین دا ٹرینر“ پروگرام تھا جس کے کل بارہ بیچ چلائے گئے۔ اور پھر اس کے بعد پاکستان کی پہلی باقاعدہ ٹرینرز کانفرنس 31 مارچ 2019 کو پی سی ہوٹل لاہور میں منعقد کروائی گئی۔ جس میں عصر حاضر کے بہترین ایکسپرٹس کو بلوایا گیا جنہیں نے پاکستان میں ابھرتی ہوئی ٹریننگ انڈسٹری پر سیر حاصل گفتگو کی اور اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں نوجوان تربیت کاروں کو مستقبل کے حوالے سے ضروری رہنمائی فراہم کی۔

لیکن یہ سلسلہ یہیں رک نہیں گیا بلکہ اس سمت میں ابھی بہت کام ہونا باقی تھا اور اس خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے محترم قاسم علی شاہ صاحب نے ایک پورا پلان ترتیب دے رکھا تھا۔ وہ ہمیشہ بہت ہی خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں اور ان کا وہی ویژنری کام ہر طرف امید کا ایسا دیا جلاتا ہے جو اندھیروں کو نہ صرف روشن کرتا ہے بلکہ اس دیے سے مزید دیے روشن ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

ایک تقریب سے واپسی پر گاڑی میں شاہ جی اور راقم الحروف سفر کر رہے تھے جب انہوں نے ”ٹیچر سے ٹرینرتک“ پروگرام کا ذکر کیا کہ کس طرح اس پروگرام کو ترتیب دیا گیا ہے اور کیسے اس پروگرام/ پراجیکٹ کے اختتام پر ٹرینرز کے لئے لائسنز کا اجراء کیا جائے گا۔ اور میرے لیے یہ بہت ہی خوشی کی بات تھی کیونکہ کہیں نہ کہیں میرے اندر بھی اسی طرح کی آوازیں آرہی تھیں۔

دراصل جنوری 2008 میں جب میں نے پہلی انٹرنیشنل ٹریننگ امریکہ سے حاصل کی اور اس کے بعد تواتر سے کینیڈا اور برطانیہ سے تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا اور اسی دورانیے میں وہاں کے ٹریننگ کے نظام کو بھی ایک طالبعلم کی حیثیت سے جانا تو میرے لیے یہ بات باعث حیرت تھی کہ وہاں کے تربیت کار/ ٹرینر یا ایکسپرٹ بھی ہمارے ڈرائیونگ لائسنس جیسے نظام کا حصہ ہیں اور انہیں باقاعدہ ٹرینر یا ایکسپرٹ بننے سے قبل باقاعدہ امتحان سے گزرنا پڑتا ہے تب انہیں ٹریننگ کروانے کا لائیسنس ایک مخصوص مدت کے لئے ملتا ہے اور پھر اس مخصوص وقت کے بعد انہیں اپنے لائسنس کی تجدید بھی کروانی پڑتی ہے۔

شاہ صاحب نے بھی اسی طرز کے ایک نظام کا پورا خاکہ نہ صرف تیار کیا بلکہ حکومتی مشینری سے اسے باقاعدہ منظور بھی کروا لیا ہے۔

مجھے بھی اس ٹریننگ سیشن ”ٹیچر سے ٹرینر تک“ کا شدت سے انتظار تھا اور بالآخر عزیزم رانا رضوان بھائی نے ہمیں اس ٹریننگ سیشن کی ٹیلی فونک دعوت دے بھیجی۔

”ٹیچر سے ٹرینر تک“ صرف چار گھنٹوں کا سیشن نہیں تھا بلکہ یہ کسی بھی ٹرینر کے لئے اس کی پوری زندگی کا لائحہ عمل تھا جس میں پہلی دس سالہ باقاعدہ پلاننگ ازحد ضروری ہے۔ شاہ جی نے بہت تفصیل سے اس پلاننگ کو طے کرنے کی جامع حکمت عملی بتائی۔ ساتھ ہی ساتھ ٹریننگ سے پیسے کیسے کمائے جاتے ہیں ان رازوں سے بھی پردہ اٹھایا۔ اس پروگرام میں ٹرینرز کی تقریباً تمام تر غلط فہمیاں نہ صرف دور کی گئیں بلکہ ٹرینر اور موٹیویشنل سپیکرز کے فرق کو بھی واضح کیا گیا۔ اور بتایا گیا کہ اپنی ذات کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے بعد دوسروں کو کامیابی کے راستے پر کیسے چلانا ہے؟

اس سیشن کی بدولت راقم کی ملاقات عزیزم الطاف عامر سے بھی ہوگئی اور خوش نصیبی دیکھیے کہ ہمیں بیٹھنے کو نشستیں بھی ساتھ ساتھ مل گئیں۔

قاسم علی شاہ صاحب کتاب دوست انسان ہیں بلکہ اگر یوں کہیں کہ وہ کتابوں سے عشق کرتے ہیں تو یہ بے جا نہ ہوگا اور اس کا اس سے بڑا کیا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے ”بدل دو“ جیسے پروگرام کا نہ صرف انعقاد کیا بلکہ شہر شہر جا کر ستر ہزار سے زائد کتب سکولوں، کالجوں اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں میں مفت بانٹیں۔

قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں منعقدہ ان کے ہر ٹریننگ سیشن میں آنے والے احباب کو ایک کتاب ضرور دی جاتی ہے اور کھانے کھائے بغیر کوئی بھی قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن سے واپس جا نہیں سکتا کیونکہ یہ فاؤنڈیشن صرف فاؤنڈیشن نہیں بلکہ شاہ جی کا ڈیرہ بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *