مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح بھارت میں اقلیتوں کے خلاف کچھ شر پسندوں کی طرف سے پر تشدد اور متعصبانہ کارروائیاں ہو رہی ہیں یہ انتہائی شرم اور اذیت ناک عمل ہے۔ بھارت کے اندر بھی ان غیر انسانی حرکات کے خلاف سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بڑے پیمانے پر لوگ اس کے خلاف نہ صرف سراپأ احتجاج ہیں بلکہ آگے بڑھ کر شدت پسندوں کے خلاف مزاحمت بھی کر رہے ہیں اور مظلوم بھارتی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی آواز بننے کے حوالے سے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کہ ایسے ظلم اور زیادتی کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔

بھارت سے باہر بھی انسانی حقوق کے ادارے اور عوام اس کے خلاف اپنا موقف دیتے آ رہے ہیں لیکن ہم پاکستانی چونکہ انسانی حقوق کے حوالے سے زیادہ حساس ہیں اور انسان تو انسان ہم تو کسی جانور کے ساتھ بھی زیادتی ہو جائے تو کئی راتوں تک سو نہیں پاتے۔ اس لیے ہماری آسمان کو چھوتی تکلیف اور بے چینی عین فطری ہے جسے آپ سوشل میڈیا پر دیکھ سکتے ہیں۔

ہم اپنے ملک میں جس طرح مذہبی اقلیتوں سے محبت کرتے، ان پر جان نچھاور کرتے اور انہیں برابر کا شہری مان کر ان کا احترام کرتے ہیں، مودی اور انڈیا کو یہ سب دیکھ کر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی اپنی اقلیتوں کو دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری سمجھا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی جوزف کالونی، گوجرہ، قصور، شانتی نگر یا دیگر متعدد اقلیتی آبادیوں پر حملہ کیا یا انہیں جلایا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی کسی تعلیمی ادارے میں ایک ہی گلاس میں پانی پی لینے کے باعث کسی شارون مسیح کو قتل کیا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی بہاولپور، یوحنا آباد یا کسی بھی اور چرچ پر حملہ یا لاہور میں احمدیہ معبد کو جلایا یا ننکانہ صاحب پر چڑھائی کی ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی ملازمت کا اشتہار اخبار میں دیتے وقت خاکروب کی آسامی کے لئے اقلیت اور بالخصوس مسیحی ہونے کی شرط شائع کی ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی پاکستانی ہندوؤں کی نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے ان سے زبردستی شادیاں کی ہیں؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی گلیاں بازار تو دور پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کسی مسیحی رکن پارلیمنٹ کو چوہڑا کہا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی اپنے نصاب میں دیگر مذاہب کے خلاف نفرت آمیز مواد اپنے بچوں کو پڑھایا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا انڈیا نے کبھی ہماری طرح اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملک کا صدر یا وزیرِ اعظم بنایا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی بین المسالک کسی کو کافر کافر کہا یا واجب القتل قرار دیا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی جائے کار پر اپنے اقلیتی رفقائے کار سے تعصب کیا تو دور کی بات کبھی ایسا سوچا بھی ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی نعمت احمر یا ایوب مسیح کی طرح درجنوں افراد کو بغیر تفتیش اور قانونی کارروائی کے توہین مذہب کا الزام لگا کر ماورائے عدالت قتل کیا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی قصور میں نوجوان سلیم مسیح کو محض ٹیوب ویل میں نہانے اور پانی کو ناپاک کرنے پر تشدد کرکے قتل کیا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی ایک حاملہ خاتون شمع اور اُس کے خاوند سجاد مسیح کو زندہ بھٹہ خشت میں جلایا ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی اقلیتوں کے تہواروں پر انہیں مبارکباد دینے سے گریز کیا یا سوشل میڈیا پر مبارکباد دینے والوں کو کافر قرار دیا یا کبھی بھی اقلیتوں کے مذہبی تہواروں کی آمد سے پہلے ہی مبارکباد دینے کو حرام وغیرہ قرار دینے کی تحریک چلائی ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی سٹیج ڈراموں میں ہندوؤں کے بھگوانوں پر جگتیں لگائیں یا پھر کسی سانولی رنگت والے ادا کار کو مسیحی یا ہندو نام سے پکار کر مزاح کی آڑ میں ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی کوشش کی ہے؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی کوئی ایسی فلم بنائی جس میں کہ پورا معاشرہ نظر نہ آئے اور اقلیتی ناموں کے ساتھ بھی اداکار سرکردہ کردار نہ نبھا رہے ہوں؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

کیا ہم نے کبھی کھیل کے میدانوں میں اقلیتی کھلاڑیوں کی شمولیت کو یقینی بنانے سے غفلت برتی؟ مودی اور انڈیا کو شرم آنی چاہیے۔

مودی اور انڈیا کو شرم دلوانے کے لئے ایسی فہرست اتنی طویل ہے کہ ایک مضمون اس کا احاطہ نہیں کر سکتا اور ویسے بھی جسے شرم آنی ہو چھوٹی سی بات پر بھی آ جاتی ہے لیکن جہاں تک مودی اور انڈیا کا تعلق ہے ان سے شرم کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ یہ برانڈڈ بے شرم ہیں۔ ان میں اگر تھوڑی سی بھی عقل ہوتی تو ہمسائیگی میں موجود آسمان کو چھوتی انسانیت سے کچھ سبق سیکھ لیتے لیکن مودی اور انڈیا کی تو وہ مثال ہے کہ کنویں کے پاس رہ کر بھی پیاسے ہی رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *