ٹرمپ کی بھارت یاترا: کون کیا کچھ حاصل کر سکا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ بھارت بنیادی طور پر بھارت اور امریکہ کے لیے ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت خطہ کی سیاست کے تناظر میں بھی کافی اہمیت رکھتا تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تینوں اہم فریق امریکہ بھارت اور پاکستان کی اس دورہ پر خاص نظر تھی اور ہر فریق اس دورہ کے عملی نتائج کو اپنے مفادات کے ساتھ جوڑ کردیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ بھارت نے عملی طور پر اپنے سیاسی اور سفارتی محاذ پر اپنی ڈپلومیسی کی مدد سے بھارت کی داخلی سیاست کو یہ باور کروانے کی کوشش کی تھی کہ امریکہ کے مفادات بھارت سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ اس خطہ میں کسی اور کے مقابلے میں بھارت کی بالادستی دیکھنے کا خواہش مند ہے۔ بالخصوص نریندر مودی اس نکتہ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے کہ امریکی صدر کے بقول وائٹ ہاؤس میں جو شخص بطور صدر بیٹھا ہے وہ بھارتی دوست ہے اور ہم دونوں دوستوں کو مل کر مسلم انتہا پسندی اور دہشت گردی کے تناظر میں پاکستان سے نمٹنا ہے۔

امریکی صدر کے تناظر میں اس حالیہ دورہ بھارت میں تینوں فریقوں کے اپنے اپنے مقاصد تھے اور ان کو سمجھنا ہوگا۔ اول امریکہ چاہتا تھا کہ وہ اس دورہ سے سعودی عرب کی طرح بھارت سے ایک بڑا دفاعی ماہدہ کرے جس کا فائدہ امریکی معیشت سمیت وہاں موجود امریکیوں کے لیے ایک بڑے روزگار کو پیدا کرنے سے جڑا ہوا تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ وہ بھارت سے تین سے پانچ بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے کرے۔ دوئم وہ چاہتا کہ کسی طریقے سے چین کی ابھرتی ہوئی بڑی معیشت کو کنٹرول یا کم کیا جاسکے اور اس کا ایک فائدہ وہ بھارت کو دینا چاہتا تھا کہ اگر چین میں کوئی بڑا معاشی بحران پیدا ہوتو اس کا براہ راست فائدہ بھارت کو ہائی ٹیک انڈسٹری کی صورت میں ہو اور امریکی صدر کا بھارت میں احمد آباد جانا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ سوئم وہ اس دورہ میں کسی بھی حوالے سے افغان امریکہ معاہدہ کو خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ کوئی ایسی بات وہاں نہ ہو جس کا اثر اس معاہدے کی ناکامی یا تاخیر کی صورت میں نکلے۔

اسی طرح بھارت کی کوشش تھی کہ وہ اس دورہ سے امریکہ سمیت عالمی دنیا کو مقبوضہ کشمیر، اقلیتوں اور داخلی سیاست سے جڑے مسائل کو کسی بھی شکل میں عالمی برادری سے دور رکھے اور اسے محض ہمارا داخلی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کر دے۔ دوئم وہ امریکہ سے بھارت کے لیے غیر مشروط طرز کی حمایت چاہتا تھا اور پاکستان کے تناظر میں بھی وہ چاہتا تھا کہ امریکہ واضح اعلان کرے کہ نہ صرف ہم بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ پاکستان کی اقدامات اور بھارت میں کی جانے والی مداخلتیں ہمیں قبول نہیں۔ جبکہ پاکستان کی پوری کوشش تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت میں بیٹھ کر کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے خطہ کا توازن بھی خراب ہو اور پاکستان کو بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو سفارتی سطح پر یہ پاکستان کی ناکامی اور بھارت کی بڑی جیت ہوگی اور اس کا دباؤ ہم پر پڑے گا۔

اب اگر ہم تینوں اہم فریق امریکہ، بھارت اور پاکستان کے تناظر میں اس دورے کے ملنے والے ابتدائی نتائج کو دیکھیں تو ہمیں سمجھ آئے گی کہ اس دورہ سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کافی ہوم ورک کیا ہوا تھا اور اس ہوم ورک کی بنیاد جذباتی نہیں بلکہ عقلی طور پر امریکی مفادات کو زیادہ سے زیادہ تحفظ دینا تھا۔ امریکی صدر نے اس دورہ سے پاکستا ن اور بھارت دونوں سے بہت کچھ حاصل کیا ہے ایک طرف بھارت سے تین سے چار بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے اس کی بڑی جیت ہے اور امریکہ میں ان معاہدوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

اسی طرح اس نے چین کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال میں بھارت کو مستقبل میں امریکی سرمایہ کاروں کی متوقع سرمایہ کاری کا عندیہ دے کر عملاً بھارت کو یہ تسلی بھی دی ہے کہ وہ ان دفاعی معاہدوں کی صورت میں مستقبل میں بھارت کی معیشت کو بھی فائدہ دے گا۔ اسی طرح سے امریکی صدر نے وہاں بیٹھ کر پاکستان کی سیاسی قیادت کی حمایت اور دوستی کا تاثر دے کر اور دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے مثالی کردار اور پاک امریکہ بہتر تعلقات کی بات کرکے پاکستان کو ایک اچھا اور واضح پیغام دیا ہے جو ہماری سیاسی اور فوجی سفارت کاری یا ڈپلومیسی کے محاذ پر بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان کے بارے میں مثبت بات کرنا امریکی صدر کی مجبوری تھی اور اس کی وجہ افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ ہے جو پاکستان کی حمایت سے جڑا ہوا ہے۔

بھارت کی اس دورے کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ امریکی صدر نے اگرچہ کشمیر کی صورتحال پر ثالثی کی پیش کش کی مگر اس پر ان کے موقف میں بہت زیادہ شدت نہیں تھی اور نہ ہی کوئی بڑا دباؤ دیکھنے کو ملا۔ اسی طرح شہریت بل اور اقلیتوں کے حوالے سے بھی امریکی صدر نے بہت زیادہ بات چیت کرکے بھارت کی حکومت کو کسی بڑی مشکل میں نہیں ڈالا اور اس میں بھارت کی حکومت اپنی حکمت عملی میں کافی حد تک کامیاب ہوئی۔ البتہ اس کی بڑی ناکامی یہ ہوئی کہ وہ پاکستان کے تناظر میں امریکہ سے غیر مشروط حمایت اور پاکستان کی بڑی مخالفت کو تسلیم نہیں کروا سکا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اگرامریکی صدر ایسا کچھ کرتے تو اس کا نتیجہ افغان بحران پر پڑتا اور پاکستان جو کچھ کررہا ہے اس پر پاکستان کا سخت ردعمل بھی آ سکتا تھا۔ یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے اپنے کارڈ درست کھیلے اور امریکہ کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان مخالفت سے گریز کرے۔

اسی طرح سے امریکہ کے صدر کی جانب سے دورہ بھارت میں پاکستان کی سیاسی، فوجی قیادت کی تعریف اور دہشت گردی کے جنگ میں پاکستان کے کردار کو جو سراہا گیا ہے اس کا سخت ردعمل ہمیں بھارت کے مجموعی میڈیا میں نظر آیا اور مودی حکومت پر بڑی تنقید کی گئی کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کی حمایت سے ہمارا موقف کمزور ہوا ہے۔ اسی طرح عالمی میڈیا میں بھی اقلیتوں اور شہریت بل سمیت دہلی کے فساد پر مودی حکومت کو کافی دفاعی پوزیشن پر جانا پڑا اور میڈیا سے گفتگو نہ کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

بھارت کے لیے ایک مشکل یہ بھی ہوئی اس کے بقول مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کا مسئلہ ہے اور اس پر کسی تیسرے فریق کو مداخلت کا حق نہیں۔ لیکن دنیا میں جو کچھ کشمیر کی صورتحال پر رائے عامہ بدل رہی ہے اس نے امریکی صدر کو بھی مجبور کیا کہ وہ اس پر کم ازکم اتنا ضرور کہے کہ ہمیں کشمیر کی صورتحال پر عملا تشویش بھی ہے اور ہم ثالثی چاہتے ہیں، یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔

جہاں تک چین کے مقابلے میں بھارت کی معیشت کو فائدہ پہنچانے کی بات ہے تو اس میں یقینا ٹرمپ حکومت بھارت کو فائدہ دینا چاہتی ہے، مگر یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اگر امریکی سرمایہ کار چین کے مقابلے میں بھارت کا رخ کرتے ہیں تو یہ کام محض بھارت تک ہی محدود نہیں ہوگا اور اس کا فائدہ یقینی طور پر پاکستان بھی اٹھا سکتا ہے۔ کیونکہ امریکی سرمایہ کار ٹرمپ کا محتاج نہیں وہ اپنا مفاد دیکھے گا اور پاکستان میں اسے بھارت کے مقابلے میں لیبر اور دیگرمراعات سستی ملے گا۔

دوسری بات اہم ہے کہ سرمایہ کار کے سامنے سرمایہ کاری کی بڑی وجہ کسی بھی ملک میں پانچ باتوں کو توجہ دی جاتی ہے جن میں امن وآمان کی صورتحال، انتظامی ڈھانچہ، بجلی، سستی لیبراور منافع کی صورت میں رقم کی آسان ترسیل ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستان بدلا ہوا پاکستان ہے اور اگر ہم نے اپنے کارڈ عالمی سرمایہ کاروں کے حوالے سے بہتر طور پر کھیلے اور عالمی دنیا یا سرمایہ کاروں میں جو پاکستان کے بارے میں ماضی کے خدشات ہیں ان کو درست اور موثر انداز میں پیش کرکے ایک مثبت تصویر پیش کی تو یقیناً عالمی سرمایہ کار پاکستان کو نظر انداز نہیں کریں گے۔

ویسے بھی دہشت گردی کے خاتمہ اور پرامن پاکستان کی پزیرائی اب عالمی دنیا میں موجود ہے اور اس کا فائدہ معاشی طور مستقبل میں پاکستان اٹھاسکتا ہے۔ امریکی صدر نے کمال ہوشیاری سے اپنے اس دورے سے اپنا انتخابی ایجنڈا بھی ترتیب دے دیا ہے۔ اول وہ دفاعی معاہدوں کو بڑی کامیابی سے پیش کرکے امریکہ میں نئے روزگار کو پیدا کرنا، دوئم وہ بھارت کی معاشی حمایت سے امریکہ میں موجود بھارتی ووٹرز کی حمایت کے حصول کو یقینی بنانا اور سوئم وہ افغانستان کے بحران کا حل اور امریکی فوجیوں کا بڑا انخلا اور دہشت گردی کے خاتمہ میں پاکستان کے مثبت کردار کو دکھا کر امریکی ووٹروں کی حمایت چاہتا ہے، اس میں کافی حد تک وہ کامیاب بھی ہوا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *