ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی مشترکہ کتاب ٹو کینڈلز آف پیس پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی کتاب ”ٹو کینڈلز آف پیس“ پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئے انداز میں لکھی گئی۔

یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے جو دو باشعور، انسان دوست اور حساس دوستوں نے ایک دوسرے کو لکھے ہیں۔ یہ ان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ جو مختلف مسائل پر انتہاٰئی دیانت داری سے کیا گیا ہے۔ موضوعات اگر چہ مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ اور اس انداز سے بیان کیے گے ہیں کہ ایک موضوع دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود، جڑا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ہر خط کے اختتام پر قاری کے دل میں اگلا خط پڑھنے کی جستجو پیدا ہوتی ہے۔ اس کتاب میں وہ بہت سے مشکل موضوعات، جن پر عام طو پر بات کرنا آسان نہیں ہوتا، بڑے نرم اور گداز انداز میں زیر بحث لائے گئے ہیں۔ جس سے قاری کی سمجھ میں بات بھی آ جاتی ہے اور کسی کے جذبات بھی مجروح نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر خالد سہیل سے میری ملاقات ٹورانٹو میں آج سے تین سال پہلے ایک ادبی محفل میں ہوئی۔ محفل کے اختتام پر ہم دونوں کو کھانے کے دوران ایک دوسرے سے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ نہ صرف وہ اسی خیبر میڈیکل کالج کے گریجویٹ ہیں جہاں سے میں نے بھی اپنی ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے۔ بلکہ میرے آبائی اور پیدائشی شہر پشاور میں وہ اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکے ہیں۔ اور وہاں کے کلچر سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔

مجھے ڈاکٹر سہیل کی شخصیت میں ایک سادہ، درویش اورانسان دوست انسان نظر آیا۔ اتنی کتابوں کا مصنف، ایک پروفیشنل، اتنے سارے دوستوں کا دوست۔ لیکن جس سے بھے ملے، اسی کے قد کے حساب سے اپنے آپ کو سامنے لائے تاکہ کسی کو اپنا آپ ان کے سامنے چھوٹا محسوس نہ ہو۔ یہ ایک انتہائی مطمٔین، اور دانا انسان کی نشانی ہے۔ انسان جتنا جتنا علم، دانائی اور تجربہ میں آگے بڑھتا جاتا ہے، اتنا ہی انکساری اختیار کرتا ہے۔ میری انتہائی کوشش رہی ہے کہ جب بھی مجھے موقع ملے میں ان کے سرکل میں بیٹھوں اور ان سے کچھ سیکھوں۔ اور میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرا شمار بھی ان کے دوستوں میں ہوتا ہے۔

ڈاکٹر کامران احمد سے میری ملاقات زیادہ پرانی نہیں۔ ان سے، اور ان کی انتہائی شائستہ بیگم، افشیں سے میری ملاقات کچھ ماہ پہلے ایک ادبی محفل میں ہوئی۔ کامران احمد کی شخصیت میں انسان کو ایک روحانیت محسوس ہوتی ہے۔ اور ان کے اندر ایک صوفی منش انسان دکھائی دیتا ہے۔ مجھے خود بھی تصوف اور طریقت سے کچھ حد تک لگاؤ ہے۔ ان سے مل کر معلوم ہوا کہ انہوں نے اس سلسلے میں کافی کچھ لکھا ہے۔ ان کی ایک کتاب

Tareeqat: 7 elements of living Sufism in Pakistan

بھی چھپ چکی ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میری ان سے ملاقات ہوئی۔ اور انہوں نے اپنی کتاب ”Two candles of peace“ کو اشاعت سے پہلے پڑھنے اور اس پر اظہار خیال کرنے کا موقع دیا۔

اس کتاب کے پڑھنے سے نہ صرف یہ کہ مجھے ان دونوں مصنفین کی ذاتی زندگی اور ان کے کام سے آگاہی حاصل ہوئی بلکہ ان کے اپنے تجربات اور علم کی روشنی میں آپس کے تبادلۂ خیالات سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔

یہ کتاب آج کے دور کی ضرورت ہے۔ جب عام انسان ایک ذہنی تناؤ اور کشمکش کا شکار ہے۔ جب مذہبی اور سیاسی بنیاد پرستی اپنے عروج پر ہے۔ ایسی کتاب ایسے وقت میں ہم سب کی رہنمآئی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

دونوں مصنفین پیشے کے لحاظ سے انسانی نفسیات میں مہارت رکھتے ہیں۔ اور دونوں نے آج کل کی شدت اور تشدد پسندی کا شکار ہونے والے انسانوں کو کافی قریب سے دیکھا ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے انداز میں انسانی نفسیات، خواہشات اور مشکلات کا تجزیہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر بہترین طریقے سے کیا ہے۔

یہ کتاب مذہب اور روحانی اقدار کے حوالے سے ایک دل چسپ مکالمہ ہے۔ اور خاص طور پر ان پڑھنے والوں کے لیئے مفید ثابت ہوگی جو روحانیت کے راستے پر چلنا چاہتے ہیں اور جن کے ذہنوں میں مذہب، روحانیت، انسان دوستی اور آج کے متشدد دنیاوی حالات کے بارے میں سوالات ہیں۔

خطوط کے ذریعے ایک مکالمے کے انداز میں لکھنے کا تجربہ بہت پر اثر اور دلچسپ ہے۔ اس انداز میں لکھی گئی ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الربا کی کتاب ”درویشوں کا ڈیرا“ بھی مجھے پڑھنے کا موقع ملا۔ جس کی سادہ اور روزمرہ کی زبان میں کی گئی بات کی تاثیر کا اپنا مزہ ہے۔ اور یہی اس کتاب کی خوبی ہے۔ یہ خطوط قاری کی دلچسپی آخر تک برقرار رکھتے ہیں۔ ہر خط کے بعد یہ تجسس بڑھتا چلا جاتا ہے کہ اس کے جواب میں اگلے خط میں کیا کہا گیا ہے۔

میں ان دونوں مصنفین کو مبارکباد دیتی ہوں۔ اور ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ ہم قارئین کو انہوں نے اس کتاب کی شکل میں ایک بہترین تحفہ دیا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ وہ مستقبل میں اس طرح کی مزید کتابوں سے ہمیں نوازیں گے
یہ حسن اتفاق ہے کہ اسلام آباد میں 4 اپریل 2020 کو اس کتاب کی رونمائی کے وقت میں بھی اسلام آباد میں ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply