کاسنی پھول

گاڑی پارکنگ میں پارک کر کے میں نے ہسپتال کی طرف جانے والا اندرونی راستہ (pedway) لیا۔ آج خوش قسمتی سے دوسری منزل پر پارکنگ مل گئی تھی۔ میں پیڈوے میں داخل ہوئی تو مشرقی جانب کے بڑے بڑے شفاف شیشوں سے بنی دیوار میں سے چنتی ہوئی نرم دھوپ نے میرے وجود کو چھوا۔ میں نے اپنے قدم ارادتا آہستہ کر لئے۔ دھوپ کی طرف اپنا چہرہ موڑ لیا۔ اس کی نرم تمازت کو اپنے وجود میں داخل ہونے

Read more

کیا آپ جانتے ہیں کہ آٹوفیجی کیا ہے؟

طبی سائنس مسلسل انسانی صحت کے راز افشا کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا انسانی جسم کی کارکردگی کے راز ہم پر کھلتے جاتے ہیں۔ جدید ریسرچ کے مطابق جہاں خوراک انسانی جسم کی تعمیر کے لئے ضروری ہے وہاں خوراک ہی کئی بیماریوں کی جڑ بھی ہے۔ ہمارے جسم کا نظام انتہائی باریکی اور نفاست سے ترتیب دیا گیا ہے۔ اور اس کے اپنے اندر ہی تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ لیکن اس

Read more

سائنس، سائکالوجی اور مذہب: تبصرہ

ڈاکٹر خالد سہیل ایک مہینہ پاکستان میں رہ کر واپس کینیڈا آچکے ہیں۔ آج کل پاکستان اور کینیڈا کے دن اور رات کے اوقات کے اختلاف سے پیدا ہونے والے جسمانی اثرات یعنی جیٹ لیگ سے نکلنے میں مصروف ہیں۔ ہم کینیڈا میں رہنے والے دوستوں نے ان کی کمی کو اس دوران بہت محسوس کیا۔ کچھ لوگوں کو شاید محبتیں بانٹنے کے لئے پیدا کیا گیا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ سب کے اپنے ہوتے ہیں۔ بہت سارے لوگ ان

Read more

ریویو کتاب: “One and one make eleven "

کچھ دن قبل خالد سہیل نے ایک ملاقات میں اپنے زمبیل نما، مخصوص کالے رنگ کے بیگ پیک میں سے پہلے کی طرح ایک کتاب نکالی۔ کتاب کی چمک کو میرے سینسز نے فوراً جانچ لیا۔ کہ ایک نئی کتاب ہے۔ انہوں نے اس اچھے خاصے حجم والی نئی تخلیق کا ٹائٹل پیج اپنی طرف رکھتے ہوئے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا۔ اور میں ان کے کچھ بولنے سے پہلے بول پڑی۔ ایک اور کتاب؟ اور انہوں

Read more

شیریں کا فرہاد۔ شاہد اختر

پچھلے دنوں شیریں کا پیغام آیا کہ وہ شاہد اختر صاحب کی سرپرائز سالگرہ منانا چاہتی ہیں۔ اور دوستوں کو دعوت دینا چاہتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ شاہد صاحب کی یہ 80 ویں سالگرہ ہے۔ میں کافی حیران ہوئی۔ کیونکہ شاہد اور شیریں کو خدا نظر بد سے بچائے، یہ ایک صدا بہار جوڑا ہے۔ اور شاہد صاحب کی عمر میرے اندازے کے مطابق 70 سے زیادہ نہیں تھی۔ لہذا میں نے اپنے ذہن میں انہیں ریورس

Read more

پہلا جشن آزادی اور بابڑہ کی لال داستان

12 اگست کا دن، 1948 کا سال، پاکستان کے وجود میں آنے کی سالگرہ میں دو دن باقی، جشن آزادی کی تیاریاں۔ انگریزوں کی سالہا سال کی غلامی سے ہندوستان آزاد کروانے کے بعد مسلمانوں کو پاکستان نصیب ہوا تھا۔ خوشی کا موقع تھا۔ ایسے وقت میں ہندوستان کو انگریز کے ہاتھوں سے نکالنے والے، آزادی کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے، اپنی تن و من اور اپنے لوگوں کی خون کی قربانیاں دینے والے چند

Read more

میرے شہر کے دانشور

آج میں بہت تھک گئی تھی۔ آج کی تھکن دوسرے دنوں کی نسبت کچھ غیرمعمولی تھی۔ جسمانی سے زیادہ دماغی تھکن۔ شاید اس کی ایک وجہ اس 28 سالہ نوجوان کے کینسر کا کیس تھا جسے رپورٹ کرتے ہوئے میں اپنے احساسات پر کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی۔ دروازے سے اندر داخل ہوئی تو خود کو ایک بڑے سے دائرے کی طرح گول لیکن اندھیرے کمرے میں پایا۔ اندھیرا۔ اور خاموشی۔ مجھے گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔ میں نے

Read more

شہر میں گاؤں کے پرندے

خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں دروازے کو اوقات میں لانے کے لئے میں دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں تھامے ہوئے اک روشنی کے ہاتھ کو ہر شب پانی پہ قدم رکھ کے میں اس پار گیا ہوں اسحاق وردگ کی کتاب ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ شہر میں جب گاؤں کے پرندے آتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنی سادگی، خوبصورتی اور رنگ بھی لے آتے

Read more

” نیمگڑی خوبونہ“ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے ناول آدھے ادھورے خواب کا پشتو ترجمہ

”میں سوچ رہی تھی کہ چیزوں کی خوبصورتی، دلکشی اور قدرو قیمت ہماری ذات کے حوالوں سے بنتی ہے۔“ ” نیمگڑی خوبونہ“ اور میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔ جب میں نے ”نیمگڑی خوبونہ“ جو کہ جناب شاہد صدیقی صاحب کے ناول آدھے ادھورے خواب کا پشتو ترجمہ ہے، پڑھنی شروع کی۔ جب لاہور میں شاہد صدیقی صاحب نے مجھے اپنی کتابوں کا تحفہ دیا تو ان میں ایک کتاب ان کے ناول ”آدھے ادھورے خواب“ کا پشتو زبان میں

Read more

ہمارا طرز مسیحائی کیسا ہے؟

آج دوپہر سے ہی وہ دل پر بوجھ ہونے کی شکایت کر رہا تھا۔ اس نے دوپہر کے کھانے کو بھی ہاتھ نہیں لگایا۔ اور آ کر بستر پر لیٹ گیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد اچانک اٹھا اور غسل خانے کی طرف دوڑا۔ مشکل سے ہی پہنچ پایا جب اسے پورے زور سے الٹی آئی۔ اس کا بیٹا اور بیوی اس کے پیچھے دوڑے۔ اور اسے سہارا دینے لگے۔ پورا سنک خون کا تالاب بن چکا تھا۔ جس میں

Read more

” خضر کی کہانی“ اور پاکستان کا سفر

بہت انتظار کے بعد آخر کار پاکستان کے سفر کا موقع ملا تو جیسے ایک دیرینہ خواہش پوری ہوئی۔ مارچ کے آخر میں اسی سفر کی ساری تیاریاں مکمل کر کے جب جانے کا وقت قریب آیا تھا تو کرونا کی وبا کی وجہ سے ساری پروازیں منسوخ ہو گئی تھیں اور یوں میرا سفر بھی۔ میں پچھلے کئی سالوں سے کینیڈا میں مقیم ہوں لیکن اپنے پیاروں کی محبت اور اپنی مٹی کی کشش مجھے ہر سال جانے پر

Read more

ادبی محبت نامے

آج کل جب کرونا کی وجہ سے زندگی کی بھاگ دوڑ کچھ کم ہو چلی ہے۔ اور جہاں ایسے بہت سارے کام جو ہم کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ وہاں یہ بہترین موقع بھی ہے ایسے کام کرنے کا جو ہم کرنا چاہتے ہیں لیکن وقت ہاتھ نہیں لگتا۔ ذاتی طور پر میرے لئے یہ اپنی پسندیدہ کتابیں پڑھنے کا بہترین موقع ہے۔ ایک کتاب جو میں نے انہی دنوں میں پڑھی۔ وہ ڈاکٹر خالد سہیل

Read more

کیا زندگی کو ہم نے مشکل نہیں بنایا ہے

جب سے کرونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے۔ زندگی جیسے سہم سی گئی ہے۔ ایک فکر اور خاموشی کا احساس پورے ماحول کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس احساس میں کچھ اضافہ آج کل میڈیا پر صبح و شام وبا کی خبروں اور اس سے متاثر ہونے والے انسانوں کی بے بسی سے بھی ہوتا ہے۔ چند دن پہلے مجھے اپنے ایک بہت ہی پیارے استاد جناب قاضی یوسف صاحب کی اس دنیا سے رخصت ہونے کی خبر ملی۔

Read more

کیا غریبوں کو دیکھ کر آپ اجتماعی احساسِ گناہ کا شکار ہو جاتے ہیں؟

آج کیون کارٹر کی وہ یادگار تصویر میری نظر سے گزری جس کو پولٹزر پرائز ملا تھا اور جو کیون کی شہرت کی وجہ بنی۔ کیون کارٹر ایک سفید فارم ساؤتھ افریکن فوٹو جرنلسٹ تھا۔ جو جوہانس برگ میں پیدا ہوا۔ وہ سفید فام لوگوں کے درمیان بڑا ہوا۔ لیکن وہ ہمیشہ سیاہ فام لوگوں پر ظلم ہوتے دیکھ کر بے چین ہو جاتا تھا۔

مارچ 1993 میں کارٹر کو سوڈان میں قحط سے متاثرہ علاقے آیود میں یو این کے ایک گروپ، جو کہ قحط زدہ علاقے میں خوراک پہنچانے کی مہم پر جا رہاتھا، کے ساتھ جانے کا اور وہاں کے حالات کو فوٹوگرافی کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا موقع ملا۔ وہاں ایک قحط زدہ علاقے سے گزرتے ہوئے اسے ایک چھوٹا بچہ نظر آیا جو بھوک کے مارے نا چل سکنے کی وجہ سے زمین پر منہ کے بل سر رکھ کر گرا پڑا تھا اور قریب میں ہی ایک گدھ کچھ فاصلے پر بیٹھا اس بچے کے مرنے اور اس پر حملہ آور ہونے کے موقع کے انتظار میں تھا۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی مشترکہ کتاب ٹو کینڈلز آف پیس پر تبصرہ

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی کتاب ”ٹو کینڈلز آف پیس“ پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نئے انداز میں لکھی گئی۔ یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے جو دو باشعور، انسان دوست اور حساس دوستوں نے ایک دوسرے کو لکھے ہیں۔ یہ ان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ جو مختلف مسائل پر انتہاٰئی دیانت داری سے کیا گیا ہے۔ موضوعات اگر چہ مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ اور اس انداز سے بیان کیے

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی مشترکہ کتاب: Two Candles Of Peace

ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر کامران احمد کی کتاب "ٹو کینڈلز آف پیس” پڑھنے کا موقع ملا۔ ایک نیؑےانداز میں لکھی گئی یہ کتاب خطوط کا مجموعہ ہے جو دو باشعور، انسان دوست اور حساس دوستوں نے ایک دوسرے کو لکھے ھیں۔ یہ ان کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔ جو مختلف مسایؑل پر انتہائی دیانت داری سے کیا گیا ہے۔ موضوعات اگرچہ مختلف ہیں لیکن ان میں ایک ربط اور تعلق ہے۔ اور اس انداز سے بیان کیے گے ھیں

Read more