سندھ کی ”اُنیس عورتیں“ اور تاریخ کا مسخ شدہ چہرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھ پر اہلِ عرب کے حملوں کی تاریخ کا ایک رُخ جو عام قاری کو دکھایا جاتا ہے وہ دیبل کے بحری قذاقوں کا عربوں کا جہاز لُوٹنے اور عربی خواتین کو قید کر کے یر غمال بنانے سے منسلک رہا ہے۔ اس پر کئی لکھاریوں نے لکھا اور سترہ سالہ محمد بن قاسم کے ساتھ ساتھ بنو امیہ کے سفاک حکمران حجاج بن یُوسف کو بھی ہیرو کے روپ میں دکھایا گیا ہے۔

ہر تصویر کے دو رُخ ہوتے ہیں مگر کچھ تصویروں کے تو کئی رُخ اور کئی کہانیاں ہوتی ہیں کہ جن کی تہ تک پہنچنا اُتنا ہی مشکل ہوتا ہے جتنا کہ ریشم کے دھاگوں کو سلجھانا۔

سندھی زبان میں رسول میمن کا لکھا گیا ناول ”انویھ عورتوں“ میں بھی سندھ کی تاریخ کا دوسرا رُخ دکھایا گیا ہے۔

راجہ ڈاہر اسلام کے عٙلٙم برداروں کی نظر میں ملعون ہو سکتا ہے لیکن تاریخ کو مسخ کرنے والے یہ بات کیوں فراموش کر گئے کہ اسلام کا بول بالا کرنے والوں نے برصغیر کے املاک کے ساتھ ساتھ یہاں کی عزتوں کو بھی پامال کیا ہے۔

ناول میں شام کے بحری بیڑے کا ذکر کیا گیا ہے جو سندھ پہ حملہ کرنے کے بعد مالِ غنیمت کے طور پہ ہیرے جواہرات کے ساتھ ساتھ خوب رُو اُنیس داسیوں کو بھی قید کر کے لے جاتے ہیں۔ اِن اُنیس عورتوں کی تقسیم کا مرحلہ تین شہزادوں کے درمیان نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔

ناول کا ہیرو ”کہیداس“ ایک عام سا روایتی کردار سندھ کا پُر امن شہری ہے۔ شام کی فوج کی جانب سے قید کیے گئے غلاموں میں سے ایک کہیداس بھی ہے جس کی زندگی کا مقصد اپنی محبوبہ ”ہارانسی“ کو حاصل کرنا ہے۔ اُنیس یرغمال شدہ عورتوں میں ہی اُس کی محبوبہ ”ہارانسی“ بھی ہے جسے وہ اپنی عقل اور فہم کے بل بوتے پہ رِہا کروانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

نسیم حجازی کے پاپولر فکشن کو حقیقت سمجھنے والے ”اُنیس عورتیں“ کو تاریخ کے متضاد بیانیے کے طور پہ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ جس طرح غالب نے ”مہرِ نیم روز“ میں مغلیہ حکمرانوں کو زوال کی وجوہ بتائی تھیں اسی طرح اِس مختصر ناول سے فکشن ہی کی زبان میں یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سندھ میں اسلام کا عٙلم بلند کرنے والوں نے لُوٹ کھسوٹ میں برصغیر کی اپسراوں کو بھی اسیر کیا تھا۔ جو بھی ہو عرب کی ناہید کی آواز پہ لبیک کہنے والوں نے سندھ کے کنارے آباد اُن کلیوں کو کیسے مسلا؟ تاریخ کا یہ پہلو کس لیے چھپایا گیا اور اس کا حساب اب تک تاریخ نے بھی خود کو دہرا کے کیوں نہ چکایا؟ ایسے کئی سوال ہیں جو اس مختصر ناول میں اُٹھائے گئے ہیں۔

ناول کا اردو زبان میں ترجمہ نیاز ندیم نے کیا ہے۔
کتاب: اُنیس عورتیں
ناول نگار: رسول میمن
مترجم: نیاز ندیم
صفحات: 112

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
حفصہ ملک کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *