کرونا نہیں کتوں کا خوف۔ کراچی کا ہر گھر قرنطینہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتا انسان کو کاٹے تو خبر نہیں ”، انسان کتے کو کاٹے تو خبر ہے۔ اس مقولہ پر ہمارا میڈیا اور حکمران خوب عمل پیرا ہیں اور لمبی تان کر سو رہے ہیں“ کتے نے انسان کو کاٹ لیا ”بھئی یہ بھی کوئی خبر ہے۔

بھونکتے، غرارتے، خونخوار کتوں کے حملوں کی خبروں میں گزشتہ سال سے اضافہ ہوا ہے ”اور اس کی وجہ ہے کتا مار مہم کا پر پابندی۔

پابندی کا فیصلہ چاہے اسمبلی کا ہو، کابینہ کا ہو، کسی فرد واحد کا ہو یا کسی اعلی شخصیت کے بچوں کے شوق کی خاطر پابندی لگائی گئی ہو۔ اس فیصلہ کو عوامی حمایت و تائید حاصل نہیں ہوسکتی

کتا مار مہم پر پابندی سے قبل کیا کیا کسی ایسے متاثرہ خاندان کے فرد کی رائے شامل کی گئی جس کا لخت جگرکتوں کی بھینٹ چڑھا ہو ”

فیصلہ سازوں کا کبھی کوئی عزیز سگ زدگی کا شکار ہوا ہے؟ ”جواب نہیں میں ملتا ہے تو پھر انہیں درد کیسے محسوس ہوگا؟

امیر وں کے شوق نرالے ہیں، ان کے کتوں کی خوراک بھی بیرون ملک سے آتی ہے۔ گلی کے آوارہ کتے غریبوں کے بچوں کی ہی بوٹیاں نوچتے ہیں۔ کہتے ہیں کتوں کی ویکسینیشن کی جارہی ہے تاکہ کاٹنے پر زہر نہ پھیلے ”لیکن کتا کاٹے کا ضرور!

کیا کتوں کی ویکسینیشن اس مسئلہ کا حقیقی حل ہے؟ ویکسی نیشن کے بعد کتاکاٹنا چھوڑ دیں گے؟ بھونکنا چھوڑ دیں گے؟ بھونکتے کتوں سے خواتین، بچے، بوڑھے جان بچا کر بھاگتے ہیں ”گرتے، پڑتے ہیں“ کتا نہ بھی کاٹے پھر بھی زخمی ہوتے ہیں۔

فیصل آباد میں ایک بچی کتوں سے جان بچا کر بھاگی اور ٹریکٹر ٹرالی کے نیچے آکر جاں بحق ہوگئی۔ سرگودھا میں اسکول جانے والے بہن بھائیوں پر کتوں کے غول نے حملہ کردیا ”بہنوں کو بچاتے ہوئے بھائی کتوں کا شکار ہوگیا۔ لاڑکانہ میں ماں کی گود میں بچے نے تڑپ تڑپ کر جان دے دی۔ سکھر میں ویکسین نہ ملنے پر بچہ دم توڑ گیا۔

سندھ کا کوئی شہر کوئی چپہ ایسا نہیں جہاں سے یہ دلخراش واقعات رپورٹ نہ ہوتے ہوں۔ یہ صرف تین چار دن کے واقعات ہیں، ایسے درجنوں معصوم اپنی جان سے چلے گئے ہیں۔

کراچی جیسے شہر میں لوگ کرونا سے نہیں کتوں کے خوف سے گھروں میں محصور ہیں۔ ہر گھر قرنطینہ بنا ہوا ہے ”، کرونا وائرس کا شکار تو 14 دن بعد قرنطینہ سے نکل آئے گا لیکن کتوں کے خوف نے گھر سے نکلنا مشکل کردیاہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید انوار علی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply