ہوٹل کا کمرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صاحب نے اسے اشارے سے اپنے پاس بلا یا۔ ہوٹل کے وسیع ہال کے سٹیج پرمحکمے کے مختلف افراد اپنے خیالات کا اظہار کر چکے تھے۔ پروگرام ختم ہونے والا تھا۔

”یہ چابی لو! میری گاڑی میں پڑا سامان اور بریف کیس کمرے میں پہنچا دو۔ “

اس کے صاحب نے آج پھر ہوٹل میں ہی ٹھہرنا تھا۔ ان کی بہت سی خفیہ سرگرمیوں کا وہ گواہ تھا۔ صاحب اکثر ضمنی انتظامات کے لئے ہوٹل میں اسے ہی بھیجتا تھا۔

گل محمد سارا دن دفتر کے کاموں میں الجھا رہتا۔ شام کو صاحب کی الٹی سیدھی فرمائشیں پوری کرناپڑتی تھیں۔ صاحب اور اس کی عمر تقریباً ایک جیسی ہی تھی اور سپریٹنڈنٹ تو اس سے بھی بڑا۔ کلرک تو شاید پیدا ہوتے ہی اوپر نیچے کرنا جانتے ہیں۔ سپریٹنڈنٹ نے اپنی عمر اسی وقت کم لکھوا لی تھی۔ تین سال اوپرجاکر وہ اسی ماہ ریٹائر ہو نے والا تھا۔ وہ بھی اکثر اسے ہی ہوٹل کی بکنگ کے لئے بھیجتا تھا۔ وہ دونوں تو بالکل ٹھیک تھے۔

کمروں کی سج دھج اور شہوت انگیز فضا اسے وقتی طور پر بڑھکا دیتی۔ ان کی بچی کھچی خوارکیں اور کشتے بھی وہ کھا چکا تھا۔ کئی بار صاحب نے اسے قیمتی ادویات بھی دیں لیکن زمیں جنبد، نہ جنبدگل محمد، گر چہ گل محمد خود کو ٹھیک ہی محسوس کرتا تھا۔ اس عمر میں انسان کچھ ضعف اعصاب و اعضائے رئیسہ کا شکار ہوتا ہے لیکن وہ کون سا ان کی طرح فٹ بال کی گراؤنڈ میں کھیلتا تھا۔ وہ توصرف اپنے گھر میں ہی تفریحات تک محدود تھا۔

جوانی میں انسان میں طاقت زیادہ ہوتی ہے، خواہشات بھی اور اس کے ساتھ اس میں قوت مقاومت بھی اتنی ہی قوی ہوتی ہے اسی لئے خواہشات کے سامنے بند باندھنا بھی آسان ہو تا ہے۔ بڑھاپے میں جوش کم ہو جاتا ہے اس کے ساتھ قوت مقاومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے، صبر و ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس عمر میں فسق و فجور بڑھ جاتا ہے۔ وہ ان راستوں پر نہیں چلنا چاہتا تھا۔ وہ بوڑھا ہوتا جارہا تھا لیکن حسرتیں جواں تھیں۔

تین بیٹیاں اور دو بیٹے، جنہوں نے اسے پورن اوتار سمجھ رکھا تھا، اس کی بہت عزت کرتے۔ اس کی موجودگی میں خاموش بیٹھے رہتے بھاگ بھاگ کر اس کے احکامات بجا لاتے۔ اس پیار اور مرتبہ نے اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا تھا۔ بچے اپنی ماں کے ساتھ گھل مل کر رہتے، ہنستے کھیلتے لیکن اسے دیکھتے ہی خاموش ہوجاتے بالکل ایسے جیسے مقدس دیوتا کے سامنے سر جھکا کے بیٹھا جاتا ہے۔ وہ پتھر نہیں تھا، انسان تھا۔ جذبات اور خواہشات کا زندہ مجسمہ۔

گھرکے دو کمرے اور سات افراد۔ چھوٹا سا صحن۔ یہ گھر اس نے بڑے شوق سے بنایا تھا۔ یہ گھر اس کی کل کائنات تھی لیکن اب لگتا تھا کہ یہ کائنات اس کے لئے نہیں۔ اگر چہ اس کی عمر ڈھل چکی تھی لیکن وہ اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوا تھا کہ سب خواہشات ختم ہو جاتیں۔ اکثر وہ خود کو چھو کر دیکھتا اس کے بازو اور ٹانگوں کے عضلات آہنی تو نہیں رہے تھے لیکن اب بھی وہ ایسے پھڑکتے تھے جیسے سوکھتے ہوئے تالاب میں مچھلیاں۔

اس کی بیگم مانی بھی اس سے دور دور رہتی تھی۔ رات کو بچیوں کے کمرے میں ساری ساری را ت ان کے ساتھ باتیں کرتی رہتی۔ کبھی کبھی رات دیر گئے اسے موقع مل جاتا تو وہ اپنی بیوی کے پاس جا کر اسے باہر بلا لیتا۔ سردیوں کی ٹھنڈی ٹھار راتیں اور کھلا آسمان محبت کی رچنا رچانے کا بہترین ماحول۔ لیکن بڑھاپا اور بیگم کا عدم تعاون کشتوں، دوائیوں اور خوراکوں پر حاوی ہو جاتا۔

نتیجہ ناکامی و مایوسی اور بیگم کے طعنے۔ اب اس کی بیوی نے قریب آنا چھوڑ ہی دیا تھا۔

غریب کو اکلوتی تفریح کرنے کا موقع بھی نہ ملے، اس کی یہ راحت بھی چھن جائے تو وہ اپنی اداسی کو کیسے بہلائے۔ ایسے حالات میں زندگی بشر کی بیمار کی رات کے مترادف ہوجاتی ہے۔ رات کو سکون کے حصول کی کوشش باعث شرمند گی ہو تو دن بھر ندامت سے سراٹھایا نہیں جاتا۔ میاں بیوی کو عمر کے ہر حصے میں ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ بیوی جو تیس سال تک پل پل اس کے پاس رہی جس کے جسم کے تمام نشیب و فراز، جس کے ہر حصے، ہر سر دو گرم سے اس کی آشنائی ہو، وہ اس طرح دور چلی جائے تو کائنات سونی سونی لگتی ہے۔ غمخوار ہی تڑپانا شروع کر دے تو دل بھی نا امید ہو جاتا ہے۔ اس عمر میں اگر دل ساتھ چھوڑجائے تو باقی بچتا کیا ہے۔

اس نے سوچنا شروع کر دیا کہ قبول کر لے وہ بوڑھا ہو چکا ہے اور اپنے جذبات کو دفن کردے۔ بس نمازیں پڑھے اور اللہ اللہ کرے۔ اس کے اندر یہ اتھل پتھل مچی ہوئی تھی۔ دو کم ساٹھ کوئی عمر تو نہیں ہوتی جس میں انسان تجرد کی زندگی گزارنا شروع کر دے۔ اور اس کا حکم تو کتاب مقدس میں کہیں علامتاً بھی نہیں ملتا۔

پھر اس کوہوٹل کے کمرے، ان کا شہوت انگیز ماحول اور صاحب کی رنگ رلیاں یاد آ گئیں۔ ما حول اور اردگرد کی فضا انسانی جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی ان کمروں میں جاتا تو یہ سب اس کے جذبات کو بھی برانگیختہ کر دیتے تھے، لیکن وہ اتنے مہنگے ہو ٹل کے اخراجات کیسے برداشت کرے گا؟ اور پھر اگر کسی کو پتا چل گیا تو؟

اس کا سالانہ بونس آنے والا تھا۔ اور تنخواہ میں جو اضافہ ہوا تھا وہ بقایا جات بھی ملنا تھے۔ سو اس نے ایک کوشش کرنے کی ٹھانی۔ زندگی میں پہلی بار اس نے بازار سے گولیاں بھی خرید لیں۔

ساتھ والے شہر میں بچی کا رشتہ دیکھنے کا بہانہ کر کے وہ بیگم کو لے کرہوٹل میں آ گیا۔ وہ حیران تھی۔ مانی کے لئے یہ سب کچھ انوکھا اور نیا تھا۔ وہ اور اس کی بیوی ہوٹل کی پر رونق لابی میں دھیمے دھیمے سروں کی موسیقی میں کھو گئے۔ سر اور ساز کی مخملی ڈوریاں ان کو کھینچ کر دور کہیں ویرانے میں لے گئیں جہاں وہ دونوں اکیلے تھے۔ چلتے چلتے وہ اس سے ٹکرا گئی تو پھر اسے ہوش آیا۔ وہ سیدھے کمرے میں پہنچے۔ وینائیل ٹائیل سے سجا سفید شفاف فرش، انتہائی نفیس گدے دار بستر، سفید چادروں کا نور پورے کمرے میں بکھرا ہوا تھا۔ فضا میں خوشبو اور فرحت ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔

مانی حیران پریشان کمرے میں موجود فرنیچر اور دوسری چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔ واش روم کا دروازہ کھولا تو قد آدم آئینوں میں خود کو دیکھ کر شرما گئی۔

سائیڈٹیبل پر پڑی پھل کی ٹوکری سے سیب اور چھری نکال کر اس نے مانی کے سامنے رکھی۔

” کاٹو۔ اور یہ انگور بھی لو۔ “

”اگر چائے پینا چاہتی ہو تو اس طرف میزپربرقی کیتلی اور سارا سامان پڑا ہوا ہے، بنا لو۔ “

لیکن پھر کچھ سوچ کر خود ہی آگے بڑھ گیا۔

مانی کہنے لگی ”نہیں، چائے ابھی نہیں۔ “

”ٹھیک ہے، کھانے کے بعد پی لیں گے۔ “ تھوڑی دیر کے بعد اس نے پوچھا،

”کھانا ہم کمرے میں ہی کھائیں گے یا پھر نیچے ڈائینگ ہال میں؟ “

یہ سارا ماحول مانی کے لئے اجنبی تھا اور وہ کچھ حد تک خوفزدہ بھی تھی، کہنے لگی

”نہیں نہیں، کھانا کمرے میں ہی۔ “

یہ سنتے ہی اس نے فون اٹھا کر روم سروس کا نمبر ملا لیا۔

وہ آرڈر لکھوا ہی رہا تھا کہ مانی کہنے لگی، ”اتنی جلدی! ابھی مجھے بھوک نہیں۔ “

اس نے فون پر بات جاری رکھی۔

”ٹھیک ہے ہمیں کھانا رات ساڑھے دس بجے بھیج دینا۔ “

ٹی وی آن کر کے وہ بیڈ پر لیٹ گیا۔

جب وہ مانی کو بیاہ کر لایا تھا اس وقت وہ دونوں ہی بے حد الہڑ تھے۔ اس نے دوستوں کی سنی سنائی باتوں سے پہلی رات کے بارے میں عجیب سی کہانی اپنے ذہن میں بنا رکھی تھی۔ وہ کئی دنوں سے سوچتا رہا تھا کہ پہلی رات کے ملاپ سے وہ بہت بڑی لذت سے آ شنا ہوگالیکن جو کچھ بھی اس نے سوچا تھا وہ اقل قلیل تھا۔ اس کے کمرے میں مسہری کے پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ مانی سولہویں سال کے میٹھے شباب کی عمر سے گزررہی تھی۔

چڑھتی جوانی، جب روم روم میں مہوے کے پھول کھلے ہوتے ہیں اورنم ہونٹوں کی چاشنی میں اس کے رس کی مہک۔ اس میں ملاپ کاخمار شامل ہو جائے تو نشہ مہوے کی شراب سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ جب اس نے مانی کو سینے سے لگا کر دبایا تو اس نے اپنے بازو اس کے گردحمائل کر دیے۔ اس کی بھری بھری چھا تیاں چھلکی پڑ رہی تھیں۔ اس نے سانولے جوبن کے ابھار کو چوم لیا۔ وہ انتہائی خوش ذائقہ تھیں۔ ایسا لطف جس میں جنگلی پھولوں پھلوں کا ذائقہ، صحرائی بیریوں کا ذائقہ، جانوروں اور پودوں کا ذائقہ، ہر پھل کا مزہ، ہر لذت کی کیفیت شامل تھی۔ اس نے کبھی کسی عورت کو چھوا نہیں تھا، نہ کبھی نسائی ہاتھوں کی مخروطی انگلیوں کے لمس کو محسوس کیا تھا۔ مانی کے ہاتھوں کی چبھن اس کی گردن پیٹھ اور پہلوؤں کو زخمی کر رہی تھی۔ اس کا خون سنسنانے لگا تھا۔ ریڑھ کی ہڈی میں متواتر ایک سہرن سی سر سے لے کر نیچے تک دوڑ رہی تھی۔

وہ بیڈ پر لیٹا خیالوں میں الجھا ہوا تھا اسے پتا ہی نہیں چلا کہ کب مانی نہا کر اس کے پاس آ کر لیٹ گئی۔ وہ خوابوں میں کھویا ہو ا تھا۔ مانی نے اپنا داہنا پاؤں اس کے پیر پر رکھ دیا۔ اس نے اسے خواب ہی سمجھا ایسا خواب جس میں کو ئی عورت کسی مرد کو ملاقات میں محبت کے اس کام کا بلاوا دیتی ہے جسے مقدس کتابوں نے ’سواری پر چڑھنا‘ لکھا ہے۔ اس کا انگ انگ پھڑک اٹھا۔ تمام عضلات کھچاؤ سے سخت ہو چکے تھے، خیزش اور استادگی تکلیف دہ حالت اختیار کر چکی تھی۔ اسے ہوش آیا تو اس نے مانی کوبھینچ کر پیار کرنا شروع کر دیا۔ مانی کا بھیگا بدن شعلے اگل رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کو آنے والے آتشیں لمحوں کی حدت نے سرخ کردیا تھا۔ سخت ہوتے، تپتپاتے رخسار بڑھکتی آتش کو ہوا دے رہے تھے۔ وہ گہرے نشے میں ڈوبتے جا رہے تھے۔

دروازے پر ہلکی سی گھنٹی بجی تو انہیں ہوش آیا۔ وہ دونوں ہڑ بڑا کر اٹھ گئے۔ بل دوبارہ بجی۔ وہ خوفزدہ ہو گئے۔ تیسر ی مرتبہ دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے ڈرتے ڈرتے پو چھا، ”کون؟ “

جواب ملا ”روم سروس“

اس نے اپنے آپ کو جلدی جلدی سنبھالا۔ دروازہ کھولا

ویٹر کھانا لایا تھا۔

اس کے چہرے کی رونق لوٹ آئی۔

کھانا رکھ کر وہ واپس گیا تو گل محمد چھلانگ لگا کر بیڈ پر لحاف میں چھپی مانی کے اوپر لیٹ گیا اور خوشی سے چلانے لگا

”میں بوڑھا نہیں ہوں۔

میں بوڑھا نہیں ہو سکتا۔

میرے حالات مجھے اس طرف دھکیل رہے ہیں۔ میں حالات کو بدل دوں گا۔ ”

اس نے اپنی جیب سے گولیاں نکال کے ڈسٹ بن میں پھینک دیں۔

اگلے دن اس نے دفتر میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی درخواست جمع کروادی تا کہ مناسب رقم مل جائے اور وہ اپنے گھر، اپنی کل کائنات میں اپنے اور مانی کے لئے اس کمرے جیسا ایک کمرہ بنا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *